قومی زبان

کلیاں اور کانٹے

وہ تعداد میں نو تھیں۔ گوری، سانولی، گوارا اور ناگوار، بعض ان میں دل کش کہی جا سکتی تھیں مگر خوب صورت کوئی نہیں۔ سورج اسی طرف سے طلوع ہوتا تھا جس طرف سے وہ اپنی سفید ساریوں میں ملبوس طیور صبح کے چہچہوں کے ساتھ باکس اور ڈورینڈا کی جھاڑیوں کی اوٹ سے نکلتی دکھائی دیتی تھیں۔ ہر صبح ...

مزید پڑھیے

چپ شاہ

ننگ دھڑنگ، وہ سارے شہر میں گھومتے رہتے تھے، کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کون تھے اور کہاں سے آئے تھے۔ ان کے بارے میں ہر شخص ایک الگ کہانی بیان کرتا تھا۔ کوئی وہی روایتی کہانی سناتا کہ وہ ایک قبائلی سردارکے بیٹے تھے۔ کسی دوسرے قبیلے کے سردار کی بیٹی سے انہیں عشق ہو گیا تھا لیکن ان ...

مزید پڑھیے

میلہ گھومنی

کانوں کی سنی نہیں کہتا آنکھوں کی دیکھی کہتا ہوں۔ کسی بدیسی واقعے کا بیان نہیں اپنے ہی دیس کی داستان ہے۔ گاؤں گھر کی بات ہے۔ جھوٹ سچ کا الزام جس کے سر پر چاہے رکھیے۔ مجھے کہانی کہنا ہے اور آپ کو سننا۔ دو بھائی تھے چنو اور منو نام۔ کہلاتے تھے پٹھان۔ مگر نا نہال جولاہے ٹولی میں تھا ...

مزید پڑھیے

گاؤں کی لاج

۱۹۲۷ء کی بات ہے کہ لکھن پور میں دو زمیندار رہتے تھے۔ ایک کا نام تھا امراؤ سنگھ، دوسرے کا دلدار خاں۔ دونوں بدیشی راج کے خطاب یافتہ تھے۔ امراؤسنگھ کو انگریزوں نے رائے صاحب بناکر نوازا تھا اور دلدار خاں کو خاں صاحبی دے کر ممتاز کیا تھا۔ کہتے ہیں کہ ایک میان میں دو تلوار، ایک مملکت ...

مزید پڑھیے

ایک ماں کے دو بچے

کلکتے میں جو وہائٹ وے لیڈلا کی دکان ہے، اس میں ایک شریف مسلمان ترکی ٹوپی پہنے اور ڈھیلی ڈھالی شیروانی زیب تن کئے ایک بنڈل ہاتھ میں لئے دروازے کے پاس کھڑے سڑک پر گھبرائی ہوئی نظریں ڈال رہے تھے۔ اپریل کا مہینہ تھا اور وہ زمانہ، جب ہر جاہل ہندومسلمان خواہ مخواہ ایک دوسرے کے خون کا ...

مزید پڑھیے

لاٹھی پوجا

ہریا لاٹھی پر ٹیک لگائے آم کے باغ میں کھڑی تھی۔ چار بج چکے تھے۔ مگر اب تک لو چل رہی تھی۔ دھوپ ہریا کے کندنی رنگ کو تپاکر گلابی بنا رہی تھی۔ جسم میں شعلے سے لپٹتے محسوس ہوتے۔ کھیتوں میں سے ایک سیاہی مائل لہر سی اٹھتی اور باغ کی طرف دوڑتی دکھائی دیتی۔ ہوا کہ ان جھونکوں سے باغ کی ...

مزید پڑھیے

بدلہ

پلیٹ فارم کا شور، گاڑی کی گھڑگھڑاہٹ۔ انجن کی بھک بھک۔ ’’قلی! قلی!‘‘ ’’اے بکس اس برتھ پر رکھو، بستر اس سیٹ پر۔‘‘ ’’شالا بیٹا دو آنہ مزدوری کم بتاتا ہے۔‘‘ ’’ام ایک آنہ سے زیادہ نہ دیگا امارا ملک میں ایک آنہ کا اخروٹ بہت ملتا ہے، بہت!‘‘ ’’میں کہتا اوں بالکل اندا اوگیا۔ ...

مزید پڑھیے

باسی پھول (۱)

وہ اپنے چھتے پر کھڑی محو نظارہ تھی اور میں اپنی کھڑکی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ ہمارے درمیان صرف ایک دوگز چوڑی گلی تھی۔ اور دونوں کوٹھوں کے نیچے دوکانداروں اور آنے جانے والوں کا مجمع، گو اس کے کوٹھے کے سامنے چلمن پڑی تھی۔ لیکن وہ اس کے بوٹے قد، چھریرے بدن اور آفتابی چہرے کو مجھ سے نہ ...

مزید پڑھیے

حسنِ رہ گزر

بھائی افتخار! اب کے تمہارے ہاں کے قیام میں جو لطف ملا۔ وہ ساری عمر نہ بھولوں گا۔ عمدہ سے عمدہ غذائیں جسم کے لیے اور افضل سےافضل مباحث دماغ کے لیے۔ روحانی لذتیں تمہارے سرد پا خلوص میں تھیں۔ بھابی کی میٹھی باتوں میں تھیں۔ اور بچوں کے پیارے چہچہوں میں۔ کن کن نعمتوں کو سراہوں، ہر ...

مزید پڑھیے

نئی ہمسائی

نئی ہمسائی جب سے بغل والے مکان میں تشریف لائیں میں نے اپنے اور ان کے مکان کی درمیانی کھڑکی بند کرادی۔ میں یہ نہیں پسند کرتا تھا کہ میری بیوی ان کی طرح کی عورتوں سے میل جول بڑھائیں۔ میں خود ان کے ’’میاں‘‘ سے ملنے میں زیادہ قباحت نہیں سمجھتا تھا۔ مردوں کی ’’علیک سلیک‘‘ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6114 سے 6203