قومی زبان

یہ زرد پھول یہ کاغذ پہ حرف گیلے سے

یہ زرد پھول یہ کاغذ پہ حرف گیلے سے تمہاری یاد بھی آئی ہزار حیلے سے بدن کا لمس ہوا کو بنا گیا خوشبو نظر کے سحر سے منظر ہوئے نشیلے سے یہ زندگی بھی فقط ریت کا سمندر ہے کبھی نگاہ جو ڈالو فنا کے ٹیلے سے یہ شاعری مجھے شہبازؔ یوں بھی پیاری ہے کہ میرا خود سے تعلق ہے اس وسیلے سے

مزید پڑھیے

اک ایسا وقت بھی صحرا میں آنے والا ہے

اک ایسا وقت بھی صحرا میں آنے والا ہے کہ راستہ یہاں دریا بنانے والا ہے وہ تیرگی ہے کہ چھٹتی نہیں کسی صورت چراغ اب کے لہو سے جلانے والا ہے تمہارے ہاتھ سے ترشا ہوا وجود ہوں میں تمہی بتاؤ یہ رشتہ بھلانے والا ہے ابھی خیال ترے لمس تک نہیں پہنچا ابھی کچھ اور یہ منظر بنانے والا ...

مزید پڑھیے

وفا کا شوق یہ کس انتہا میں لے آیا

وفا کا شوق یہ کس انتہا میں لے آیا کچھ اور داغ میں اپنی قبا میں لے آیا مرے مزاج مرے حوصلے کی بات نہ کر میں خود چراغ جلا کر ہوا میں لے آیا دھنک لباس گھٹا زلف دھوپ دھوپ بدن تمہارا ملنا مجھے کس فضا میں لے آیا وہ ایک اشک جسے رائیگاں سمجھتے تھے قبولیت کا شرف وہ دعا میں لے آیا فلک کو ...

مزید پڑھیے

دوام

مجھے آج محسوس یوں ہو رہا ہے کہ میں مر گیا ہوں مرا نام کچھ بھی ہو میں عام سا آدمی اس سے کچھ فرق پڑتا نہیں ایک احساس کے مختلف نام ہیں ساری دنیا میں جو شخص دنیا سے اٹھا ہے وہ میں ہوں میں جس نے دیکھا ہے ہر شخص میں خود کو مرتے ہوئے مجھ کو جس طرح چاہو پکارو کہ وہ مرنے والا تو میں ہی ...

مزید پڑھیے

شہر انا میں

یہ تیز دھوپ یہ کاندھوں پہ جاگتا سورج زمیں بلند ہے اتنی کہ آسماں کی رقیب وہ روشنی ہے وہ بیداریاں کہ سائے نہ خواب بس ایک ہوش بس اک آگہی بس اک احساس اور ان کے نور سے جلتے بدن پگھلتے بدن بدن ہیں کھولتے سیال آئینے ہر سو ہر آن بہتے سدا رہتیں بدلتے بدن دماغ دور سے ان کا نظارہ کرتا ہے اور ...

مزید پڑھیے

میں

کس قدر روشن ہیں اب ارض و سما نور ہی نور آسماں تا آسماں میرے اندر ڈوبتے چڑھتے ہوئے سورج کئی جسم میرا روشنی ہی روشنی پانو میرے نور کے پاتال میں ہاتھ میرے جگمگاتے آسمانوں کو سنبھالے سر مرا کاندھوں پہ اک سورج کہ نادیدہ خلاؤں سے پرے ابھرا ہوا اور زمیں کے روز و شب سے چھوٹ کر آگہی کی تیز ...

مزید پڑھیے

تسخیر فطرت کے بعد

ہوا اے ہوا میں ترا ایک ایک انگ لہرا تھا صدیوں ترے ساتھ دشت و دمن کوہ و صحرا میں آزاد و سرشار پھرتا رہا ہوں سمندر کی چھاتی پہ صدیوں ترے ساتھ بد مست و بے فکر چلتا رہا ہوں انوکھی زمینوں طلسمی جزیروں کو دریافت کرتا رہا ہوں مجھے تو نے فطرت کے معبد صنم خانۂ کائنات، آذری کے طلسمات سے آ ...

مزید پڑھیے

تسخیر فطرت کے بعد

تسخیر فطرت کے بعد ہوا اے ہوا میں ترا ایک انگ ایک لہرا تھا صدیوں ترے ساتھ دشت دامن‌ کوہ صحرا میں آزاد و سرشار پھرتا رہا ہوں سمندر کی چھاتی پہ صدیوں ترے ساتھ بے فکر و بے دست چلتا رہا ہوں انوکھی زمینوں طلسمی جزیروں کو دریافت کرتا رہا ہوں مجھے تو نے فطرت کے بعد صنم خانۂ کائنات آزری ...

مزید پڑھیے

ایسے رکھتی ہے ہمیں تیری محبت زندہ

ایسے رکھتی ہے ہمیں تیری محبت زندہ جس طرح جسم کو سانسوں کی حرارت زندہ شوق کی راہ میں اک ایسا بھی پل آتا ہے جس میں ہو جاتی ہے صدیوں کی ریاضت زندہ روز اک خوف کی آواز پہ ہم اٹھتے ہیں روز ہوتی ہے دل و جاں میں قیامت زندہ اب بھی انجان زمینوں کی کشش کھینچتی ہے اب بھی شاید ہے لہو میں کہیں ...

مزید پڑھیے

میں ہی میں بکھرا ہوا ہوں راہ تا منزل تمام

میں ہی میں بکھرا ہوا ہوں راہ تا منزل تمام خاکداں تا آسماں چھایا ہے مستقبل تمام پی چکی کتنی ہی موجوں کا لہو ساحل کی ریت لاشیں ہی لاشیں نظر آئیں سر ساحل تمام گھر کو دن بھر کی متاع رہ نوردی سونپ دی سعئ پیہم کا غبار شہر تھا حاصل تمام دیکھنا سب نے اٹھا رکھی ہے کاندھوں پر صلیب بھیس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 999 سے 6203