قومی زبان

مجھے جانے دو

’’مجھے جانے دو‘‘ اس نے کہا۔ اور جب تک میں اسے روکوں وہ ہاتھ چھڑا کر جا چکی تھی۔ اندھیرے میں اس کی آنکھوں کی ایک جھپک اور دہلیز پر پاؤں کے بچھوے کی ایک جھنک سنائی دی۔ وہ چلی گئی اور میں کوٹھڑی میں اکیلا رہ گیا۔ میں وہاں جانا نہ چاہتا تھا۔ میں اکثر اس مکان کے آگے سے گزرا تھا ...

مزید پڑھیے

عورت

ایک ایسا زمانہ آیا جب تمام کائنات پر عقل و شعور کی حکومت کار فرما ہو گئی اور جذبات یکسر معدوم ہو گئے۔ اس کی تفصیل یوں ہے: جب سماج اور قدرت پر انسان نے ایسا تسلط حاصل کر لیا کہ نظام معاشی میں کسی قسم کا خلل پیدا نہ ہو سکے اور حیات و ممات کے مسائل بھی تجربہ گاہوں میں حل ہو گئے تو سب ...

مزید پڑھیے

وہ دونوں

اندھیرے میں کچھ مردے چپ چاپ بیٹھے ہوئے تھے۔ اوپرموت کی ہلکی ہلکی تاریکی نور کی چٹانوں میں جم رہی تھی اور نیچے زندگی موریوں میں پگھل رہی تھی۔ ان میں سے ایک نے کہا، ’’آؤ اب ہم اس دنیا کی باتیں کریں جسے ہم ہمیشہ کے لئے چھوڑ آئے ہیں۔ دیکھو، مٹی کی بوباس کتنی تیز ہے کہ اب تک وہ ہم ...

مزید پڑھیے

میرا گھر

وہ گھر، جو گویا ملک کا پڑپوتا تھا۔ صوبے کے بیٹے شہر کے چھوکرے محلہ کا لڑکا۔۔۔ وہ بہت بڑا تھا۔ یہ نہ میرا گھر تھا نہ میرے باپ کا۔ بلکہ ایک سیٹھ کا مکان تھا، اس میں بہت سے کمرے تھے جس طرح مکڑی کے جالے میں بہت سے خانے ہوتے ہیں، بہت سے لوگ مکھیوں کی طرح ان کمروں میں رہتے تھے۔ ایک منزل ...

مزید پڑھیے

اندھا بھکاری

کلکتہ کا ایک مکروہ محلہ۔۔۔ پچھلے پہر کا وقت۔ جاڑے کی راتیں۔۔۔ ٹھنڈی ہوا کے جھکڑ۔ ہوا تاڑی اور بنگلا کی بدبو سے بوجھل ہو رہی ہے۔ گلیوں میں آبخوروں کے ٹکڑے، بوتلوں کی کرچیں، جھوٹے پتل اور انڈوں کے چھلکے بکھرے پڑے ہیں۔ طوائفیں منہ چھپائے سو رہی ہیں۔ تکیوں کے نیچے ان کی نسوانیت کی ...

مزید پڑھیے

زلزلہ

(کوہ آتش فشاں سکون و جمود کے عالم میں ہے۔ غالباً وہ عرصۂ دراز سے خوابیدہ ہے۔ کیونکہ اس کا جسم پتھرا گیا ہے اور شگافوں میں ببول کے درخت ابھر آئے ہیں۔ البتہ اس کی زندگی کی شہادت دھوئیں کی اس مسلسل لہر سے ملتی ہے جو چوٹی کے کسی نامعلوم درز سے نکل کر دم بھر کے لئے فضا پر حلقے بناتی ...

مزید پڑھیے

موت

وہ ایک اندھیری کوٹھری میں دم توڑ رہا تھا۔ یہ نہیں کہ کوٹھری میں روشنی نہ آسکتی ہو۔ مگر دروازہ اندر سے بند تھا، کھڑکی میں اندر سے چٹخنی لگی ہوئی تھی۔ روشن داں کے منہ پر ایک مکڑی نے بڑا ساجالا بن دیا تھا۔ جالے کے ارد گرد زندگی کی زنجیر، اندر موت کی کال کوٹھری۔ مرنے والا اکیلا ہے۔ ...

مزید پڑھیے

چاند تاروں کا لہو

جب تم اپنا جام اسکاچ سے بھرتے ہو یا جب تم جوتے کے تلے سے کیڑا مکوڑا کچل کر چلتے ہو یا پھر جب تم اپنی گھڑی دیکھتے ہو یا پھر جب تم اپنی ٹائی درست کرتے ہو اس لمحہ لوگ مر رہے ہیں شہروں میں جن کے عجیب نام ہیں گولیوں کی بوچھاڑ ہے آگ کے شعلوں میں گھرے ہوئے لوگ جنہیں یہ نہیں معلوم کہ آخر ...

مزید پڑھیے

خلائی دور کی محبت

اپنا خلائی سوٹ پہنے آنکھوں اور کانوں پر خول چڑھائے خلائی دور میں اپنی چمکدار اورخوبصورت آنکھوں سے وہ خلا کے کتنے ہی سیارے دیکھ چکی تھی۔ ہر رنگ کے آسمان ہر رنگ کی زمین! اور ہر رنگ کے ہزار روپ۔ اسے زمین سے دور خلائی مرکز میں رہتے ہوئے دس سال بیت گیے تھے۔ زمین میری پیاری زمین! اسے ...

مزید پڑھیے

انسان نما

رفیق پڑھائی مکمل کر کے نوکری کی تلاش میں مارا مارا پھرتا رہا لیکن کہیں بات نہ بنی۔ جہاں امید نظر آتی وہاں تنخواہ اتنی کم بتائی جاتی کہ وہ صحیح طرح کوشش بھی نہ کرتا۔ رفیق کے والد نے، جو پرچون فروش تھے، ایک سال بیٹے کی نوکری لگنے کا انتظار کیا اور دوسرے برس کے آغاز میں ہی رفیق کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6122 سے 6203