افسانہ

بات پھولوں کی

’’دیا سلائی جب چراغ روشن کر دیتی ہے تو اسے پھینک دیتے ہیں۔‘‘ ’’پھول محل‘‘ کی گدی پر بیٹھے سوگندھی لال مجھے اپنے تجربے کی باتیں سکھاتے رہتے ہیں۔ ’’اپنی باتوں میں پھولوں کے ہاروں میں اتنے چٹکلے لطیفے ٹانکتے جاؤ کہ سا لا گاہک اس میں الجھتا ہی چلا جائے۔ اور پھر ہار کے منھ ...

مزید پڑھیے

موم کی مریم

آج بھی اندھیرے میں لیٹا میں خیالی ہیولوں سے کھیل رہا تھا۔ اور جب بھی اندھیرا چھا جاتا ہے۔ تم نہ جانے کہاں سے نکل آتی ہو۔ جیسے تم نے تاریکی کی کھوکھ سے ہی جنم لیا ہو۔ اور مجبورا مجھے جلے ہوئے سگریٹ کی راکھ کی طرح تمہیں بھی زمین پر جھٹک دینا پڑتا ہے۔ میں نے کبھی تمہارے سامنے ہاتھ ...

مزید پڑھیے

پتھر کا شہزادہ

آئیے۔۔۔ آئیے میڈم جی۔۔۔ چھوٹے بابا! آپ نے پورے شہر کی سیر کر لی! مگر اس میوزیم کو دیکھے بغیر کینڈا واپس مت جائیے۔ شام ہو گئی ہے؟ اجی میڈم! شام تو روز ہی ہوا کرتی ہے۔ روز مشرق بڑی بھاگ دوڑ کر کے سورج کو دنیا کی طرف گھسیٹ کر لاتا ہے۔ اور روز مغرب اسے اندھیرے میں ڈبو دیتا ہے۔ ...

مزید پڑھیے

اسکوٹر والا

اکیلے گھر میں ہر طرف عابد کوپراسرار سرگوشیاں سنائی دیتیں۔ منے کو کاندھے سے لگائے ٹہلتے میں جانے کیا سوچاکرتی تھی۔ کبھی اس کا جی چاہتا کہ وہ سامنے دیوار پر بیٹھی ہوئی چڑیا بن جائے اور دیکھے کہ دوسرے گھر میں وائلن پر کون گیت گارہا ہے۔ کبھی اسے خیال آتا کہ وہ منے کی طرح ایک سال کی ...

مزید پڑھیے

اجنبی چہرے

تھوڑی دیر بعد وہ سب چہرے بھول جاتی تھی۔ بیٹھے بیٹھے اچانک نمو کو یاد آتا ہے کہ وہ اپنے سب بہن بھائیوں کے چہروں کی تفصیل بھول چکی ہے۔ اب وہ کہیں مل جائیں تو جانے وہ پہچان سکے گی یا نہیں؟ کوئی اس سے پوچھ بیٹھے کہ بڑے بھائی گورے ہیں یاکالے؟ تو وہ کیا جواب دے گی۔۔۔؟ اسی لیے تو میکے ...

مزید پڑھیے

ایک دن کیا ہوا۔۔۔

ہوا بہت تیز چل رہی تھی۔ گرم سرخ لوکے بگولے سارے آسمان پرصبح ہی سے بکھررہے تھے۔ ایسا ہی ایک طوفان آج نوری کے دل سے بھی امڈ رہا تھا۔ یہ زمین، چاند اور سورج اللہ میاں نے ایک بار بناکر آسمان پر چپکادیے ہیں۔ اب دنیا والے ہیں کہ نوری کی طرح انہیں اپنے ساتھ ہنستا ہوا بھی دیکھتے ہیں ...

مزید پڑھیے

یہ شہر بکاؤ ہے

یہ شہر بکاؤ ہے۔۔۔ آئیے۔۔۔آئیے۔۔۔ جلدی جلدی بولی لگائیے۔۔۔ پھرنہ کہنا کہ ہمیں خبر نہ ہوئی۔۔۔ ہم اپنا شہر بیچ رہے ہیں۔۔۔ ہمارے شہر کو خریدنے والوں کی بھیڑ لگی ہے۔۔۔ آگے بڑھیے۔۔۔دوسرے آنے والوں کو راستہ دیجیے۔۔۔ یہاں آپ کو ہرچیز مل جائے گی جس کی آپ کو ضرورت ہے۔۔۔ اجی ...

مزید پڑھیے

اے دل اے دل

یہ عورت ذات بھی عجیب گورکھ دھندا ہے۔ مل جائے تو نظر نہیں آتی اور نہ ملے تو اس کے سوا کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ مجھ سے کوئی پوچھے کہ میں نے زندگی بھر کیا کیا ہے تو میرا جواب یہی ہوگا کہ میں نے صرف عورت کی خوبصورتی کا زہر پیا ہے۔ یہ زہر میری رگ رگ میں دوڑ رہا ہے۔ یہ میری ساری زندگی میں ...

مزید پڑھیے

گڑیا کا گھر

بادل دھیرے دھیرے بڑھتے آ رہے تھے۔ دل میں گھس آنے والے یقین کی طرح شام کی بھیگی بھیگی ہوائیں بشارت دے رہی تھیں کہ اب مینہ برسنے والا ہے۔ دہلی میں جون کی اس تپتی ہوئی شام کو کوئی یقین نہیں کر سکتا کہ اس وقت عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس میں ایسے کالے بادل چھائے ہوں گے اور فضا میں ایسی ...

مزید پڑھیے

ایک دوست کی ضرورت ہے

۶۵ سال کے ایک ریٹائرڈ شخص کو ایک دوست کی ضرورت ہے۔ اس کی فیملی ہے۔ علم، ادب، آرٹ اور سنگیت کا شوقین ہے۔ ’’دوست کی کسی بھی کمزوری اور کوتاہی کونظرانداز کرکے ہاتھ ملانا ہے۔‘‘ نیوزپیپر میں اشتہار پڑھ کر ڈاکٹر نائیک ہنسنے لگے، ’’۶۵برس تک اسے کوئی دوست نہیں ملا؟‘‘ ’’جانے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 157 سے 233