فصیلِ جاں سے آگے

پاک فوج کو خراج تحسین  پیش کرنے کے لیے بے شما ر سکرین پلیز ترتیب دیے گئے، جن میں سے کچھ نے مقبولیت اور شہرت کی آخری حدوں  کو چھو لیا۔

اس تحریر میں ہم  حب الوطنی ، قربانی ، ایمان ، اتحاد اور نظم و ضبط کے جذبے پر مبنی چند منتخب ڈراموں کا ذکر کریں گے کہ کیسے انھوں   نے عوام کے  ذہنوں پر ان مِٹ نقوش چھوڑے۔

 

الفا   براوو   چارلی:

بلا شبہ  یہ نوے کی دہائی  کا ایک مقبول ترین ڈرامہ تھا جسے پی ٹی وی پر نشر کیا گیا۔ آج بھی کبھی ٹی وی یا سوشل میڈیا پر اس کی کوئی قسط یا صرف سین دیکھنے کو ملے تو انسان پورا ڈرامہ دیکھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ تین دوستوں کے گرد گھومتی اس ڈرامے کی کہانی پاکستانی افواج میں  زندگی بتانے والوں  کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کی کہانی بتاتی ہے کہ کیسے فوج کا ہر سپاہی، ہر افسر وطن کی خاطر جان قربان کرنے کیلیے تیار رہتا ہے۔ اس ڈرامے کو شعیب منصور نے پروڈیوس کیا۔ اس میں فیروز انعام نے بہ طور فیروز، کیپٹن محمد قاسم خان نے بہ طور گل شیر خان، کیپٹن عبداللہ محمود نے بطور کاشف کرمانی ، جبکہ  شہناز خواجہ نے بطور شہناز شیر کردار ادا کیا۔ اس ڈرامے میں بوسنیا میں سربین آرمی کی طرف سے مسلمانوں پر مظالم اور قتل عام سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔

 

سنہرے دن:

1991 میں اس ڈرامے کے ذریعے ایک نئی طرز کے Plays Screen کی بنیاد پڑی، جس میں افواج کے سپاہیوں ، کیڈٹس اور افسران کی زندگی کی عکس بندی کی جانے لگی۔ اسکو شعیب منصور نے لکھا اور پی ٹی وی نے نشر کیا۔ اس ڈرامے میں کاکول میں کیڈٹس کی تربیت کو تفصیل سے دکھایا گیا ہے اور اس کی کہانی ایک ایسے نوجوان کے گرد گھومتی ہے جس نے اپنی ماں کی خواہش کے برخلاف پاکستان آرمی جوائن کی۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے سینیئر اور جونیئر کیڈٹس کے درمیان نوک جھونک چلتی ہے۔ سلیم شیخ،کیپٹن قاسم خان، کرن اور عالیہ کاظمی  وغیرہ نے اس ڈرامے میں اپنے فن کے جوہر دکھاۓ۔

 

سپاہی مقبول حسین:

سپاہی مقبول حسین ہماری تاریخ افواج کا ایک ایسا کردار ہے جس نے چالیس سال ملک کی خاطر بھارتی جیلوں میں اذیتیں سہیں۔ ہمارے اس عظیم ثپوت کو خراج تحسین پیش کرتا اور بھارتی جیلوں میں ان پر مظالم کی داستانیں سناتا یہ ڈرامہ 2008 میں پی ٹی وی پر ان کی رہائی کے بعد نشر کیا گیا۔ حسن نیازی نے اس ڈرامے میں سپاہی مقبول حسین کا کردار نبھایا اور اسے آرمی کے تعلقات عامہ کے ادارے اور انٹر فلو کمیونیکیشن کے اشتراک سے پیش کیا گیا۔

 

شہپر:

1997 میں نشر ہونے والا یہ ڈرامہ ان چند ڈراموں میں سے ایک ہے جس میں پاک فضائیہ کے جانبازوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ یہ ڈرامہ ایک ایسے ہوا باز کی زندگی کی عکاسی کرتا ہے جو  دنیا کا ایک بہترین ہوا باز ہے اور اپنے گمشدہ باپ کی تلاش میں ہے۔ اس ہوا باز کا کردار فیصل رحمان نے ادا کیا اور اس ڈرامے میں اس کردار  کی موت ایسی تھی کہ جو آج تک ناظرین کے ذہنوں پر نقش کیے ہوئے ہے۔ یہ ڈرامہ مستنصر حسین تارڑ کی تحریر تھا اور اس کے ہدایت کار  فاروق قیصر ہیں۔

 

غازی شہید:

پاکستان کی بحری افواج کو خراج تحسین پیش کرتا یہ ڈرامہ ، حقیقت میں پاک افواج کی کامیاب مشن کے باوجود واپس نہ لوٹنے والی آبدوز کی کہانی کو عکس بند کرتا ہے۔ اس کی انتہائی عمدہ تحریر، عکس بندی اور اداکاری نے اسے آج تک شائقین کے ذہنوں میں محفوظ رکھا ہوا ہے۔ شبیر جان، عدنان جیلانی، ، ہمایوں سعید، غالب کمال، ، شہزاد رضا اور رضوان واسطی ایسے اداکار ہیں جنہوں نے اس ڈرامے میں جان ڈال دی۔ اس ڈرامے میں پہلی دفعہ پاکستان میں زیرِ آب سینز عکس بند ہوئے۔ اس ڈرامے کو تحریر اسد محمد خان نے کیا جبکہ کاظم پاشا  ہدایت کار تھے۔