قومی زبان

خوش قسمت لڑکا

بوڑھی رحیمن ننھے حمید کا ہاتھ پکڑے گھر سے نکلی، دادی کے سوکھے ہاتھوں میں پوتے کی نرم نرم انگلیاں اس طرح تھیں جیسے خزاں دیدہ پتوں میں نودمیدہ کونپل! رحیمن کی کمر جھکی ہوئی تھی، چہرے پر جھریاں پڑی تھیں، آنکھوں کے گرد باریک باریک نشانات تھے، گال دانتوں کے نہ ہونے سے پچکے ہوئے ...

مزید پڑھیے

آم کا پھل

ساون کا مہینہ تھا۔ کالی کالی گھٹائیں جھوم جھوم کے اٹھتی اور ٹوٹ ٹوٹ کے برستی تھیں۔ ٹھاکر صاحب کے آموں کے باغ میں ٹپکا لگا تھا۔ لڑکے لڑکیاں اسی تاک میں رہتے کہ رحیمن کھٹک کی آنکھ بچے اور آم لے اڑیں۔ مگر وہ بھی سترا بہترا ہونے پر بھی اتنا ٹانٹھا تھا کہ اپنی ایک پلیا چھوٹے ...

مزید پڑھیے

بٹی

بِٹّی (Betty) کو الہ آباد شب میں ضرور پہنچنا تھا۔ لوسی کی سال گرہ تھی اوروہ اس کی سب سے بڑی دوست تھی۔ اس نے کئی بار گردن میں باہیں آویزاں کر کے اصرار کیا تھا، ’’بٹی دیکھوآنا ضرور۔ نہیں تو کالج کی چار برس کی دوستی ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گی۔‘‘ اس نے جواب میں لوسی کی نیلگوں ...

مزید پڑھیے

بیلوں کی جوڑی

رام جی سیٹھ کےآنے کی خبر نے چھیدی پور میں ایک ہل چل سی ڈال دی تھی۔ بوڑھا بالا، عورت مرد سب ہی دن میں کئی کئی بار ایک دوسرے سے ان کے متعلق گفتگو کرتے تھے۔ جھگڑو کوری نے مقدمہ بازی کم کردی تھی اور دن میں کئی کئی بار مالا جپنے لگا تھا۔ کھلاؤ بنئے نے سودی روپیہ چلانا بند کردیا تھا اور ...

مزید پڑھیے

ہار جیت

چھیدی پور کی اہیر ٹولی سے جو ملاہوا آموں کا باغ ہے اس میں بڑی چہل پہل تھی۔ نوبتیا اہیر کے یہاں رام گڑھ سے جو برات آئی تھی وہ اسی میں اتاری گئی تھی۔ متعدد چولہے روشن تھے۔ بڑی بڑی کڑھائیاں چڑھی تھیں۔ پوریاں ’’چھن رہی تھیں‘‘۔ ترکاریاں بنائی جارہی تھیں۔ براتیوں کے سامنے کیلے کے ...

مزید پڑھیے

نور و نار

’’آپ جو جی چاہے سمجھیں! گاؤں والے جو دل میں آئے کہیں! مگر میں اس پاجی کی نماز جنازہ نہ پڑھاؤں گا! ہرگز ہز نہ پڑھاؤں گا! میرا داماد سہی، مگر تھا تو وہ زانی، شرابی اور جواری!‘‘ مولانا اجتبیٰ نے سمدھی کو ڈیوڑھی میں کھڑے کھڑے جواب دیا اور گھر کا دروازہ دھڑاک سے بند کر لیا۔ اس دھڑاک ...

مزید پڑھیے

کفن

حمید و نصیر دونوں بھائی گلے میں باہیں ڈالے باپ کی لاش کے پاس بیٹھے رو رہے تھے اور ان کا ہنس مکھ چہرہ ان کی نظروں میں پھر رہا تھا۔ کیسا ہی غم ہو اپنے بچوں کو دیکھ کر کھل جاتے تھے۔ ان کے زرد جھری دار چہرے پر مسرت کی لہریں اسی طرح دوڑتی محسوس ہوتی تھیں جس طرح پھولی ہوئی سرسوں کے کھیت ...

مزید پڑھیے

پوتر سیندور

رامو اور اس کا خاندان اس وقت کیاری میں بھدئیں کا بیہن بیٹھا رہا تھا۔ اگست کی آخری تاریخیں تھیں، رات بھر خوب مینہ پڑا تھا۔ مٹی کی کچی دیواریں کٹ کٹ کر گر گئیں تھیں۔ پھونس کے چھپر بھیگ کر دوہرے ہوگئے تھے۔ گاؤں کے تالابوں، گڑھوں میں میلے، گندے پانی کی چادر اب بھی گر رہی تھی۔ مینڈھک ...

مزید پڑھیے

میخانہ

کلکتہ کی مشہور سڑک ہریسن روڈ پر ایک سربفلک عمارت کے بالائی حصے میں سیٹھ نتھومل اپنے چشم و چراغ چنومل کو کاروبار کے کچھ خاص گر بتارہے تھے۔ سیٹھ صاحب کے لباس کی وضع، چہرے کی قطع، توند کا گھیر، باتوں کا ہیر پھیر، غرض سارا ظاہر خاص ماڑواڑی تھا۔ مگر ڈرائینگ روم کا سامان، کوچ کرسیاں ...

مزید پڑھیے

پہرےدار

مسز رابرٹس گرل اسکول میں معلمہ تھیں۔ رہی ہوں گی کبھی اس قابل کہ کسی نے ان پر نظر ڈالی ہو۔ مگر اب تو ان کی صورت میں اور ایک چغادری مینڈک میں کوئی فرق نہ تھا۔ چہرے پر چھوٹی سی چپٹی ناک، موٹی سی گردن ذرا آگے کو نکلی ہوئی، چھوٹے چھوٹے ہاتھ پاؤں، مگر پیٹ اور اس کے اوپر کا حصہ ارے توبہ! ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6115 سے 6203