سامنے جب ہم نہیں ہوں گے تو کیا رہ جائے گا
سامنے جب ہم نہیں ہوں گے تو کیا رہ جائے گا
دیکھنے صورت تمہاری آئنہ رہ جائے گا
اے کھلونے بیچنے والے ادھر سے مت گزر
آج بھی بچہ مرا روتا ہوا رہ جائے گا
کانچ کے ٹکڑے چنے اور ہاتھ زخمی کر لئے
راستوں کو یاد اپنا حوصلہ رہ جائے گا
دھوپ میں چل کر بہت ہم چھاؤں میں پہنچے تو کیا
پاؤں میں کوئی نہ کوئی آبلہ رہ جائے گا
آج بھی کاشفؔ اسے نظریں بچا کر دیکھنا
اب تعلق نہ سہی یہ سلسلہ رہ جائے گا