تنگ کمرے گھر بھی چھوٹے کیا ہوا تازہ لگے

تنگ کمرے گھر بھی چھوٹے کیا ہوا تازہ لگے
ہم چلیں جتنا بھی جھک کر سر کو دروازہ لگے


کیا ہے طوفاں کیا ہے بارش آندھیاں ہوتی ہیں کیا
گھاس کی چھت میں رہو تو پھر یہ اندازہ لگے


جب کریں سڑکوں پہ مزدوری ابھاگن لڑکیاں
پیاری پیاری صورتوں پہ دھول کا غازہ لگے


دشت تنہائی میں کاشفؔ چھوڑ کر وہ کیا گئے
بکھرا بکھرا زندگی کا اپنی شیرازہ لگے