تا حد نظر عرش پے پھیلا جو دھواں ہے

تا حد نظر عرش پے پھیلا جو دھواں ہے
فریاد ہے ماتم ہے بپا آہ و فغاں ہے


ڈرتا ہوں نہ ہو جائیں یہ پتھر مری آنکھیں
صد شکر ان آنکھوں میں ابھی سیل رواں ہے


رونے سے کلیجے کو ملا کرتی ہے ٹھنڈک
شبیر سا دنیا میں کوئی غم بھی کہاں ہے


میں ہوش میں آؤں بھی تو کس واسطے آؤں
مدہوشیٔ غم ہی تو مری جائے اماں ہے


یوں ہی نہیں محفوظ ہے یہ گردش افلاک
شبیر کا غم عالم خلقت کی اماں ہے


ماتم سے جو کھلتے ہیں بدن پر مرے چھالے
یہ زخم نہیں یہ تو طہارت کا نشاں ہے


اس طوق میں گردن کے عیاں ہے کوئی انکار
زنجیر سنبھالے ہوئے عالم کی اماں ہے


سر پہ جو میسر نہیں ہے چادر تطہیر
اس ظلم یزیدی پہ فلک نوحہ کناں ہے


ننھی سی کلی قید سلاسل اور یتیمی
اے قہر خداوند تو کہاں ہے تو کہاں ہے


یہ روز کا ماتم یہ عزا داری یہ رونا
صدقہ ہے سکینہ کا جو سینوں میں نہاں ہے


کاظمؔ یہی بخشش کا ہے ساماں یہی پونجی
سینے میں مرے غم کا جو سیلاب رواں ہے