ہر آدمی خلوص و وفا کی مثال ہے
ہر آدمی خلوص و وفا کی مثال ہے
اب کون بے وفا ہے سمجھنا محال ہے
خوش فہم پنچھیوں کو کہاں یہ خیال ہے
اس خوش نما عروج کا آخر زوال ہے
مغرور آفتاب کا انجام سوچ کر
غم سے حسین چاند کا چہرا نڈھال ہے
پھولوں کا درد بانٹنے والا کوئی نہیں
کانٹوں کے احتجاج کا سب کو ملال ہے
وہ کویلوں کی کوک سے کیا ہوگا مطمئن
جس دل کو جستجوئے نوائے بلال ہے