اک ایسے چارہ گر سے بھی رشتہ رہا مرا

اک ایسے چارہ گر سے بھی رشتہ رہا مرا
جتنا تھا زخم اتنا ہی گہرا رہا مرا


میں کیا اکیلا چھانتا تیری گلی کی خاک
وہ درد تھا جو ہاتھ بٹاتا رہا مرا


وہ پیڑ کٹ کے ایک عمارت میں لگ گیا
سائے میں جس کے کارواں ٹھہرا رہا مرا


اب کے ہوائیں گھر سے مرے چھت بھی لے گئیں
موسم نیا مذاق اڑاتا رہا مرا


کاشفؔ کل ایک لاش سر راہ دیکھ کر
مجھ سے ضمیر آنکھ چراتا رہا مرا