Mastan Kashif

مستان کاشف

  • 1944

مستان کاشف کے تمام مواد

4 غزل (Ghazal)

    یاد تازہ تیری کرنے کچھ وسیلے رہ گئے

    یاد تازہ تیری کرنے کچھ وسیلے رہ گئے گر گئی دیوار سے تصویر کیلے رہ گئے حلق تر بھی نہ ہوا تھا منہ سے ساغر چھن گیا ہم وہ پیاسے ہیں کہ جن کے ہونٹ گیلے رہ گئے پھول چن کر لے گیا سب کوئی اپنا مہرباں باغ میں امید کے کانٹے نکیلے رہ گئے عمر کی وادی میں دکھ کی ریت پھیلانے کے بعد درد کے صحرا ...

    مزید پڑھیے

    سامنے جب ہم نہیں ہوں گے تو کیا رہ جائے گا

    سامنے جب ہم نہیں ہوں گے تو کیا رہ جائے گا دیکھنے صورت تمہاری آئنہ رہ جائے گا اے کھلونے بیچنے والے ادھر سے مت گزر آج بھی بچہ مرا روتا ہوا رہ جائے گا کانچ کے ٹکڑے چنے اور ہاتھ زخمی کر لئے راستوں کو یاد اپنا حوصلہ رہ جائے گا دھوپ میں چل کر بہت ہم چھاؤں میں پہنچے تو کیا پاؤں میں ...

    مزید پڑھیے

    اک ایسے چارہ گر سے بھی رشتہ رہا مرا

    اک ایسے چارہ گر سے بھی رشتہ رہا مرا جتنا تھا زخم اتنا ہی گہرا رہا مرا میں کیا اکیلا چھانتا تیری گلی کی خاک وہ درد تھا جو ہاتھ بٹاتا رہا مرا وہ پیڑ کٹ کے ایک عمارت میں لگ گیا سائے میں جس کے کارواں ٹھہرا رہا مرا اب کے ہوائیں گھر سے مرے چھت بھی لے گئیں موسم نیا مذاق اڑاتا رہا ...

    مزید پڑھیے

    تنگ کمرے گھر بھی چھوٹے کیا ہوا تازہ لگے

    تنگ کمرے گھر بھی چھوٹے کیا ہوا تازہ لگے ہم چلیں جتنا بھی جھک کر سر کو دروازہ لگے کیا ہے طوفاں کیا ہے بارش آندھیاں ہوتی ہیں کیا گھاس کی چھت میں رہو تو پھر یہ اندازہ لگے جب کریں سڑکوں پہ مزدوری ابھاگن لڑکیاں پیاری پیاری صورتوں پہ دھول کا غازہ لگے دشت تنہائی میں کاشفؔ چھوڑ کر وہ ...

    مزید پڑھیے