ہاتھ آتا تو نہیں کچھ پہ تقاضہ کر آئیں
ہاتھ آتا تو نہیں کچھ پہ تقاضہ کر آئیں اور اک بار گلی کا تری پھیرا کر آئیں نیند کے واسطے ویسے بھی ضروری ہے تھکن پیاس بھڑکائیں کسی سائے کا پیچھا کر آئیں لطف دیتی ہے مسیحائی پر اتنا بھی نہیں جوش میں اپنے ہی بیمار کو اچھا کر آئیں لوگ محفل میں بلاتے ہوئے کتراتے تھے اب نہیں دھڑکا یہ ...