وابستہ جب حیات سے رسوائیاں نہ تھیں
وابستہ جب حیات سے رسوائیاں نہ تھیں
غزلوں میں حسن فکر میں گہرائیاں نہ تھیں
یوں تو سبھی کے پاس تھی منصور کی سند
لیکن کسی زبان پہ سچائیاں نہ تھیں
دیکھا تو ہر طرف تھے غم دل کے رازدار
سوچا تو دور تک بھی شناسائیاں نہ تھیں
ہر دم سفر میں آپ کی یادوں کا ساتھ تھا
تنہائیوں کے بعد بھی تنہائیاں نہ تھیں
زاہدؔ عجیب لوگ تھے شہر ہوس کے لوگ
آنکھیں تو سب کے پاس تھیں بینائیاں نہ تھیں