افسانہ

میری ہم رقص

یہ ایک عریاں شام تھی ۔ جس کے برہنہ سینے پہ وہ رقصاں تھی ۔ اور رقص بھی ایسا کہ نرت نرت پہ وقت ٹھہر کر اس کے نازواندازپہ نچھاورہونے لگا ۔ ڈھولک اور طبلے والےنئی سے نئی گت پیش کر رہے تھے۔ بھدے نقوش مگر سریلی آواز والی مغنیہ نے تان باندھی پریشاں ہوکے میری خاک ، آخر دل نہ بن جائے جو ...

مزید پڑھیے

آنکھ کی پتلی کا تماشا

’’مجھے اس سے دس گھنٹے محبت ہوئی تھی صرف دس گھنٹے۔۔۔ اس کے بعد میرا دل خالی ہو گیا۔‘‘ وہ خالی نظروں سے دور کہیں ان دیکھے منظروں میں کھوئی کہہ رہی تھی۔ میں نے کچھ حیرانی اور قدرے دلچسپی سے اسے دیکھا اور بنا ٹوکے اسے کہنے دیا جو نجانے کب سے وہ کہنا چاہ رہی تھی۔ ’’دل کی زمین ...

مزید پڑھیے

اماں ھُو مونکھے کاری کرے ماریندا

جانے کب اسے یہ لگنے لگا کہ کوئی اٹھتے ، بیٹھتے ، سوتے ، جاگتے اس کے ساتھ سائے کی طرح جڑا رہتا ہے۔ پانی بھرنے کے لئے مٹکا سر پہ رکھے وہ سہج سہج کر یوں زمیں پہ پاؤں دھرتی گویا انڈوں پہ چل رہی ہو۔ من کے بھیتر کیا چل رہا تھا وہ تو خود بھی بڑی بے خبر تھی۔ کنویں میں جھانکتی تو اپنا من اسے ...

مزید پڑھیے

ننگے ہاتھ

اس روزخاندان میں طوفان آگیا جب اس نے چچا کو اپنے ننگے ہاتھ سے چھو لیا۔ دالانوں اور بالکنیوں سے رنگین کڑھائیوں اور چمکتے ستاروں سے آراستہ دستانوں والے جانے کتنے ہاتھ برآمد ہوئے اور اسے گھسیٹتے ہوئے تاریکی میں گم ہوگئے ۔ ' خدایا! مجھے ہمت دے میں اپنی بھتیجی کو قتل کر سکوں ' اس نے ...

مزید پڑھیے

حویلی مہر داد کی ملکہ

وہ کسی یونانی دیومالائی داستان کا رنگ و آہنگ لیے کوئی جمالیاتی تجربہ تھی یا' ایفروڈائٹ ' کا پُر اسرار پیکر۔ ویسی ہی پُر فریب ، وہی جوشیلا شباب۔ اس کی مدہوش کر دینے والی اٹھان دیکھ کر سکھی سہیلیوں کا حسن اور جوانیاں ماند پڑ گئں اور بڑ ی بوڑھیاں تو اسے چلتی پھرتی قیامت سے تشبیہہ ...

مزید پڑھیے

توبہ سے ذرا پہلے

مجھے تم سے نفرت ہے ‘‘ ۔۔۔۔۔۔ ایک کردار نے دوسرے سے کہا اور اس نے یوں اسے مڑ کر دیکھا کہ وہ خود بھی ایک لمحے کو ساکت ہو گیا بالکل اس کی نظر کی طرح ٹھنڈا ، یخ، ساکت ۔ تو گویا محبت نہ ہوئی کوئی تھیٹر پلے ہو گیا ۔ چلیے جی یہ سین ختم۔۔۔ اُٹھائیے کرسی، میز اور دیوار ۔۔۔۔۔۔۔ اور اگلے سین ...

مزید پڑھیے

بی بانہ اور زوئی ڈارلنگ

بہت کلاسیکل پروفائل تھا بی بانہ کا۔۔۔ ڈ کنز اور روسٹیز کے پروفائل کی مانند۔ اٹھارویں صدی کی روسی اور ہسپانوی شاہزادیوں کی سی آن بان والی۔ یا پھر یوں جیسے چغتائی کی بنی تصویروں کے عشق بلب غزال رو نقوش اور ابھاروں میں جان پڑ گئی ہو۔ عمر خیام کی رباعیوں جتنی مے کش اور شاہ حسین کی ...

مزید پڑھیے

زمیں زادہ

وہ جس کے سر سے جنگلی کبوتروں کی خوشبو آتی تھی، اسے کافور کی بُو نے بد حواس کردیا۔ اس بُو کے ادراک نے اسے انکار کا حرف سکھایا اور وہ رات کے اندھیرے میں وہاں سے بھاگ نکلا۔ کتنی کھائیوں میں گرا، کتنی چوٹیں کھائیں۔ کیسے زخموں نے نڈھال کیا، یہ ایک خوفناک اوردرد و آشوب سے بھرے طویل سفر ...

مزید پڑھیے

عشق بالواسطہ

لارڈ کرزن ہندستان کے سابق وائسرائے اور انگلستان کے مشہور سیاست داں کی بابت مشہور تھا کہ وہ ’’میں‘‘ کااستعمال بہت کرتے تھے۔ قیصر ولیم شہنشاہ جرمنی میں بھی لوگ یہی عیب بتاتے تھے۔ نفسیات کے ماہرین کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ اپنی انانیت کی وجہ سے وہ ٹھوکریں کھائیں گے کہ ان کے مرنے کے ...

مزید پڑھیے

گناہ کا خوف

عبدالمغنی صاحب نے مختاری کے پیشے میں وہ نام پیدا کیا تھا کہ ڈپلوما والے وکیل بیرسٹر کیا کریں گے۔ بڑے بڑے زمیندار، تعلقدار، مہاجن خوشامدیں کرتے تھے۔ کمشنری بھر میں کون ابتدائی مقدمہ ایسا ہوتا تھا جس میں عبدالمغنی صاحب دو فریق میں سے ایک کے مددگار نہ ہوں۔ ان کی ترتیب دی ہوئی مسل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 190 سے 233