قومی زبان

دست ضروریات میں بٹتا چلا گیا

دست ضروریات میں بٹتا چلا گیا میں بے پناہ شخص تھا گھٹتا چلا گیا پیچھے ہٹا میں راستہ دینے کے واسطے پھر یوں ہوا کہ راہ سے ہٹتا چلا گیا عجلت تھی اس قدر کہ میں کچھ بھی پڑھے بغیر اوراق زندگی کے پلٹتا چلا گیا جتنی زیادہ آگہی بڑھتی گئی مری اتنا درون ذات سمٹتا چلا گیا کچھ دھوپ زندگی ...

مزید پڑھیے

اجالا تیری یادوں کا

اجالا تیری یادوں کا مرے اطراف ہے پھیلا اسی کی روشنی سے میں ہماری زندگی کا محبت کا وفاؤں کا فسانہ لکھتی رہتی ہوں کبھی فرصت جو مل جائے تو آ کے اس کو پڑھ لینا مری بس اتنی خواہش ہے یوں ہی قائم رہے ہر دم اجالا تیری یادوں کا

مزید پڑھیے

گل زار میں وہ رت بھی کبھی آ کے رہے گی

گل زار میں وہ رت بھی کبھی آ کے رہے گی جب کوئی کلی جور خزاں کے نہ سہے گی انسان سے نفرت کے شرر بجھ کے رہیں گے صدیوں کی یہ دیوار کسی دن تو ڈھے گی جس باپ نے اولاد کی بہبود نہ سوچی اس باپ کو اولاد عیاں ہے جو کہے گی تو جون کی گرمی سے نہ گھبرا کہ جہاں میں یہ لو تو ہمیشہ نہ رہی ہے نہ رہے ...

مزید پڑھیے

فضائے صحن گلستاں ہے سوگوار ابھی

فضائے صحن گلستاں ہے سوگوار ابھی خزاں کی قید میں ہے یوسف بہار ابھی ابھی چمن پہ چمن کا گماں نہیں ہوتا قبائے غنچہ کو ہونا ہے تار تار ابھی ابھی ہے خندۂ گل بھی اگر تو زیر لبی رکا رکا سا ہے کچھ نغمۂ ہزار ابھی چمن تو خیر چمن ہے نوا گروں کو نہیں خود اپنی شاخ نشیمن پہ اختیار ابھی ابھی ...

مزید پڑھیے

دھڑکنیں بند تکلف سے ذرا آزاد کر

دھڑکنیں بند تکلف سے ذرا آزاد کر برملا ممکن نہیں دل میں کسی کو یاد کر زندگی اک دوڑ ہے تو سانس پھولے گی ضرور یا بدل مفہوم اس کا یا نہ پھر فریاد کر ہر خزاں کی کوکھ سے ہوتی ہے پیدا نو بہار دامن امید میلا اور نہ دل ناشاد کر بستیاں تو نے خلاؤں میں بسائیں بھی تو کیا دل کے ویرانوں کو ...

مزید پڑھیے

اب کسی شاخ پہ ہلتا نہیں پتہ کوئی

اب کسی شاخ پہ ہلتا نہیں پتہ کوئی دشت سے عمر ہوئی گزرا نہ جھونکا کوئی لب پہ فریاد نہ ہے آنکھ میں قطرہ کوئی وادئ شب میں نہیں ہم سفر اپنا کوئی خندۂ موج مری تشنہ لبی نے جانا ریت کا تپتا ہوا دیکھ کے ذرہ کوئی جادۂ شوق پہ کل لوگ تھے آتے جاتے اب شریفؔ اس پہ مسافر نہیں ملتا کوئی

مزید پڑھیے

تلاش جن کی ہے وہ دن ضرور آئیں گے

تلاش جن کی ہے وہ دن ضرور آئیں گے یہ اور بات سہی ہم نہ دیکھ پائیں گے یقیں تو ہے کہ کھلے گا نہ کھل سکا بھی اگر در بہار پہ دستک دیئے ہی جائیں گے غنودہ راہوں کو تک تک کے سوگوار نہ ہو ترے قدم ہی مسافر انہیں جگائیں گے لبوں کی موت سے بد تر ہے فکر و جذب کی موت کدھر ہیں وہ جو انہیں موت سے ...

مزید پڑھیے

قافلے گئے پھر بھی کچھ غبار باقی ہے

قافلے گئے پھر بھی کچھ غبار باقی ہے دید کا تری اب تک انتظار باقی ہے دل کو ٹوٹنا ہی تھا ٹوٹ کے وہ بکھرا بھی ہاں مگر ابھی تک کچھ یادگار باقی ہے ڈوبتی رہی کشتی ساگروں کی لہروں میں ساحلوں پہ تم ہوں گے اعتبار باقی ہے چاند خود مسافر ہے ساتھ کب تلک دے گا رہبروں کا اب بھی کیوں انتظار ...

مزید پڑھیے

خوشی کے یاس کے لمحے ہمیں رلاتے ہیں

خوشی کے یاس کے لمحے ہمیں رلاتے ہیں کہ زندگی میں نشیب و فراز آتے ہیں جلاؤ اپنے لبوں پر تبسموں کے دیے اندھیرے غم کے تو آتے ہیں اور جاتے ہیں کبھی جو دل میں وفا کے چراغ جلتے تھے مگر وہ آج کہاں روشنی لٹاتے ہیں جہاں بھی جاؤں وہاں پر سکوں نہیں ملتا ہر اک جگہ پہ نئے حادثے ستاتے ہیں جو ...

مزید پڑھیے

ترے سپنے مری نیندوں کے برابر کر دے

ترے سپنے مری نیندوں کے برابر کر دے تو مجھے اپنی وفاؤں سے معطر کر دے میری سانسوں کا یقیں آج ذرا ہونے دے رو بہ رو آ کے مجھے چین میسر کر دے جس نے ساحل کے ہر اک درد کو اپنایا ہے اے خدا تو مجھے ویسا ہی سمندر کر دے وقت دیتا ہے بڑا زخم تو بھرتا بھی ہے مسکرا کے تو ذرا خود کو گل تر کر دے در ...

مزید پڑھیے
صفحہ 817 سے 6203