قومی زبان

لدی ہے پھولوں سے پھر بھی اداس لگتی ہے

لدی ہے پھولوں سے پھر بھی اداس لگتی ہے یہ شاخ مجھ کو مری غم شناس لگتی ہے کسی کتاب کے اندر دبی ہوئی تتلی اسی کتاب کا اک اقتباس لگتی ہے وہ موت ہی ہے جو دیتی ہے سو طرح کے لباس یہ زندگی ہے کہ جو بے لباس لگتی ہے تھی قہقہوں کی تمنا تو آ گئے آنسو خوشی کی آرزو غم کی اساس لگتی ہے اٹھا کے ...

مزید پڑھیے

منبروں پر بھی گنہ گار نظر آتے ہیں

منبروں پر بھی گنہ گار نظر آتے ہیں سب قیامت کے ہی آثار نظر آتے ہیں ان مسیحاؤں سے اللہ بچائے ہم کو شکل و صورت سے جو بیمار نظر آتے ہیں جانے کیا ٹوٹ گیا ہے کہ ہر اک رات مجھے خواب میں گنبد و مینار نظر آتے ہیں مات دیتے ہیں یزیدوں کو لہو سے ہم ہی ہم ہی نیزوں پہ ہر اک بار نظر آتے ...

مزید پڑھیے

اس سے گلے شکایتیں شکوے بھی چھوڑ دو

اس سے گلے شکایتیں شکوے بھی چھوڑ دو در اس کا چھٹ گیا تو دریچے بھی چھوڑ دو کیسا ہے وہ کہاں ہے بنا کس کا ہم سفر بہتر ہے کچھ سوال ادھورے بھی چھوڑ دو اک بے وفا کا نام لکھو گے کہاں تلک اوراق اپنے ماضی کے سادے بھی چھوڑ دو جینے کے واسطے نہ سہارے کرو تلاش جب ڈوب ہی رہے ہو تو تنکے بھی چھوڑ ...

مزید پڑھیے

ترنگا

لہرائے جا ترنگا آزادی کے عاشق ویروں کے سر پر لہرائے جا لہرا لہرا کر آزادی کے پیغام بنائے جا کوہستانی برف کی صورت تجھ میں تیز سفیدی گاؤں میں اگنے والی کپاسوں کے مانند روپہلی پکے آم کے پھل کی صورت رنگت کیسریالی جاں بازوں کے پاک لہو کی یاد دلانے والی جنگل کی آنکھوں کی صورت سبز ہے ...

مزید پڑھیے

کھنڈر

اسی اداس کھنڈر کے اداس ٹیلے پر جہاں پڑے ہیں نکیلے سے سرمئی کنکر جہاں کی خاک پہ شبنم کے ہار بکھرے ہیں شفق کی نرم کرن جس پہ جھلملاتی ہے شکستہ اینٹوں پہ مکڑی کے جال ہیں جس جا یہیں پہ دل کو نئے درد سے دو چار کیا کسی کے پاؤں کی آہٹ کا انتظار کیا اسی اداس کھنڈر کے اداس ٹیلے پر یہ نہر جس ...

مزید پڑھیے

لڑکپن کی یاد

تو مجھ کو ہم نشیں اپنا لڑکپن یاد آتا ہے کبھی خالی کلاسوں میں جو بچے غل مچاتے ہیں کسی انجان شاعر کی غزل مل جل کے گاتے ہیں خوشی سے ناچتے ہیں ڈیسک پر طبلہ بجاتے ہیں تو مجھ کو ہم نشیں اپنا لڑکپن یاد آتا ہے ہوا کرتی ہے جب چھٹی تو چنچل سرپھرے خود سر لئے ہاتھوں میں بستے مارتے فٹ بال کو ...

مزید پڑھیے

راہ گزر

(تھرتھراتا ہوا احساس کے غم خانے میں نرگسی آنکھوں کا معصوم سا شکوا دن رات زیست کے ساتھ رہا کرتا ہے سائے کی طرح چند اترے ہوئے چہروں کا تقاضا دن رات) شام ہوتی ہے تو روتی ہیں ننداسی آنکھیں لوریاں روٹھ گئیں پیار بھری بات گئی صبح آتی ہے تو کہتی ہیں نگاہیں اٹھ کر کس لیے دن کا اجالا ہوا ...

مزید پڑھیے

زندگی اور موت کا یوں رابطہ رہ جائے گا

زندگی اور موت کا یوں رابطہ رہ جائے گا مقتلوں کو جانے والا راستہ رہ جائے گا خشک ہو جائیں گی آنکھیں اور چھٹ جائے گا ابر زخم دل ویسے کا ویسا اور ہرا رہ جائے گا بجھ چکی ہوں گی تمہارے گھر کی ساری مشعلیں اور تو لوگوں میں شمعیں بانٹتا رہ جائے گا مجھ سے لے جائے گا اک اک چیز وہ جاتے ...

مزید پڑھیے

پھول سے لوگوں کو مٹی میں ملا کر آئے گی

پھول سے لوگوں کو مٹی میں ملا کر آئے گی چل رہی ہے جو ہوا سب کچھ فنا کر جائے گی زندگی گزرے گی مجھ کو روند کر پیروں تلے موت لیکن مجھ کو سینے سے لگا کر جائے گی وہ کسی کی یاد میں جلتی ہوئی شمع فراق خود بھی پگھلے گی مری آنکھوں کو بھی پگھلائے گی آنے والے موسموں کی سر پھری پاگل ہوا ایک دن ...

مزید پڑھیے

روشنی تیز کرو

روشنی تیز کرو، تیز کرو، تیز کرو گم ہے اندیشۂ امروز کی ظلمت میں حیات زہرہ و ماہ سے محروم ہے جذبات کی رات زعفراں زار بہشتوں میں بھی اڑتا ہے غبار خلد بردوش فضائیں ہیں جہنم بکنار تشنگی صبح کی، معمورۂ ہستی میں ہے عام رکھ دو ظلمت کی ہتھیلی پہ کوئی نور کا جام اور اس غم کے اندھیرے کو نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 868 سے 6203