Khalid Zahid

خالد زاہد

خالد زاہد کے تمام مواد

6 غزل (Ghazal)

    رات باقی ہے چراغوں کو جلائے رکھئے

    رات باقی ہے چراغوں کو جلائے رکھئے یہ ستارے ابھی پلکوں پہ سجائے رکھئے عین ممکن ہے یہاں سے کوئی عیسیٰ گزرے امن کی لاش کو کاندھوں پہ اٹھائے رکھئے آگ برسائے گا راہوں میں غموں کا سورج اپنے ہم راہ دعاؤں کے بھی سائے رکھئے بات نکلے گی تو احباب کی غیبت ہوگی راز غم اپنا زمانے سے چھپائے ...

    مزید پڑھیے

    حسرت نہ کوئی دل میں تمنا نہ یاس ہے

    حسرت نہ کوئی دل میں تمنا نہ یاس ہے بے بات کیوں نہ جانے طبیعت اداس ہے ہر شخص مانگتا ہے خراج تعلقات جب سے ہمارے جسم پہ عمدہ لباس ہے کیسے کہوں کہ تجھ سے تعلق نہیں کوئی تو ہی نہیں ہے پاس ترا غم تو پاس ہے پہنچی ذرا سی ٹھیس کہ ٹوٹا بکھر گیا دل کیا ہے ایک کانچ کا نازک گلاس ہے اوجھل ہوا ...

    مزید پڑھیے

    وفا کا نام ہمیشہ زبان پر رکھا

    وفا کا نام ہمیشہ زبان پر رکھا یہ بار ہم نے فقط اپنی جان پر رکھا یقیں کا پھول نہ شاخ گمان پر رکھا کہ ہم نے خود کو سدا اک نشان پر رکھا یہ کون چپکے سے دھڑکا گیا ہے رات کا دل یہ پھول کس نے فصیل مکان پر رکھا ہمارے بعد ہماری غزل کو لوگوں نے حدیث عشق کی صورت زبان پر رکھا شکن پڑی نہ کبھی ...

    مزید پڑھیے

    ہر آدمی خلوص و وفا کی مثال ہے

    ہر آدمی خلوص و وفا کی مثال ہے اب کون بے وفا ہے سمجھنا محال ہے خوش فہم پنچھیوں کو کہاں یہ خیال ہے اس خوش نما عروج کا آخر زوال ہے مغرور آفتاب کا انجام سوچ کر غم سے حسین چاند کا چہرا نڈھال ہے پھولوں کا درد بانٹنے والا کوئی نہیں کانٹوں کے احتجاج کا سب کو ملال ہے وہ کویلوں کی کوک سے ...

    مزید پڑھیے

    حال دل کا عیاں نہیں ہوتا

    حال دل کا عیاں نہیں ہوتا ہم سے اب کچھ بیاں نہیں ہوتا بت کدہ ہو حرم کہ مے خانہ ذکر تیرا کہاں نہیں ہوتا اک نظر خود پہ ڈالیے صاحب آئنہ بد زباں نہیں ہوتا موسم گل بھی اس برس ہم پر جانے کیوں مہرباں نہیں ہوتا اف تصور کے سلسلے زاہدؔ ختم یہ کارواں نہیں ہوتا

    مزید پڑھیے

تمام