آزادی کی صبح
ذرا دیکھو تو ماں پیڑوں پہ چڑیاں خوشی کے گیت کیسے گا رہی ہیں بتاؤ کب تک آئے گا وہ دن ماں کہ میں گاؤں گا آزادی کے نغمے مرے بیٹے نہ ہو مایوس ہرگز ندی جیسے پہاڑوں سے اتر کر سمندر کی طرف چلتی ہے سرمست کہ مکھی شہد کی جیسے دم شام پلٹتی ہے تو چھتے ہی کی جانب بہت تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اسے ...