قومی زبان

آزادی کی صبح

ذرا دیکھو تو ماں پیڑوں پہ چڑیاں خوشی کے گیت کیسے گا رہی ہیں بتاؤ کب تک آئے گا وہ دن ماں کہ میں گاؤں گا آزادی کے نغمے مرے بیٹے نہ ہو مایوس ہرگز ندی جیسے پہاڑوں سے اتر کر سمندر کی طرف چلتی ہے سرمست کہ مکھی شہد کی جیسے دم شام پلٹتی ہے تو چھتے ہی کی جانب بہت تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اسے ...

مزید پڑھیے

مکان

اک پہاڑی کی اونچی چوٹی پر میں بناؤں گا ایک ایسا گھر جس میں چاروں ہوائیں آئیں گی اور سندیسے نئے سنائیں گی آ کے باد جنوب و باد شمال ڈال دے گی سنہری نیند کی شال شام کو سیج پر سلائے گی صبح کو منہ مرا دھلائے گی مشرقی اور مغربی جھونکے جلد کو میری صاف کر دیں گے اور جب اس گھر میں رات آئے ...

مزید پڑھیے

قومی گیت

ہم کام کے نغمے گاتے ہیں بیکار ترانہ کیا جانیں جو صرف عمل کے بندے ہیں وہ بات بنانا کیا جانیں رگ رگ میں لہو کو گرماتے جاتے ہیں وطن کی جے گاتے ہم عہد جوانی کے ماتے بوڑھوں کا زمانہ کیا جانیں طوفان میں کشتی کھیتے ہیں کہسار سے ٹکر لیتے ہیں ہم جنگ میں سر دے دیتے ہیں ہم پاؤں ہٹانا کیا ...

مزید پڑھیے

فریب نظر

بھیگی بھیگی سی ہوائیں، مہکا مہکا سا چمن چاند کی پگھلی ہوئی چاندی سے دھرتی سیم تن شاخ کے نیچے پری پیکر سا کوئی خندہ زن چمپئی رخسار، لب رنگیں، گلابی پیرہن میں نے یہ سمجھا کہ تم ہو، تم نہ تھے وہ پھول تھا دھیرے دھیرے چہرۂ سیمیں سے سرکاتا نقاب رات مے خانے کے اک گوشے سے ابھرا ...

مزید پڑھیے

مانا کہ سعئ عشق کا انجام کار کیا

مانا کہ سعئ عشق کا انجام کار کیا بے اختیار دل پہ مگر اختیار کیا ہر ذرہ آشیانۂ دل ہے کہیں ٹھہر صحرائے زندگی میں تلاش دیار کیا شاید کہ شہر میں کوئی انسان آ گیا دیکھو ہجوم سا ہے سر رہ گزار کیا صدیوں کا زہر پی کے جو سوئے وہ کیا اٹھے ڈستی ہے زندگی کی خلش بار بار کیا ہر ذرہ لالہ زار ...

مزید پڑھیے

شراب و شعر کے سانچے میں ڈھل کے آئی ہے

شراب و شعر کے سانچے میں ڈھل کے آئی ہے یہ شام کس کی گلی سے نکل کے آئی ہے سمجھ رہا ہوں سحر کے فریب رنگیں کو نیا لباس شب غم بدل کے آئی ہے ترے قدم کی بہک ہے تری قبا کی مہک نسیم تیرے شبستاں سے چل کے آئی ہے وفا پہ آنچ نہ آتی اگر تمھی کہتے زباں تک آج جو اک بات چل کے آئی ہے سجی ہوئی ہے ...

مزید پڑھیے

ہجوم درد میں خنداں ہے کون میرے سوا

ہجوم درد میں خنداں ہے کون میرے سوا حریف گردش دوراں ہے کون میرے سوا دوائے دل کے لیے اپنے پاس آیا ہوں کہ میرے درد کا درماں ہے کون میرے سوا یہ ہم سفر تو چمن تک کے ہم سفر ٹھہرے مرا رفیق بیاباں ہے کون میرے سوا ستارۂ شب غم کس پہ مسکرائیں گے فریب خوردۂ پیماں ہے کون میرے سوا وہ آدمی ہی ...

مزید پڑھیے

جنوں تو ہے مگر آؤ جنوں میں کھو جائیں

جنوں تو ہے مگر آؤ جنوں میں کھو جائیں کسی کو اپنا بنائیں کسی کے ہو جائیں جگر کے داغ کوئی کم ہیں روشنی کے لیے میں جاگتا ہوں ستاروں سے کہہ دو سو جائیں طلوع صبح غم زندگی کو ضد یہ ہے کہ میرے خواب کے لمحے غروب ہو جائیں یہ سوگوار سفینہ بھی رہ کے کیا ہوگا اسے بھی آ کے مرے ناخدا ڈبو ...

مزید پڑھیے

ہنسو نہ تم رخ دشمن جو زرد ہے یارو

ہنسو نہ تم رخ دشمن جو زرد ہے یارو کسی کا درد ہو اپنا ہی درد ہے یارو دلوں سے شکوۂ باہم کو دور کرنے میں لگے گا وقت کہ برسوں کی گرد ہے یارو ہم اہل شہر کی فطرت سے خوب واقف ہے وہ اک غریب جو صحرا نورد ہے یارو جہاں متاع ہنر کی خرید ہوتی تھی بہت دنوں سے وہ بازار سرد ہے یارو عجب نہیں کہ ...

مزید پڑھیے

خود کوئی چاک گریباں ہے رگ جاں کے قریب

خود کوئی چاک گریباں ہے رگ جاں کے قریب اے جنوں حشر کا ساماں ہے رگ جاں کے قریب منزل دل سے تو گزرے ہوئے دن بیت گئے کاروان غم جاناں ہے رگ جاں کے قریب در بدر کس لیے آوارہ ہو سرگشتہ ہو دوستو کوچۂ جاناں ہے رگ جاں کے قریب کیا کہیں اب دل بیتاب کا عالم یارو مضطرب جیسے رگ جاں ہے رگ جاں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 869 سے 6203