افسانہ

اَمتل

تالیوں کی گونج نے سمینار کے اختتام کا اعلان کیا تو وہ اپنا بیگ اٹھا کر سست روی سے قدم بڑھاتی ہوئی ھال کے خارجی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ وہ دروازے سے چند قدم دوری پر تھی کہ کسی نے اسے پیچھے سے پکارا۔ وہ ٹِھٹھک کر رُکی اور مُڑ کر دیکھا تو پروفیسر فصیح چوہدری کچھ کہتے ہوئے تیزی کے ساتھ ...

مزید پڑھیے

وجود سے وجود تک

اللہ نے اسے پانچ برس بعد اس خوشخبری سے نوازہ تھا ۔ جس کے لیے وہ پل پل ترسی تھی۔ اب اسکے بھی اولاد کی مہک آئے گی،اس کا سونا پن بھی اب دور ہو جائے گا۔ وہ عاشر کو اپنی رپورٹ دکھاتے ہوئے بولی، ۔تم اب خوش ہو نا،اب تو تم دوسری شادی نہیں کرو گے بولو وہ مسکراتے ہوئے، کچھ یوں گویا ہوا ہاں ...

مزید پڑھیے

رقص مرگ

ایک عجیب سی بے بسی کا امڈتا ہوا سمندر اس کی آنکھوں سے عیاں تھا۔ چہرے پر انمٹ صدمات کی دھول عمیق اداسیوں کی مہر ثبت کر چکی تھی۔ اب تو شاید، اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں بھی بوڑھی ہو چکی تھیں.اسے کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا۔ کسی کھوئی ہوئی بے نشاں منزل کے لیے بھٹکتے ہوئے شکستہ پا دل ...

مزید پڑھیے

پریوں کی باتیں

میں اپنے دوست کے پاس بیٹھا تھا۔ اس وقت میرے دماغ میں سقراط کا ایک خیال چکّر لگا رہا تھا۔۔۔ قدرت نے ہمیں دو کان دیے ہیں اور دو آنکھیں مگر زبان صرف ایک تاکہ ہم بہت زیادہ سنیں اور دیکھیں اور بولیں کم، بہت کم! میں نے کہا، ’’آج کوئی افسانہ سناؤ، دوست!‘‘ وہ بولا، تو آو، آج میں تمھیں ...

مزید پڑھیے

نئے دھان سے پہلے

یہ کنگلوں کی قطار تھی۔ ہو بہ ہو کمان کی طرح۔ ایک ساتھ کہیں سات آدمی کھڑے تھے تو کہیں دس، عورتیں اور بچے اور مرد، جوان اور بوڑھے۔۔۔ سبھی ایک ترازو میں تل رہے تھے۔ سبھی بھوکے تھے۔ ننھے بچے سوکھی چھاتیوں کو چچور رہے تھے۔ بڑی عمر کے بچے قطار سے نکل کر لنگر کے دروازے پر پہنچنے کے لیے ...

مزید پڑھیے

قبروں کے بیچوں بیچ

دس لاکھ بھوک موتیں، پندرہ لاکھ، انیس لاکھ اور اس ہفتے کل جمع چوبیس لاکھ۔ اور ابھی تک اس بھیانک دُربھکشا کا زور بڑھ رہا تھا۔۔۔ گیتا کے دماغ میں اس وقت ایک لوری کے سُوَر گھوم رہے تھے، چھیلے گھومالو پاڑا جڑا لو، ورگی ایلو دیشے، بلبلے تے دھان کھے چھے خزانہ دیب کشو؟ یعنی بچہ سو گیا، ...

مزید پڑھیے

جلوس

لوک ماتا کو شکایت ہے کہ انتر کے ساتھ رہتے اس کی زندگی برباد ہوگئی۔ انتر جب بھی اُسے ’’جوہی کی کلی‘‘ کہہ کر پکارتا ہے، لوک ماتا کا سندیہہ بڑھ جاتا ہے۔ ’’جنتر منتر کا کال کلنتر۔۔۔‘‘ بچّے گاتے ہیں۔ جلوس بارہ دری سے چلا اور شام کو چوبُرجی میں بکھر گیا۔ راستے بھر سجے ہوئے ...

مزید پڑھیے

جنم بھومی

گاڑی ہربنس پورہ کے اسٹیشن پر کھڑی تھی۔ اسے یہاں رکے ہوئے پچاس گھنٹے سے اوپر ہوچکے تھے۔ پانی کا بھاؤ پانچ روپے گلاس سے یکدم پچاس روپے گلاس تک چڑھ گیا تھا۔ پچاس روپے گلاس کے حساب سے پانی خریدتے ہوئے لوگوں کو نہایت لجاجت سے بات کرنی پڑتی تھی۔ وہ ڈرتے تھے کہ کہیں بھاؤ اور نہ چڑھ ...

مزید پڑھیے

فاختہ کی چونچ میں دانہ

یوں مجھے کالی ناتھ سے پوری ہمدردی ہے۔ اس کی سُوجھ بُوجھ کا میں قائل ہوں۔ اس کی ذہانت کا سکّہ ماننے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ باہر والوں میں جو افسانہ نگار کالی ناتھ کو پسند ہیں وہ مجھے بھی کچھ کم پسند نہیں۔ اسی لیے تو مجھے کبھی اس کی بات کاٹنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ شروع ...

مزید پڑھیے

اور بنسری بجتی رہی

برگد سے کتنی ہی ڈاڑھیاں لٹک رہی تھیں۔۔۔ بل کھاتے بھیانک سانپوں کی طرح۔ گھنے، سایہ دار درخت نے اس سنسان جگہ کو سڑک سے چھپا رکھا تھا کہیں کہیں گھاس اُگ رہی تھی۔ جیسے جوانی سے ذرا پہلے کسی نوجوان کی مسیں بھیگ رہی ہوں۔ ایک طرف ہموار ڈھلوان چلی گئی تھی اور دوسری طرف ایک ٹیکرا تھا۔ جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 186 سے 233