افسانہ

کمبل

کنو بابا بینک آف انڈیا کے چھجے کے نیچے دو فٹ اونچے چبوترے پر بائیں کنارے اسی جگہ بیٹھا تھا جوا س نے ایک عرصے سے اپنے لیے مخصوص کر رکھی تھی۔ چھجا عمارت کی چھت کا ایک حصہ تھا جو سامنے کی دیوار سے تقریباً پانچ فٹ آگے کو نکلا ہوا تھا اور بینک میں داخل ہونے والوں کو دھوپ اور بارش سے ...

مزید پڑھیے

وشال ارجانی کی محبوبہ

سبز رنگ کے بغیر آستینوں اور گہرے گلے (Low-Cut) بلاؤز اور کریم کلر کے نصف پنڈیوں تک اونچے اسکرٹ میں سنہرے سے باریک گھونگھرالے بالوں والی وہ بے تحاشا خوبصورت لڑکی بے حد طیش میں اپنے کیبن سے نکلی اور ماربل کے دودھ جیسے سفید فرش پر ہائی ہیل کی جارحانہ کھٹ کھٹ کے ساتھ مشتعل قدموں سے چلتی ...

مزید پڑھیے

ایک تھی دردانہ

رواج کے مطابق دردانہ نے ایک ایک کے گلے لگ کر رونا شروع کیا۔ دولہا بھائی سے لپٹ کر تو کچھ اس طرح روئی کہ دیکھنے والوں میں سے کچھ کے آنسو نکل پڑے اور کچھ کی آنکھیں۔ کچھ دولہا بھائی کی قسمت پر بے اختیارانہ رشک کرنے لگے۔ بھائی نے کچھ دیر تو انتظار کیا، پھر آگے بڑھ کر اس کے بازو پر ہاتھ ...

مزید پڑھیے

یہ بچے

ایک زمانہ تھا جب میرا خیال تھا کہ دنیا میں بچے کے سب سے بڑے دشمن اس کے ماں باپ اور بھائی بند ہوتے ہیں۔ وہ اس کے دل کی بات سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ بیجا زبردستیوں سے اس کی ابھرتی ہوئی طاقتوں کو کچل دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بڑے ہوجاتے ہیں تو بجائے مکمل انسان بننے کے چور، ڈاکو اور ...

مزید پڑھیے

لحاف

جب میں جاڑوں میں لحاف اوڑھتی ہوں، تو پاس کی دیواروں پر اس کی پرچھائیں ہاتھی کی طرح جھومتی ہوئی معلوم ہوتی ہے اور ایک دم سے میرا دماغ بیتی ہوئی دنیا کے پردوں میں دوڑنے بھاگنے لگتا ہے۔ نہ جانے کیا کچھ یاد آنے لگتا ہے۔ معاف کیجیے گا، میں آپ کو خود اپنے لحاف کا رومان انگیز ذکر بتانے ...

مزید پڑھیے

جڑیں

سب کے چہرے فق تھے گھر میں کھانا بھی نہ پکا تھا۔ آج چھٹا روز تھا۔ بچے اسکول چھوڑے گھروں میں بیٹھے اپنی اور سارے گھر والوں کی زندگی وبال کیے دے رہے تھے۔ وہی مارکٹائی، دھول دھپا، وہی اودھم اور قلابازیاں جیسے ۱۵اگست آیا ہی نہ ہو۔ کمبختوں کو یہ بھی خیال نہیں کہ انگریز چلے گیے اور ...

مزید پڑھیے

کنواری

اس کی سانس پھولی ہوئی تھی۔ لفٹ خراب ہونے کی وجہ سے وہ اتنی بہت سی سیڑھیاں ایک ہی سانس میں چڑھ آئی تھی۔ آتے ہی وہ بےسدھ پلنگ پر گرپڑی اور ہاتھ کے اشارے سے مجھے خاموش رہنے کو کہا۔ میں خود خاموش رہنےکے موڈ میں تھی۔ مگر اس کی حالتِ بد دیکھ کر مجھے پریشان ہونا پڑا۔ اس کا رنگ بے حد میلا ...

مزید پڑھیے

جنازے

میرا سر گھوم رہا تھا۔۔۔ جی چاہتا تھا کہ کاش ہٹلر آ جائے اور اپنے آتشیں لوگوں سے اس نامراد زمین کا کلیجہ پھاڑدے۔ جس میں ناپاک انسان کی ہستی بھسم ہوجائے، ساری دنیا جیسے مجھے ہی چھیڑنے پر تل گئی ہے، میں جو پودا لگادوں مجال ہے کہ اسے مرغیوں کے بےدرد پنجے کریدنے سے چھوڑدیں۔ میں جو ...

مزید پڑھیے

ننھی سی جان

’’تو آپا پھر اب کیا ہوگا؟‘‘ ’’اللہ جانےکیا ہوگا۔ مجھے تو صبح سے ڈر لگ رہا ہے۔‘‘، نزہت نے کنگھی میں سے الجھے ہوئے بال نکال کر انگلی پر لپیٹنا شروع کیے۔ ذہنی انتشار سےاس کے ہاتھ کمزور ہوکر لرز رہے تھے اور بالوں کا گچھا پھسل جاتا تھا۔ ’’ابا سنیں گے تو بس اندھیر ہو جائے گا۔ ...

مزید پڑھیے

بڑی شرم کی بات

رات کے سناٹے میں فلیٹ کی گھنٹی زخمی بلاؤ کی طرح غرا رہی تھی۔ لڑکیاں آخری شو دیکھ کر کبھی کی اپنے کمروں میں بند سو رہی تھیں۔ آیا چھٹی پر گئی ہوئی تھی اور گھنٹی پر کسی کی انگلی بے رحمی سے جمی ہوئی تھی۔ میں نے لشتم پشتم جا کر دروازہ کھولا۔ ڈھونڈی چھوکرے کا ہاتھ تھامے دوسرے ہاتھ سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 159 سے 233