افسانہ

مانوس

ہوا کا زور بڑھ گیا تھا۔ اب صاف معلوم ہونے لگا تھا کہ چھوٹی چھوٹی چک پھیریاں اٹھاتی اور ریت کے ہلکے ہلکے چھینٹے اڑاتی ہوا کی ان موجوں کے پیچھے کچھ اور ہے۔ صحراؤں کے آنگن میں پلنے بڑھنے والے کان اور آنکھیں ہوا کے بدن سے پھوٹتی خوش بو اور اس کا روپ بڑھاتی چال کو محسوس کرنے اور ...

مزید پڑھیے

جلن

جلتی آنکھوں، تپتے دماغ، سلگتے سینے اور نفرت انگیز دل سے اس نے جو کچھ کیا ،اس پر وہ مطمئن تھا۔ وہ اور کر بھی کیا سکتا تھا۔ وہ درمیانی تعلیم اور کمتر ذہانت والاشخص تھا۔ اس کا دل اور دماغ جوفیصلہ کرسکتے تھے، اس نے وہی کیا۔ زندگی کے اسٹیج پر ایک ساتھ چلتے ہوئے ایک دن اسے لگا کہ وہ اس ...

مزید پڑھیے

بساط کا آخری مُہرہ

مغرب کی نماز کے بعد صحن کے درمیان قد آور نیم کے بوڑھے ، گھنے اور سایہ دار درخت کی چھپر چھاؤں تلے دودھیا بلب کی شفاف روشنی کے پھیلاؤ میں شیشم کی منقش میز پر شطرنج کی بساط بچھا دی گئی ۔ میز کے گرد پڑی کرسیاں ابھی خالی تھیں۔بادشاہ وزیر اپنے ہاتھی گھوڑوں اور پیادوں کے ہمراہ نئے دور ...

مزید پڑھیے

بھابی جان

جنازے کے دہلیز پار کرتے ہی بھابی جان کی آنکھوں میں حیرت سے برف ہوئے آنسو چھلک پڑے۔ وہ غم سے چیخیں نہ درد سے چلائیں، بس ٹُک ٹُک اپنے محبوب شاعر اور چالیس سال کے رفیق کو جاتے ہوئے دیکھتی رہیں۔ دل و دماغ تو ساری طنابیں رات ہی کو توڑ چکے تھے جب چاروں بیٹے بیٹیوں اور ان کے بچوں کے ...

مزید پڑھیے

سوال

(سماجی مذہبی ذہنی ارتقا) سوال سے گریز، امکانات کا راستہ بند کرنے اور شتر مرغ کی طرح ریت میں منہ چھپا کر طوفان کے ٹل جانے کی امید کرنے والی قوم کی سرزمین پر جنم لینے والی اس کہانی کے دو کردا رہیں۔ یہ ایک دوسرے کو صرف ایک حوالے سے جانتے ہیں۔ مگر کبھی ملے نہیں ایک ملک کے بھی نہیں۔ ...

مزید پڑھیے

ملامتی

مہر آج اپنے گھر نہ پہنچ سکی تھی۔ دو میل پیدل چل کر وہ جیسے ہی خالہ اماں کے گھر میں داخل ہوتی اپنے کام میں لگ جاتی۔ نہ اسے تھکن کا احساس ہوتا اور نہ ہی کوئی آرام کی خواہش۔ بس اسے تو یہ یاد ہوتا کہ جلد سے جلد یہاں سے کام ختم کرکے اسے اگلے بلاک میں جانا ہے۔ اس کے ذمے تین کام تھے۔ ایک ...

مزید پڑھیے

پندرھواں سال

آج ہفتہ ہے اور معمولات کے مطابق آج مجھے ماں کا ہاتھ بٹانا ہے۔ ماں، جس سے میں بہت محبت کرتا ہوں۔ وہ تو میں پہلے بھی بہت کرتا تھا، مگر اب زیادہ کرنے لگا ہوں۔ عمر کے کئی برس میں نے اور ماں نے اکیلے ہی گزارے ہیں۔ اسی چھوٹے سے تین کمروں کے فلیٹ میں ابو کے بغیر۔ وہ ہمارے ساتھ زیادہ نہ رہ ...

مزید پڑھیے

مجسمہ

مددگاروں کو رخصت کرنے کے بعد ایقان دیر تک سنگِ مر مر کو چاروں طرف سے دیکھتا رہا۔ اسے یقین تھا کہ وہ اس چٹان کو اپنے حسین تصورات کا روپ دینے میں ضرور کامیاب ہوگا۔ اسی دوران اس کے کانوں سے آواز ٹکرائی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا۔ برآمدے میں موم کھڑی ہوئی تھی۔ ایقان نے پتھر پر اچٹتی سی نظر ...

مزید پڑھیے

ہم تو اس جینے کے ہاتھوں۔۔۔

حیرت کا طلسم فضا پر طاری ہوچکا تھا،ہر کسی کی نگاہ اسٹیج پر مرکوز تھی ۔اسٹیج پر سارے معزز مہمان موجود تھے اور وہ بھی دم بخود تھے،غالباً ان کی بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ چشم زدن میں یہ کیا ہوگیا۔لوگ کاناپھوسی کرنے لگے، میری طرح شاید وہ لوگ بھی یہ جاننے کے لئے بے چین تھے کہ ابھی ...

مزید پڑھیے

فردوسِ حزیں

آبشارکی زیریں لہروں کی بازگشت وصال و فراق کے زمزمے سنارہی تھی،دیودار کے پتوں،ڈالیوں اورجڑوں پرجمی ہوئی برف بتدریج پگھل کرزمین میں جذب ہورہی تھی، سردی ہڈیوں میں اتررہی تھی،سویٹر،مفلراوردستانے خودآتش بدن مانگ رہے تھے اوردور بہت دورچنارکے نرم پتوں کو چوم کرآنے والی نیم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 112 سے 233