قومی زبان

بقائے محبت

در دیوار اور دریچے ایک معاہدہ ہیں عدم‌ مداخلت کا مشروط معاہدہ دو مہذب انسانوں کے درمیاں دو متمدن خاندانوں کے درمیاں دیوار تہذیب کی ترجمان تمدن کی پہچان اور بقائے باہمی کی آئینہ دار حیلہ حقوق کی ضمانت بقائے تحیت کی علامت حیط اور احاطہ ذہنی و جسمانی آسودگی اور سکھ چین کے لیے ...

مزید پڑھیے

انتباہ

گاڑی کھینچنا اور چلاتے رکھنا دو مختلف رو میں باہم ربط و راہ کے نشیب و فراز رفتار کو متأثر کرتے ہیں مزاحمت کی صورت میں بریک لگانے میں ہی عافیت ہے کیونکہ مد مقابل کو اپنی رفتار پر قابو نہیں اگرچہ آپ کو تو اپنی جان عزیز ہے رفتار پر کنٹرول کا رویہ زندگی کو سہل اور آسان بناتا ہے اور ...

مزید پڑھیے

کسی کی آنکھ سے آنسو ٹپک رہے ہوں گے

کسی کی آنکھ سے آنسو ٹپک رہے ہوں گے تمام شہر میں جگنو چمک رہے ہوں گے چھپا کے رکھے ہیں کپڑوں کے بیچ میں اس نے مرے خطوط یقیناً مہک رہے ہوں گے کھلی ہے دھوپ کئی دن کے بعد آنگن میں پھر الگنی پہ دوپٹے لٹک رہے ہوں گے وہ چھت پہ بال سکھانے کو آ گئی ہوگی نہ جانے اب کہاں بادل بھٹک رہے ہوں ...

مزید پڑھیے

زندگی یوں تو بہت عیار تھی چالاک تھی

زندگی یوں تو بہت عیار تھی چالاک تھی موت نے چھو کر جو دیکھا ایک مٹھی خاک تھی جاگتی آنکھوں کے سپنے دل نشیں تو تھے مگر میرے ہر اک خواب کی تعبیر ہیبت ناک تھی آج کانٹے بھی چھپائے ہیں لبادوں میں بدن اک زمانے میں تو فصل گل بھی دامن چاک تھی تھا ہمیں بھی ہر قدم پہ ناک کٹ جانے کا ڈر ان ...

مزید پڑھیے

سنگ مجنوں پہ لڑکپن میں اٹھایا کیوں تھا

سنگ مجنوں پہ لڑکپن میں اٹھایا کیوں تھا یاد غالب کی طرح سر مجھے آیا کیوں تھا بات اب یہ نہیں کیوں چھوڑا تھا اس نے مجھ کو بات تو یہ ہے کہ وہ لوٹ کے آیا کیوں تھا کتنے معصوم صفت لوگ تھے سمجھے ہی نہیں اس نے پر توڑ کے تتلی کو اڑایا کیوں تھا جس کے ہاتھوں میں نظر آتے تھے پتھر کل تک اس نے ...

مزید پڑھیے

مجھ کو ترے سلوک سے کوئی گلہ نہ تھا

مجھ کو ترے سلوک سے کوئی گلہ نہ تھا زہر اب پی رہا تھا مگر لب کشا نہ تھا کانٹوں سے جسم چھلنی ہے میرا اسی لئے پھولوں سے پیار کرنے کا کچھ تجربہ نہ تھا لاکھوں تماش بین ہیں اور ہم صلیب پر اک وقت وہ تھا کوئی ہمیں دیکھتا نہ تھا کیا جانے اس کی آنکھ میں کیوں اشک آ گئے چہرے پہ میرے کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

پیار میں اس نے تو دانستہ مجھے کھویا تھا

پیار میں اس نے تو دانستہ مجھے کھویا تھا جانے کیوں پھر وہ اکیلے میں بہت رویا تھا اس کو بھی نیند نہیں آئی بچھڑ کر مجھ سے آخری بار وہ بانہوں میں مری سویا تھا میرے اشکوں میں رہا وہ بھی برابر کا شریک میں نے یہ بوجھ اکیلے ہی نہیں ڈھویا تھا رات بھر تجھ کو سناتا رہا میرا قصہ رات بھر ...

مزید پڑھیے

یاد وطن

ان شاندار محلوں کو کیا کروں میں لے کر لگتا نہیں ہے میرا دل آہ ان میں دم بھر ان میں نہیں ہے میری دل بستگی کا منظر دل کش کہیں ہے اس سے اجڑا ہوا مرا گھر مل جائے کاش مجھ کو گھر آہ! میرا پیارا غربت میں مجھ کو رہنا دم بھر نہیں گوارا ہیں برکتیں اترتی جس گھر میں آسماں سے پیارا ہے آہ وہ گھر ...

مزید پڑھیے

بادشاہوں کی طرح اور نہ وزیروں کی طرح

بادشاہوں کی طرح اور نہ وزیروں کی طرح ہم تو درویش تھے آئے یہاں پیروں کی طرح راج محلوں میں کہاں ڈھونڈھ رہے ہو ہم کو ہم تو اجمیر میں رہتے ہیں فقیروں کی طرح ہم بھی اس ملک کی تقدیر کا اک حصہ ہیں ہم نہ مٹ پائیں گے ہاتھوں کی لکیروں کی طرح جانفشانی سے بہت ہم نے جڑے ہیں آنسو مادر ہند ترے ...

مزید پڑھیے

تیری نظر کے سامنے یہ دل نہیں رہا

تیری نظر کے سامنے یہ دل نہیں رہا آئینہ آئنہ کے مقابل نہیں رہا اچھا ہوا کہ وقت سے پہلے بچھڑ گیا بربادیوں میں تو مری شامل نہیں رہا مجھ کو سمجھ رہا تھا جو ماضی کی اک کتاب وہ بھی نئے نصاب میں شامل نہیں رہا لوٹ آئیں پھر سے کشتیاں طوفاں سے ہار کر ویراں بہت دنوں مرا ساحل نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 867 سے 6203