افسانہ

گھنٹی

صبح جاوی بی بی کے میاں فوت ہوگئے ـ۔ وہ بہت افسردہ ہیں۔ اس وجہ سے تو ہیں ہی کہ میاں فوت ہو گئے ، مگر ایک احساس غفلت بھی انہیں ستاتا ہے۔ سو ذرا اس سے زیادہ افسردہ ہیں جتنا ادھیڑ عمربیوہ عورتوں کویکایک بیوہ ہو جانے پر ہونا چاہیے۔ افسردہ تو ظفر بھی ہے، ان کا بیٹا ، مگر جاوید بی بی جتنا ...

مزید پڑھیے

ڈاکٹر والٹر

جب والٹر خاندان کا گھر بننا شروع ہوا تو ہمیں یہ مشغلہ ہاتھ آیا کہ ہم اکثر شام کو وہاں جا کے اس کے باہر منڈلاتے رہیں اور ریت اور بجری کی ڈھیریوں پر اچھل کود کرتے رہیں۔ میں، طلعت، عاقب، قمر اور مظہر۔تب ماڈل ٹاؤن میں زیادہ تر گھر وہی تھے جو ہندؤ وں نے ہندو پاک کی تقسیم سے قبل بنائے ...

مزید پڑھیے

میو ٹیشن

کوئی کچھ بھی کہے مگر سچ تو یہی تھا کہ اس میں علی بخش کا کچھ بھی قصور نہیں تھا وہ تو اور مردوں کی طرح اپنے باپ کے Y کر وموسوم اور ماں کے X کروموسوم سے ملکر ہی بناتھا ۔ خلیوں کی تقسیم بھی درست تھی اور نیوکلیس کے ملاپ بھی۔ جینز(Genes) کی تر تیب بھی سہی تھی اور الیلز(Alleles)کی ساخت بھی ۔ بس ...

مزید پڑھیے

ستیہ کے بکھرے ہوئے بال

رات کے سناٹے میں کاکروچ کی آوازیں سیٹیوں کی طرح بجنے لگیں۔ چارپائی کی رسیاں ستیہ کے پہلو بدلنے پر کسمسائیں اور پھر سے ایک گہری نیند میں کھو گئیں۔ ستیہ نے ایک اچٹتی ہوئی نظر اپنے بکھرے ہوئے بالوں پر ڈالی اور پلک جھپکتے میں صدیوں کا سفر طے ہونے لگا۔ اجنبی سائے چاروں جانب سے لپکنے ...

مزید پڑھیے

یہ کیسی بے وفائی ہے

’ا للہ مارے تمھارے ابا پرائی عورتوں کے بہت شوقین تھے ،جہاں کو ئی لال پیلی چھپن چُھری دیکھی ، چل پڑے پیچھے پیچھے، پھر نہ گھر کا پتہ نہ باہر کا، میں کہے دے رہی ہوں ذ را نظر دبا کر رکھیو ، یہ مرد ذا ت بڑی بے وفا ہوئے ہے ، شادی کے کچھ سال تو ہر کو ئی دُم دبا کہ چلے ہے پر جہاں دو چار لو ...

مزید پڑھیے

خوشبو کا سفر

پھرکچھ ہی دیر میں وہ لمحہ آگیا جب وقت فنا ہوکر محض ایک کسیلی یاد کی شکل میں تاریخ کے صفحوں میں محفوظ ہونے والا تھا، بس ایک مسلے ہوئے پھول کی خوشبو تھی جو زمین و آسمان کے درمیان پھنسے ہوئے اس بھاری بھرکم لمحے سے جان چھڑا کر بادلوں کے اوٹ آچھپی تھی اور اب ایک انجان سی خواہش لیے آخری ...

مزید پڑھیے

فرشتے کے آنسو

چھت کے کونے پہ مکڑی کے جال میں پھنسی ہوئی ایک مکھی اپنی زندگی کی آخری لڑائی لڑرہی تھی اور فرش پربیٹھا ہوا ایک فرشتہ جس کا کل وجود محض ایک قلم اور دوات تھا ،اسے تک رہا تھا۔میز کے کونے پہ پڑی دوا ت اور اس میں ڈوبا ہوا قلم۔۔۔ کمرے کے کسی مکیں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک ...

مزید پڑھیے

کوڑے، جو درد سے چیختے تھے

ہوا تھوڑی سی سر سر ائی اور پھر یک لخت اَن گنت ریزوں میں بٹتی چلی گئی ۔ بکھرے ہوئے ریزے لمحے بھر کے لیے انگاروں کی طرح د ہکنے لگے مگر پھر جلد ہی خود اپنے آپ میں جل کربھسم ہو نے لگے اور باقی بچنے لگا کچھ ملگجا سا دھواں،جو تماشہ دیکھنے والوں کی آنکھوں کو دھےمے دھیمے جلانے لگا مگر ...

مزید پڑھیے

شکوہ

کچھ نہیں ،بس یو نہی خیال آیا تھا اور برش کینوس پر چلتا چلا گیا ۔ رنگ پر رنگ چڑ ھنے لگا اور خالی خولی لکیریں زندگی کا مزا چکھنے لگی۔ کچھ ہی دیر میں بے جان کینوس جیسے زندگی کا روپ پا نے لگا۔ ایک لکیر جو ترچھی پڑی تو اجاڑ شاخوں پر پھول کھل گئے ، ایک لکیر جو آڑی پڑ ی تو انجان راستوں پر ...

مزید پڑھیے

رام محمد دہریہ

کچھ دیر تک تو سجدہ ریز رہ کردین محمد اپنے رب کو یونہی یاد کرتا رہا مگر پھر دو زانوں ہوکر جائے نماز پر بیٹھ گیا اور ایک گہرے کرب کے سا تھ اپنی بند آنکھوں میں اس کے کھوئے ہوئے عکس کو پھر سے ڈھونڈنے لگا مگر جب اسے کچھ بھی نظر نہیں آیا تو بے چین ہو کر آنکھیں کھول دی۔ ایک لمحے میں اسے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 198 سے 233