بے مہریٔ قضا کے ستائے ہوئے ہیں ہم
بے مہریٔ قضا کے ستائے ہوئے ہیں ہم الزام زندگی کا اٹھائے ہوئے ہیں ہم حسن سلوک یار کا اعجاز کیا کہیں سو داغ ایک دل پہ اٹھائے ہوئے ہیں ہم اب کس سے لے قصاص زمانے میں منصفی اپنے لہو میں آپ نہائے ہوئے ہیں ہم پتھر کے اک صنم کو بہ صد ناز و طمطراق شیشے کے پیرہن میں چھپائے ہوئے ہیں ...