مجھے جانے دو
’’مجھے جانے دو‘‘ اس نے کہا۔ اور جب تک میں اسے روکوں وہ ہاتھ چھڑا کر جا چکی تھی۔ اندھیرے میں اس کی آنکھوں کی ایک جھپک اور دہلیز پر پاؤں کے بچھوے کی ایک جھنک سنائی دی۔ وہ چلی گئی اور میں کوٹھڑی میں اکیلا رہ گیا۔ میں وہاں جانا نہ چاہتا تھا۔ میں اکثر اس مکان کے آگے سے گزرا تھا ...