اب مجھ سے یہ رات طے نہ ہوگی
اب مجھ سے یہ رات طے نہ ہوگی پتھر یہ جبیں نہ ہے نہ ہوگی خورشید نہ ہو تو شہر دل میں پرچھائیں سی کوئی شے نہ ہوگی دروازہ کھٹک اٹھے گا اک بار دستک کبھی پے بہ پے نہ ہوگی آنکھوں میں لہو سنبھال رکھنا اب کے مینا میں مے نہ ہوگی
اب مجھ سے یہ رات طے نہ ہوگی پتھر یہ جبیں نہ ہے نہ ہوگی خورشید نہ ہو تو شہر دل میں پرچھائیں سی کوئی شے نہ ہوگی دروازہ کھٹک اٹھے گا اک بار دستک کبھی پے بہ پے نہ ہوگی آنکھوں میں لہو سنبھال رکھنا اب کے مینا میں مے نہ ہوگی
رندوں کو ترے آرزوئے خشک لبی ہے اب اے نگہ مست تو کیا ڈھونڈ رہی ہے منسوخ ہے اس دور میں ہر رسم گریباں اب مشغلۂ اہل جنوں سینہ زنی ہے شہزادۂ معنی کوئی آئے تو جگائے شاعر کا تخیل بھی تو خوابیدہ پری ہے مدت سے تھی آوارہ وہ پہنائے فضا میں خاک رہ انجم جو مرے سر پہ پڑی ہے ہر خار ہے غلطیدہ ...
موج دریا کو پئیں کیا غم خمیازہ کریں رگ افشردۂ صحرا میں لہو تازہ کریں دل کے محبس میں کریں ذات کا ماتم کب تک آؤ باہر تو چلیں وقت کا اندازہ کریں خوں ہے اک دولت دل لوٹ ہی لیں اہل فلک چہرۂ داغ قمر پر تو نیا غازہ کریں انگلیاں سرد ہیں پھونکیں تو انہیں ہوش میں لائیں اپنے سینوں پہ ...
ان کا خیال ہر طرف ان کا جمال ہر طرف حیرت جلوہ رو بہ رو دست سوال ہر طرف مجھ سے شکستہ پا سے ہے شہر کی تیرے آبرو چھوڑ گئے مرے قدم نقش کمال ہر طرف ہم ہیں جواں بھی پیر بھی ہم ہیں عدم بھی زیست بھی ہم ہیں اسیر حلقۂ قول محال ہر طرف نغمہ گرا ہے بوند بوند پھر بھی اٹھی ہے کتنی گونج اڑتی پھرے ...
لغزش پائے ہوش کا حرف جواز لے کے ہم خود کو سمجھنے آئے ہیں روح مجاز لے کے ہم کرب کے ایک لمحے میں لاکھ برس گزر گئے مالک حشر کیا کریں عمر دراز لے کے ہم شام کی دھندلی چھاؤں میں پھیلے ہیں سائے دار کے سجدہ کریں کہ آئے ہیں ذوق نماز لے کے ہم دور افق پہ جا کہیں دونوں لکیریں مل گئیں آئے تو ...
مسل کر پھینک دوں آنکھیں تو کچھ تنویر ہو پیدا جو دل کا خون کر ڈالوں تو پھر تاثیر ہو پیدا اگر دریا کا منہ دیکھوں تو قید نقش حیرت ہوں جو صحرا گھیر لے تو حلقۂ زنجیر ہو پیدا سراسر سلسلہ پتھر کا چشم نم کے گھر میں ہے کوئی اب خواب دیکھے بھی تو کیوں تعبیر ہو پیدا میں ان خالی مناظر کی ...
چہرے کا آفتاب دکھائی نہ دے تو پھر نیلی چھلکتی دھوپ سے آنکھوں کو بھر لیں ہم آؤ مزاج پرسیٔ دیوار و در کریں مدت سے ہم تھے قید اب ان کی خبر لیں ہم چبھتی نہیں ہیں درد کی بے خواب سوئیاں انگارے اب جگاؤ تو شاید اثر لیں ہم سارے علوم ہم کریں فی النار و السقر معصومیت کی راہ میں تیر و تبر ...
دن بھر کی دوڑ رات کے اوہام وسوسے ٹھنڈی سلونی شام کی خوش بو میں ڈھل گئے کردار قتل کرنے لگے لوگ یوں کہ ہم اپنے ہی گھر میں بیٹھ کے آوارہ بن گئے رقص نسیم موت تھا ہر چند مختصر دریا کے منہ پہ پھر بھی اچھل آئے آبلے نازک ہے مثل ماہ مگر سرمئی بدن اے جاں تجھے یہ کس نے دیئے غسل آگ کے
شور طوفان ہوا ہے بے اماں سنتے رہو بند کوچوں میں رواں ہے خون جاں سنتے رہو کان سن ہونے لگے ہیں اپنے گوش ہوش سے سرخ پریوں کی صدا دامن کشاں سنتے رہو گرمی آواز کو شعلہ بنا کر پھول سا دور تک حد نظر تک رائگاں سنتے رہو شورش بحر کرم میں ماہی مشعل کہاں جسم شب میں دن کی دھڑکن بے گماں سنتے ...
ہمارے دل میں تمہاری چاہت کبھی تھی جاناں پر اب نہیں ہے ہمیں بھی تم سے بہت محبت کبھی تھی جاناں پر اب نہیں ہے ہم اپنے اشکوں کو روک لیں گے مگر نہ شکوہ کوئی کریں گے تمہارے شانے کی وہ ضرورت کبھی تھی جاناں پر اب نہیں ہے وہ روئے روشن وہ مست آنکھیں تھی جن پہ قرباں سبھی بہاریں تمہارے چہرے ...