میری ہم رقص
یہ ایک عریاں شام تھی ۔ جس کے برہنہ سینے پہ وہ رقصاں تھی ۔ اور رقص بھی ایسا کہ نرت نرت پہ وقت ٹھہر کر اس کے نازواندازپہ نچھاورہونے لگا ۔ ڈھولک اور طبلے والےنئی سے نئی گت پیش کر رہے تھے۔ بھدے نقوش مگر سریلی آواز والی مغنیہ نے تان باندھی پریشاں ہوکے میری خاک ، آخر دل نہ بن جائے جو ...