افسانہ

ٹوٹی ہوئی سڑک

وہ ایک چھوٹے سے گاؤں کی ایک چھوٹی سی سڑک تھی، جس کے ارد گرد درخت ہی درخت تھے درختو ں کے پیچھے سکول کی عمارت تھی، اس سڑک پرآپ اگر چلتے جائیں تو آگے ہسپتال آجائے گاجہاں ایک ڈاکٹرصاحب بیٹھتے تھے، جو سب کو ایک ہی طرح کی کڑوی ادویات دیتے تھے ان کے پاس کوئی دوا میٹھی نہیں تھی دوا کے ...

مزید پڑھیے

ریلوے ا سٹیشن

’’جناب یہ ریل گاڑی یہاں کیوں رکی ہے ؟ ‘‘ جب پانچ منٹ انتظار کے بعد گاڑی نہ چلی تو میں نے ریلوے اسٹیشن پہ اترتے ہی ایک ٹکٹ چیکر سے یہ سوال کیا تھا۔ ’’ او جناب پیچھے ایک جگہ مال گاڑی کا انجن خراب ہوگیا ہے اب اس گاڑی کا انجن اسے لے کے اس اسٹیشن پہ آئے گا۔‘‘ ’’کیا اس کے علاوہ اور ...

مزید پڑھیے

ٹکٹ چیکر

پینتیس سال ٹرین میں سفر کرکرکے وہ تھک گیا تھاوہ جب مڑ کر اپنی زندگی کے گزرے سالوں کی جانب دیکھتا تو اسے سوائے سفر کے کچھ دکھائی نہ دیتا حالانکہ ان گزرے سالوں میں اس کی زندگی میں کیا کیا نہ ہوا تھا۔ شادی ہوئی، پانچ بچے ہوئے پھر وہ وقت بھی آیا کہ بچوں کی شادیاں بھی ہوگئیں لیکن وہ ...

مزید پڑھیے

جِیرے کالے کا دُکھ

یوں تو وہ اچھا تھا لیکن اس کے چہرے پہ دائیں جانب ایک سیاہ داغ تھا بالکل سیاہ جیسے کسی نے کالے پینٹ سے ایک دائرہ بنا دیا ہو۔ بچپن میں وہ اس داغ پر ہاتھ رکھ کر بات کرتا تھا تاکہ کسی کو اس کا داغ نہ دکھائی دے لیکن معلوم نہیں کیسے لوگوں کو وہ داغ دکھائی دے جاتا تھاوہ صابن سے چہرے کو دن ...

مزید پڑھیے

ٹِک ٹِک ٹِک

ٹِک ، ٹِک ، ٹِک ’’ایک تو اس وال کلاک کو آرام نہیں آتا ، سردیوں میں تو اس کی آواز لاوڈ سپیکر بن جاتی ہے‘‘ ٹِک ٹِک ٹِک یہ آواز اور یہ احساس واقعی بہت تکلیف دہ ہے ، خصوصا جب آپ گھر میں اکیلے ہوں ، اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے وال کلاک ٹک ٹک کی بجائے کم ، کم کہہ رہا ہو۔ ’’ کیا وقت یونہی ...

مزید پڑھیے

کیمیا گر

حکیم مسیح ترکستان سے اپنی بوڑھی ماں کو ساتھ لے کر ہندوستان آئے تھے، دہلی پہنچے تو انہیں حکم ملا کہ جونپور کی طرف کچھ اور نووارد ترکی خاندانوں کے ساتھ ایک بڑے گاؤں میں جس کا خالد پور نام رکھا گیا تھا،مسلمان آبادی کی بنیاد ڈالیں۔ حکیم مسیح نے حکم کی تعمیل کی اور خالد پور میں جا ...

مزید پڑھیے

اندھیرا

ابھی سورج ڈوبا نہیں تھا، لیکن اس کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ آسمان پر بادل پچھم کی طرف سرجھکائے سنہری کرنوں میں مانجے ہوئے پیتل کی طرح چمک رہے تھے۔ ہوا دن بھر کی تھکی ہوئی رک رک کر چل رہی تھی، چڑیاں بسیرے کے لیے اونگھتےہوئے درختوں پر جمع ہو رہی تھیں۔ بھگوان دین ایک پاسی اور منگل اسی ...

مزید پڑھیے

باغی

آم کا کنج اور بڑے بابو، ان دونوں میں کوئی تعلق بظاہر تو معلوم نہیں ہوتا، لیکن ہندوستان باوجود ضرب المثل کثرت کے وحدت کاملک ہے۔ یہاں ہرچیز دوسری چیز سے رشتہ رکھتی ہے، یہ رشتہ ہرشخص کو نظر نہیں آتا، لیکن شاعر (یہاں اس لفظ کے وسیع معنی مراد ہیں) کی درد پرور نظر اسے دیکھتی ہے، اور ...

مزید پڑھیے

شوکت پہ زوال

آج فرحان خان تذبذب میں تھے ۔ وہ بڑے پریشان نظر آرہے تھے۔ کوئی فکر ان کو اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔گھر کے آنگن میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک ٹہلتے جاتے تھے۔کچھ دیر رکتے پھر بیٹھ جاتے ۔کبھی پانی پیتے اور پھر سے ٹہلنے لگتے۔ جب انھیں کسی طرح بھی سکون نہ حاصل ہوا تو اپنے دونوں ...

مزید پڑھیے

مَٹھّا

’’کتنی دفعہ سمجھایا تمھیں ۔ کیا کمی چھوڑی تھی میں نے۔ جی جان سے تمھیں پڑھاتاہوں۔ دو سوالات کے جواب نہیں دے سکتے۔ اسکول میں پڑھنے آتے ہو یا ٹائم پاس کرنے۔۔۔مٹھا کہیں کے۔۔۔‘‘ اس روز ان تینو ں پر میں گرج دار آواز میں خوب چلایا کیوں کہ وہ میرے سوالات کے جوابات دے نہیں پائے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 116 سے 233