جو اس چمن میں یہ گل سرو و یاسمن کے ہیں
جو اس چمن میں یہ گل سرو و یاسمن کے ہیں یہ جتنے رنگ ہیں سب تیرے پیرہن کے ہیں یہ سب کرشمۂ عرض ہنر اسی کے ہیں گلوں میں نقش ترے ہی لب و دہن کے ہیں طبیعتوں میں عجب رنگ اجنبیت ہے یہ شاہ پارے تو سب تیرے ارض فن کے ہیں ہوس میں عشق میں تہذیب تربیت کا ہے فرق وگرنہ دونوں اسی مکتب بدن کے ...