زمین تنگ ہے یا رب کہ آسمان ہے تنگ
زمین تنگ ہے یا رب کہ آسمان ہے تنگ یہ کیا کہ بندوں پہ پیہم تیرا جہان ہے تنگ مرے سوال کا کوئی جواب کیا دیتا کہ تیرے شہر میں ہر شخص کی زبان ہے تنگ کروں تو کیسے کروں حرف مدعا آغاز غزل کے واسطے لفظوں کا آسمان ہے تنگ فضا میں اڑتے پرندے کی خیر ہو یا رب کہ اس کا تیر بڑا ہے مگر کمان ہے ...