قومی زبان

جو اس چمن میں یہ گل سرو و یاسمن کے ہیں

جو اس چمن میں یہ گل سرو و یاسمن کے ہیں یہ جتنے رنگ ہیں سب تیرے پیرہن کے ہیں یہ سب کرشمۂ عرض ہنر اسی کے ہیں گلوں میں نقش ترے ہی لب و دہن کے ہیں طبیعتوں میں عجب رنگ اجنبیت ہے یہ شاہ پارے تو سب تیرے ارض فن کے ہیں ہوس میں عشق میں تہذیب تربیت کا ہے فرق وگرنہ دونوں اسی مکتب بدن کے ...

مزید پڑھیے

خود مجھ کو میرے دست کماں گیر سے ملا

خود مجھ کو میرے دست کماں گیر سے ملا جو زخم بھی ملا ہے اسی تیر سے ملا تجھ کو خبر بھی ہے مرے انکار کا جواب تیغ و سنان و خنجر و شمشیر سے ملا گم ہو گیا تھا میں اسی دشت وجود میں میں اپنے اسم ذات کی تسخیر سے ملا اے رمز آگہی میں تجھے خود پہ وا کروں وحشت کو میرے پاؤں کی زنجیر سے ملا ملنے ...

مزید پڑھیے

ابتدا سے میں انتہا کا ہوں

ابتدا سے میں انتہا کا ہوں میں ہوں مغرور اور بلا کا ہوں تو بھی ہے اک چراغ مہلت شب میں بھی جھونکا کسی ہوا کا ہوں پھینک مجھ پر کمند ناز اپنی آج میں ہم سفر صبا کا ہوں جس میں ملبوس چاند رہتا ہے میں بھی تکمہ اسی قبا کا ہوں مجھ کو اپنا سمجھ رہی ہے تو میں کسی اور بے وفا کا ہوں اس میں ...

مزید پڑھیے

سب ہیں مصروف کسی کو یہاں فرصت نہیں ہے

سب ہیں مصروف کسی کو یہاں فرصت نہیں ہے سب ضرورت ہے مگر کار ضرورت نہیں ہے تجھ سے دشنام طرازوں کی حمایت کے لئے اب مرے پاس کوئی حرف سہولت نہیں ہے روز اک حشر بپا کرتے تھے جس کی خاطر ہم یہ سنتے ہیں کہ وہ فتنۂ قامت نہیں ہے عکس رم سازیٔ وحشت سے اسے ہے نسبت اب تو آئینوں کو پہلی سی وہ حیرت ...

مزید پڑھیے

پھر آج درد سے روشن ہوا ہے سینۂ خواب

پھر آج درد سے روشن ہوا ہے سینۂ خواب سجا ہوا ہے مرے زخم سے مدینۂ خواب خزاں کی فصل میں جو رزق وحشت شب تھا لٹا رہا ہوں سر شب وہی خزینۂ خواب مسافران شب غم تمہاری خیر تو ہے تڑخ کے ٹوٹ گیا کیوں مرا نگینۂ خواب حقیقتوں کے بھنور سے کوئی نکالے پھر رواں کرے مری جانب کوئی سفینۂ ...

مزید پڑھیے

چشم خوش آب کی تمثیل میں رہنے والے

چشم خوش آب کی تمثیل میں رہنے والے ہم پرندے ہیں اسی جھیل میں رہنے والے ہم کو راس آتی نہیں کوچۂ جاناں کی ہوا ہم ہیں الفاظ کی تحویل میں رہنے والے کتنے آشوب گزیدہ سے نظر آتے ہیں عسرت خانۂ تکمیل میں رہنے والے اپنے الفاظ سے تجسیم کروں گا تجھ کو مجھ پہ وا ہو میری تخیل میں رہنے ...

مزید پڑھیے

ہوا کی ڈور میں ٹوٹے ہوئے تارے پروتی ہے

ہوا کی ڈور میں ٹوٹے ہوئے تارے پروتی ہے یہ تنہائی عجب لڑکی ہے سناٹے میں روتی ہے محبت میں لگا رہتا ہے اندیشہ جدائی کا کسی کے روٹھ جانے سے کمی محسوس ہوتی ہے خموشی کی قبا پہنے ہے محو گفتگو کوئی برہنہ جسم تنہائی مرے پہلو میں سوتی ہے یہ آنکھیں روز اپنے آنسوؤں کے سرخ ریشم سے نیا کچھ ...

مزید پڑھیے

کوزۂ درد میں خوشیوں کے سمندر رکھ دے

کوزۂ درد میں خوشیوں کے سمندر رکھ دے اپنے ہونٹوں کو مرے زخم کے اوپر رکھ دے اتنی وحشت ہے کہ سینے میں الجھتا ہے یہ دل اے شب غم تو مرے سینے پہ پتھر رکھ دے سوچتا کیا ہے اسے بھی مرے سینے میں اتار تجھ سے یہ ہو نہیں سکتا ہے تو خنجر رکھ دے پھر کوئی مجھ کو مری قید سے آزاد کرے میرے اندر سے ...

مزید پڑھیے

فکر ایجاد میں ہوں کھول نیا در کوئی

فکر ایجاد میں ہوں کھول نیا در کوئی کنج گل بھیج مری شاخ ہنر پر کوئی رنگ کچھ اور نچوڑیں گے لہو سے اپنے پھر تراشیں گے ہم اک اور نیا پیکر کوئی بھیج کچھ تازہ کمک میرے مسافر کے لئے پھر اترتا ہے مرے دشت میں لشکر کوئی آستینوں میں ہواؤں نے چھپایا ہوا ہے ہم نے دیکھا ہے چمکتا ہوا خنجر ...

مزید پڑھیے

زخم جگر کو دست جراحت سے پوچھئے

زخم جگر کو دست جراحت سے پوچھئے جو رہ گئی دلوں میں وہ حسرت سے پوچھئے جاں دادگان عیش کا انجام کیا ہوا آوارگان کوچۂ وحشت سے پوچھئے میں کھو گیا ہوں اپنی ضرورت کی بھیڑ میں میں کیا ہوں مجھ کو میری ضرورت سے پوچھئے افسوس ہے مجھے مری غیرت کی موت پر کیوں کی ہے خودکشی مری غربت سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 952 سے 6203