رات باقی ہے چراغوں کو جلائے رکھئے

رات باقی ہے چراغوں کو جلائے رکھئے
یہ ستارے ابھی پلکوں پہ سجائے رکھئے


عین ممکن ہے یہاں سے کوئی عیسیٰ گزرے
امن کی لاش کو کاندھوں پہ اٹھائے رکھئے


آگ برسائے گا راہوں میں غموں کا سورج
اپنے ہم راہ دعاؤں کے بھی سائے رکھئے


بات نکلے گی تو احباب کی غیبت ہوگی
راز غم اپنا زمانے سے چھپائے رکھئے


ان سے وابستہ ہیں گلشن کی بہاریں زاہدؔ
ان گلابوں کو خزاؤں سے بچائے رکھئے