قومی زبان

بیت عنکبوت

یہ عورت اس لیے پیدا ہوئی ہے کہ اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھانسی پر چڑھایا جائے اسے یونان کے اک مشہور ڈاکو کے بستر کی ضرورت ہے (وہ اپنے سب شکاروں کا قد و قامت اسی بستر کے پیمانے کی نسبت سے گھٹاتا کاٹتا یا کھینچ کا جبراً بڑھاتا تھا) خطوط لب تو دیکھو! کس طرح سمٹے ہوئے ہیں، سنگ دل عامیانہ ...

مزید پڑھیے

کوئی بات نہیں

دانت بڑے ہوں تو بھی کوئی بات نہیں کان کھڑے ہوں تو بھی کوئی بات نہیں ڈانٹ پڑی ہو تو بھی کوئی بات نہیں دھوپ کڑی ہو تو بھی کوئی بات نہیں ادھم بڑا ہو تو بھی کوئی بات نہیں کوئی لڑا ہو تو بھی کوئی بات نہیں بچوں کا گھر میں آنے دو دھومیں ان کو مچانے دو

مزید پڑھیے

ہر جلوۂ حسن بے وطن ہے

ہر جلوۂ حسن بے وطن ہے شاید کہ یہ محفل سخن ہے اک وجد میں جسم و جان فن کار ہے رقص کہ روح کا بدن ہے ہر فکر مثال چہرہ روشن ہر شعر میں بوئے پیرہن ہے کافور کی شمعیں جل اٹھی ہیں ابلاغ خیال کا کفن ہے ہر ساز کی آرزو تکلم ہر ساز سکوت پیرہن ہے

مزید پڑھیے

محفل کا نور مرجع اغیار کون ہے

محفل کا نور مرجع اغیار کون ہے ہم میں ہلاک طالع بیدار کون ہے ہم اپنے سائے سے تو بھڑک کر الف ہوئے دیکھا نہیں مگر پس دیوار کون ہے ہر لمحہ کی کمر پہ ہے اک محمل سکوت لوگو بتاؤ قاتل گفتار کون ہے گھر گھر کھلے ہیں ناز سے سورج مکھی کے پھول سورج کو پھر بھی مانع دیدار کون ہے پتھر اٹھا کے ...

مزید پڑھیے

آب و گیا سے بے نیاز سرد جبین کوہ پر (ردیف .. ا)

آب و گیا سے بے نیاز سرد جبین کوہ پر گرمی روئے یار کا عکس بھی رائیگاں گیا سطح پہ تازہ پھول ہیں کون سمجھ سکا یہ راز آگ کدھر کدھر لگی شعلہ کہاں کہاں گیا راز خرد ہو کچھ بھی اب راز جنوں تو یہ ہے بس آنکھ تھی بے بصر رہی تیر تھا بے کماں گیا عمر رواں کی منزلیں طول طویل مختصر آپ بھی ہم سفر ...

مزید پڑھیے

جو اترا پھر نہ ابھرا کہہ رہا ہے

جو اترا پھر نہ ابھرا کہہ رہا ہے یہ پانی مدتوں سے بہہ رہا ہے مرے اندر ہوس کے پتھروں کو کوئی دیوانہ کب سے سہہ رہا ہے تکلف کے کئی پردے تھے پھر بھی مرا تیرا سخن بے تہہ رہا ہے کسی کے اعتماد جان و دل کا محل درجہ بہ درجہ ڈھہ رہا ہے گھروندے پر بدن کے پھولنا کیا کرائے پر تو اس میں رہ رہا ...

مزید پڑھیے

دیکھیے بے بدنی کون کہے گا قاتل ہے

دیکھیے بے بدنی کون کہے گا قاتل ہے سایہ آسا جو پھرے اس کو پکڑنا مشکل ہے رگ ہر لفظ سے رستے ہوئے خوں سے گھبرا کر میں جو خاموش رہا سب نے کہا ''تو جاہل ہے'' تجربہ دل میں رہے تو کھلے آنسو بن بن کر اور کاغذ پہ چھلک جائے تو شمع محفل ہے جو بھری دنیا کی سنگین عجائب نگری میں اپنا سر آپ نہ ...

مزید پڑھیے

پتھر کی بھوری اوٹ میں لالہ کھلا تھا کل (ردیف .. ب)

پتھر کی بھوری اوٹ میں لالہ کھلا تھا کل آج اس کو نوچ لے گئیں وہ بچیاں جناب آنکھوں میں روشنی کی جگہ تھا خدا کا نام پاؤں تڑا کے مر رہے جاتے کہاں جناب ہم برگ زرد سبز خلاؤں میں چھپ گئے ہم کو ہوائے سرد تھی سنگ گراں جناب بوسے کے داغ سے ہے منور جبیں مگر جلتی پڑی ہے شمع سی پیاسی زباں ...

مزید پڑھیے

موسم سنگ و رنگ سے ربط شرار کس کو تھا

موسم سنگ و رنگ سے ربط شرار کس کو تھا لحظہ بہ لحظہ جل گئی درد بہار کس کو تھا سرحد آسماں کے پاس جال بچھے تھے ہر طرف کس نے کیا ہمیں اسیر شوق شکار کس کو تھا شمس و نجوم بے کراں ہفت فلک نبرد گاہ روشنیوں کی دوڑ میں پائے فرار کس کو تھا چشم شفق تھی خوں نشیں چہرۂ شب تھا تیغ تیز خواب پڑے تھے ...

مزید پڑھیے

کنار بحر ہے دیکھوں گا موج آب میں سانپ

کنار بحر ہے دیکھوں گا موج آب میں سانپ یہ وقت وہ ہے دکھائی دے ہر حباب میں سانپ وہ کون تھا مرا ہم زاد تو نہ تھا کل رات جب اس کے نام کو پوچھا کہا جواب میں سانپ اسے مظاہر ہستی سے سخت الفت تھی ملا وہ شخص چھپائے ہوئے نقاب میں سانپ گزشتہ رات مجھے پڑھتے وقت وہم ہوا ورق پہ حرف نہیں ہیں یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 822 سے 6203