سیل اشک حزیں بھی کچھ ہے

سیل اشک حزیں بھی کچھ ہے
پر مری آستین بھی کچھ ہے


اے پرانے خیال کی لڑکی
تجھ میں تازہ ترین بھی کچھ ہے


میرؔ کے در پہ رینگنے والو
اس غزل کی زمین بھی کچھ ہے


ساقیا پڑھ رہا ہے بسم اللہ
اس کا مطلب ہے دین بھی کچھ ہے


تیری آنکھوں کو دیکھ کر جانا
شاعری سے حسین بھی کچھ ہے


جو اگلتے ہیں زہر اے حسرتؔ
ان سے کہہ دو کی بین بھی کچھ ہے