فلک سے دور کہیں ہے صنم زمیں پہ نہیں

فلک سے دور کہیں ہے صنم زمیں پہ نہیں
میں اس سے ملتے ہوئے کم سے کم زمیں پہ نہیں


زمیں پہ بیٹھ کے لکھتا ہوں عرش کا قصہ
قدم زمیں پہ ہیں میرے قلم زمیں پہ نہیں


جو دیکھنا ہے ہمیں تو نظر اٹھا اپنی
زمیں سے دیکھ ہمارے قدم زمیں پہ نہیں


کسی کی چشم کرم ہے جو تھام رکھتی ہے
کسی کی نظر کرم ہے کہ ہم زمیں پہ نہیں


یہ جگنو چاند ستارے ہیں ہم رکاب مرے
میں کیا کروں کہ کوئی ہم قدم زمیں پہ نہیں


کٹے ہیں بازو تو تھاما ہے اپنے دانتوں سے
ہزار شکر گرا ہے علم زمیں پہ نہیں


میں رات خواب میں پہنچا تھا ان کے قدموں میں
خدا کا شکر کہ نکلا ہے دم زمیں پہ نہیں