اک جفا جو سے محبت ہو گئی
اک جفا جو سے محبت ہو گئی ہائے یہ کیسی حماقت ہو گئی ہو گیا جس پر مسیحا مہرباں بند اس کے دل کی حرکت ہو گئی آ گئی ان کی جوانی آ گئی ہو گئی برپا قیامت ہو گئی یہ تصور کی کرشمہ سازیاں دیکھا جس شے کو وہ عورت ہو گئی لیجے وہ اٹھی نگاہ التفات لیجے تکمیل حماقت ہو گئی جب نگاہ ناز کمسن کی ...