افسانہ

اجلے پاؤں، میلے پاؤں

وہ میری قطار سے اگلی قطار میں میرے سامنے سے دائیں والی کرسی پر دونوں پاؤں اپنی رانوں تک سکیڑ کر سیٹ پر رکھے بیٹھی تھی۔ آلتی پالتی مارے نہیں بلکہ اپنی منحنی ، نازک ٹانگیں دوہری کئے ۔ اس کے لاغرسفید پاؤں مجھے بہت خوب صورت اور سبک لگ رہے تھے ۔ ایک پاؤں اجلا تھا اور ایک میلا۔ وہ ...

مزید پڑھیے

کُشتی

’’پھر میں نے اُسے کہا کہ زیور اتار کر رکھ لو‘‘۔ ’’وہ کیوں ؟ کیا کوئی کشتی ہونے جا رہی تھی؟‘‘۔ ہم تینوں حمید کے ساتھ جڑے بیٹھے تھے۔ آٹھویں کے سالانہ امتحانات سر پر تھے لیکن پھر بھی حمید کو شادی کے لئے چھٹیاں مل ہی گئیں۔ لیکن ملیں صرف چار اوروہ بھی اس لئے کہ ماسٹر جمال الدین ...

مزید پڑھیے

دشت ِ وحشت

وہ مجھے سرحد تک جانے والی ٹرین کی منتظر ریلوے کے مخصوص بنچ پر بیٹھی ملی۔ بڑے اسٹیشن پر بہت رونق تھی۔ ہفتے میں دوبار سرحد تک ، جانے والی گاڑی نے علی الصبح نکلنا تھا۔ برادر ملک کے ساتھ مسافروں کی آمد و رفت کا بس ایک ہی رستہ کھلا تھا اور یہ ریل گاڑی اُسی سرحدی مقام تک جاتی تھی۔ مجھے ...

مزید پڑھیے

غرض

مجھے اس سے غرض نہیں کہ تمہارا اور کس سے کیا تعلق ہے۔ میں صرف اس سے غرض رکھتا ہوں اور اسی میں خوش ہوں کہ تم مجھ سے متعلق ہو۔ فرخ کی آواز میں تیقن نے فریدہ کی روح تک کو نہال کردیا۔ اُسے فرخ کی حسین، بھوری آنکھوں میں دنیا بھر کا خلوص ٹھاٹھیں مارتا نظر آیا۔ فریدہ نے محسوس کیا کہ فرخ ...

مزید پڑھیے

نظر بد

اب جبکہ مںئ ایک طویل عمر گزار چکا ۱پنی سٹڈی مںت آسودہ ، پل پل اترتی شام کی آہٹ سنتا ہوں، سال خوردہ سابہ ششمص کی شاندار آرام کرسی مںر نمن دراز ، بڑے بڑے ، شفاف ششویں سے باہر کھڑکی پر سایہ کئے بوگن ویاما اور جھُومر بل کی شاخوں کو نرم ہوا سے جھُومتا دیکھتا ہُوں ، جو باہر آنگن مںی ...

مزید پڑھیے

نا رسائی

میرے بھاری جوتے خزاں گزیدہ سوکھے پتوں کی احتجاجی آوازوں سے بے نیاز، انہیں روندتے چلے جا رہے تھے۔ میری کیفیت سے بے پروا زوال پذیر سورج نارنجی اُفق میں غروب سے قبل کی آخری رنگ ریزی میں مگن تھا۔ میں زرد پڑتی گھاس کے بیچ لیٹی گرد پوش پگڈنڈی پر خود کو گھسیٹتا اس کے قریب ہوتا جارہا ...

مزید پڑھیے

عجیب لڑکی

’’ نہیں بھائی۔ میں نہیں مانتی۔ میں افسانہ لکھ رہی ہوں یا الجبرے کا سوال حل کر رہی ہوں جو آپ مجھے فارمولے پر فارمولاسکھانے سمجھانے پر تلے ہیں۔ شروع کی لائن پٹاخہ ہونی چاہیے، پھر زینہ زینہ کہانی آگے بڑھے ، کردار محدود ہوں، جزئیات پر زیادہ ارتکاز نہ ہو، تلمیحات، استعارات ، ...

مزید پڑھیے

آخری گجرا

اور پھر ہماری شادی ہو گئی۔ رضیہ میرے خوابوں کی شہزادی تھی۔ میں کیا اور میرے خواب کیا۔ لیکن خواب تو سبھی کے ہوتے ہیں اور خوابوں کی شہزادیاں بھی۔ میرے پاس تھا کیا اسے دینے کو؟ پھر بھی وہ خوش تھی کہ جو کچھ چھوڑ کر آرہی تھی وہ بھی کسی کو شہزادی نہیں بنا سکتا، بس خوابوں کی شہزادی ہی ...

مزید پڑھیے

مہربانی

لکڑی کی چوکی پر کھڑا اجُوحیران تھا کہ نذیر نائی آج کچھا اتار کر اس کی حجامت کیوں بنائے گا۔ صبح ہی سے حویلی میں رونق معمول سے کچھ زیادہ تھی ۔ برادری والے صاف کپڑے پہن کر سروں پر رنگ برنگے صافے باندھے اکٹھے ہو رہے تھے ۔ اجو نے سوچا کہ آج پھر بیل گاڑیوں اور گھوڑوں پر سوار ہوکر سب ...

مزید پڑھیے

سرکتے راستے

جب وہ چلتی تو ریت بھرا رستہ اُس کے پاؤں کے نیچے سے سرکتا ۔ متحرک راستے پر اُسے آگے بڑھنے میں سخت دشواری پیش آتی۔ ریت اُس کے پاؤں جکڑتی اور رائیگاں مشقت کا درد اُس کی پنڈلیوں سے ہوتا ہوا سر تک پہنچتا۔ اس کا گورا، گداز جسم اپنے اندر سڑتے بُستے ، بے توقیر کنوار پن کا بوجھ اٹھائے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 114 سے 233