افسانہ

جنم جہنم-۳

اور وہ کہ جس کے چہرے پر تھوک کی ایک اور تہہ جم گئی تھی۔ اُس کی سماعتوں سے تھوک کر چلی جانے والی کے قہقہوں کی گونج اَبھی تک ٹکرا رہی تھی وہ اُٹھا۔ بڑ بڑایا۔ ’’جہنم۔ لعنت‘‘ پھر اَپنے وجود پر نظر ڈالی اور لڑکھڑا کر گر گیا۔ اب نگاہ اوپر کی تو نظر میں کوئی بھی نہ تھا‘ جو سما رہا ہو وہ ...

مزید پڑھیے

رکی ہوئی زندگی

وہ کھانے پر ٹوٹ پڑا، ندیدہ ہو کر۔ عاطف اسے دِیکھ رہا تھا، ہک دَک۔ کراہت کاگولا پیٹ کے وسط سے اُچھل اُچھل کر اس کے حلقوم میں گھونسے مار رہا تھا، یوں کہ اسے ہر نئے وار سے خود کو بچانے کے لیے دِھیان اِدھر اُدھر بہکانا اور بہلانا پڑتا۔ وہ بھوکا تھا۔ شاید بہت ہی بھوکا، کہ سالن کی ...

مزید پڑھیے

سورگ میں سور

جب سے تھوتھنیوں والے آئے ہیں‘ دکھ موت کی اَذِیّت سے بھی شدید اور سفاک ہو گئے ہیں۔ تاہم ایک زمانہ تھا ۔۔۔ اور وہ زمانہ بھی کیا خوب تھا کہ ہم دُکھ کے شدید تجربے سے زِندگی کی لذّت کشید کیا کرتے ۔ اس لذّت کا لپکا اور چسکا ایسا تھا کہ خالی بکھیوں کے بھاڑ میں بھوک کے بھڑ بھونجے چھولے تڑ ...

مزید پڑھیے

جنم جہنم-۱

’’یہ جو نظر ہے نا! منظر چاہتی ہے۔ اور یہ جو منظر ہے نا! اَپنے وجود کے اِعتبار کے لیے ناظر چاہتا ہے۔ دِیکھنے اور دِیکھے جانے کی یہ جو اشتہا ہے نا! یہ فاصلوں کو پاٹتی ہے۔ اور فاصلوں کا وجود جب معدوم ہو جاتا ہے نا! تو جہنم وجود میں آتا ہے۔ اور اس جہنم میں اِیذا کوئی اور نہیں دیتا‘ ...

مزید پڑھیے

سجدۂ سہو

ایکا ایکی اُسے ایسے لگا جیسے کوئی تیز خنجر اُس کی کھوپڑی کی چھت میں جا دھنسا ہو۔ اس کاپورا بدن کانپ اُٹھا۔ جسم کے ایک ایک مسام سے پسینے کے قطرے لپک کر باہر آگئے۔ اُس نے سر پر دوہتڑ مار کر لَاحَول وَلا قُوۃ کہا۔ عین اُس لمحے اُس کے ذِہن کی سکرین پر اپنے ایک سالہ سعیدے اور اس کی ماں ...

مزید پڑھیے

اللہ خیر کرے

اُسے دفتر پہنچے یہی کوئی پندرہ بیس منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ ٹیلیفون کی گھنٹی بج اُٹھی۔ محسن کو ایک عرصے کے بعدیاد آیا‘ دِل کی دھڑکن کبھی کبھی سینے سے باہر بھی اُبل پڑتی ہے۔۔۔ دَھک ‘دَھک‘ دَھک۔۔۔ یوں‘ جیسے کوئی زور زور سے میز پر مکے برسا رہا ہو۔ رات بھر کی بے آرامی آنکھوں میں چبھ ...

مزید پڑھیے

اپنا سورج، اپنا چاند

مسرور جہاں قوس قزح کے سارے رنگ اس کی تنہا ذات میں سمٹ آئے تھے۔ اگر حسن کی کوئی تعریف ہو سکتی ہے تو اسے دیکھ کر یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ حسن اسے کہتے ہیں۔ اور جب میرا جیسا مڈل ایج کا مرد کسی لڑکی کے حسن اور دلکشی کی یوں دل کھول کر تعریف کرے تو آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ وہ کیسی ہو ...

مزید پڑھیے

ٹکڑوں میں بٹی عورت

تہمینہ کمرے میں اکیلی تھی۔ سناٹا اندر ہی نہیں باہر بھی تھا۔ نہ کوئی آہٹ، نہ کوئی آواز۔ بس اسی کے کپڑوں کی ہلکی سی سرسراہٹ تھی۔ یا اس کے اپنے دل کی آواز۔ دل کی دھڑکنوں کا شور بتدریج بڑھتا جا رہا تھا۔ اس نے گھبرا کر چاروں طرف دیکھا۔ یہ اس کا حجلۂ عروسی تھا۔ کیا حجلۂ عروسی ایسا ہوتا ...

مزید پڑھیے

واپسی

دن بھر آفس میں دماغ کھپانے کے بعد بس کا انتظار کرنا سزا سے کم نہیں تھا۔ لیکن یہ سزا اسے روز بھگتنا پڑتی تھی۔ ٹیکسی کے اخراجات افورڈ کرنا اس کی حیثیت سے باہر تھا۔ کیونکہ گھر بہت دور تھا۔ دیر سویر ہونے کی صورت میں اماں بہت گھبراتی تھیں ، ان کی خاطر وہ جلد سے جلد گھر پہنچنا چاہتی ...

مزید پڑھیے

خواب در خواب سفر

آگ اور خون کا بحر بیکراں پار کر کے اس کے قدموں نے نرم نرم دھرتی کو چھوا تو اسے اپنے دل میں ٹھنڈک سی اترتی محسوس ہوئی اور وہ دیر تک منہ اوندھائے وہیں بے حس و حرکت پڑا رہا۔ اپنی مٹی کی سوندھی خوشبو نے اس کی گدلائی ہوئی آنکھوں کو نم کر دیا.۔پھولوں جیسی معطر اور شبنم جیسی ٹھنڈی یہ مہک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 133 سے 233