افسانہ

ساکت وقت

دروغ نگر کی مشرقی فصیل کے باہر بیٹھا بوڑھا خاروت اب بھی جاگ رہا تھا۔ یہ دور پچھلے ادوار سے زیادہ تاریک تھا اوراب اپنے اختتام کا منتظر کا تھا۔ یہ وہی بوڑھا خاروت تھا جسے نابیناؤں کی بستی میں بسارت عطا ہوئی۔ ہر تاریک دور کے اختتام پر یہ بوڑھا نقارہ بجاتا اور اعلان کرتا ’’شفق ...

مزید پڑھیے

مچھیرا

میں جب ماں کے پیٹ میں تھا، پانی میں تھا۔ میرا بچپن اپنے باپ کیساتھ پانی پر گذرا۔ اور آج، میں اپنی آسودگی بھی پانی ہی میں تلاش کررہا ہوں۔۔۔۔ میں اپنا بچپن ماں کی ہڈیوں سے کشید کرتا رہا، یہاں تک کہ اُس کے جسم میں موجود ساری ہڈیاں بھربھری ہوگئیں اور پھر ایک دن ایسا بھی آیا کہ جب ...

مزید پڑھیے

نوحہ گر

ایک بوسیدہ مکان میں ہم چار ’’جاندار ‘‘ اکھٹے رہا کرتے تھے۔ اَبّا، اَمّاں، میں اور ایک سفید بکری۔ میں چارپائی سے بندھاہر روز۔۔۔ بکری کو مِمیاتے، ماں کو بڑبڑاتے اور اَبّا کے ماتھے پر موجود لکیروں کو سکڑتے پھیلتے دیکھا کرتا۔ میری ماں زیرلب کیا بڑبڑایا کرتی تھی۔۔۔؟ کبھی سن ...

مزید پڑھیے

چتکبرے!

رات کے چاک پر انگڑائی لیتی ملگجی صبح، اپنے بدن سے سیاہ پوشاک جھٹکنے لگی۔ روشنی نمودار ہونے میں گرچہ تھوڑا وقت اور باقی تھا لیکن کنکریٹ اور لوہے کی چمنیوں پر بنے ہوئے گھونسلوں میں بے چینی پھیلنے لگی۔ گذشتہ اُڑان کی تھکن ابھی اُن کے پروں میں باقی تھی ۔ وہ لمبی نیند لینا چاہتے تھے ...

مزید پڑھیے

دفتر میں ایک دن

فدوی کی گذارش ہے کہ بوجوہ رمضان المبارک از بتاریخ رمضان بمطابق 12 فروری تا 27 رمضان المبارک قمری ہجری بمطابق تاریخ فلاں عیسوی فدوی کو رخصت مکسوبہ عطا فرما دی جائے۔ احقر العباد فلاں اس مضمون کا ایک نامہ عورت کی میز پر پڑا تھا۔ اس نے حسب عادت پہلے تو اس میں جو کچھ لکھا تھا، اس کو ...

مزید پڑھیے

طیراً ابابیل

نئے ہفتے کا پہلا دن سب سے مشکل تھا۔ دفتر میں چھ افراد پر مشتمل ایک پوری ٹیم اس کی منتظر تھی۔ نئی ڈکشنری کا پراجیکٹ شروع ہو چکا تھا۔ افسر خاتون سے فرمائش کی گئی تھی کہ پہلے وہ نئی ڈکشنری کے ”اصولیات تالیف“ بتائے۔ ”اصولیات تالیف، یا خدا!“ اس نے دل ہی دل میں سر پیٹ کر کہا تھا۔ ...

مزید پڑھیے

فعل متعدی

ٹھیک دس بج کر تیرہ منٹ پر میں نے یہ آواز سنی۔ ”تو اے عورت! اب کیا ہونا چاہیے اور اس کے لیے کیا کرنا لازم ہے۔“ جیسا کہ آپ نے پہلے ہی بخوبی اندازہ لگا لیا کہ یہ آواز کسی اور کی نہیں بلکہ اسی شے کی تھی جسے راجندر سنگھ بیدی نے اپنے ایک افسانے میں انتر آتما کا نام دیا۔ حیرت انگیز طور ...

مزید پڑھیے

سرخ بالوں والی لڑکی

وہ ایسی ہی تھی ۔ نیلی آنکھوں اور سرخ بالوں والی موہنی سی گڑیا ۔ جو جانے کیسے رحیم داد جیسے آٹھ جماعت پاس فیکٹری کے عام سے سٹور کیپر اور ایک بہت عام سی ہی رضیہ کے آنگن میں اتر آئی ۔ وہ دونوں قدرت کا کرشمہ دیکھتے تھے اور حیرانی سے اسے تکتے رہتے تھے ۔۔۔ قدرت کے کام ایک مخصوص اور مربوط ...

مزید پڑھیے

بےغیرت

صبح کی سپیدی مشرق سے آہستہ آہستہ نمودار ہو رہی تھی۔ پرندوں کے چہچنے کی آوازیں خاموشی کو چاک کرتی سماعت کے پردوں سے ٹکرا رہی تھیں۔۔۔ ساجدہ نے کسلمندی سے ایک پھر پور انگڑائی لی ۔۔اور نیند سے مخمور آنکھیں زبردستی کھول کر اٹھ بیٹھی۔ جوانی کی نیند بھی غصب کی ہوتی ہے۔۔آنکھوں کو ملتی ...

مزید پڑھیے

دل کے داغ کہاں۔۔۔ نشستِ درد کہاں

آپ نے کہا تھا نا کہ آپ کی یہ مریضہ یعنی میری ماں سال ڈیڑھ سال تک زندہ رہ جائے گی۔ مگر وہ اتنی جلد ی کیسے۔۔۔؟ ڈاکٹر۔۔۔ وہ میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ مگر ایسے کوئی جواب دینے سے پہلے میرے بھی ذہن میں سوال اٹھارہا تھا کہ کیسے وہ کیسے اتنی جلدی ہمت ہار گئی۔۔۔ یہ بات اگرچہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 189 سے 233