قومی زبان

پرندے کا سایہ

ماہر نفسیات عزیز شریفی نے بیگم فردوس کے کیس کی پیروی کی فائل اٹھائی اور کیس کا شروع سے مطالعہ کرنے لگے۔ گذشتہ کئی روز سے بیگم فردوس ان کے زیر مشاہدہ تھیں۔ چنانچہ ان کی شخصیت کے بعض خصائل شریفی کی نگاہ میں آچکے تھے۔ بادی النظر میں بیگم فردوس کا کیس پیچیدہ تو نہ تھا، مگر اس قدر ...

مزید پڑھیے

چوپال میں سنا ہوا قصہ

گاؤں کی چوپال ویران پڑی ہوئی ہے۔ پوہ کی رات ہے۔ برفیلے جھونکوں سے برگد پر ٹنگی قندیلیں جھول جھول جاتی ہیں.....ایک بوڑھا گاؤں سے دور چلا جاتا ہے۔ ایک ہاتھ میں اس کے فاختہ ہے اور دوسرے میں کتاب۔ پیچھے پیچھے اس کے ایک گدھا چلا جاتا ہے، پیٹھ پر جس کی ایک صندوق لدا ہوا ہے اور وہ صندوق ...

مزید پڑھیے

جہاز پر کیا ہوا؟

موٹرویسل گاندھی (Motor Vessel Gandhi) نام کا جہاز صوبہ گجرات کی مشہور بندرگاہ کانڈلہ سے، صبح سات بجے صوبہ بنگال کے تاریخی شہر کلکتہ کی جانب روانہ ہوا تھا۔ بحیرۂ عرب کی موجوں میں ہلکا سا تلاطم تھا، ذرا تیز ہوا بہہ رہی تھی، اکادکا سمندر پرندے جہاز کا طواف کرتے اب بھی دیکھے جاسکتے تھے۔ ...

مزید پڑھیے

گائے

ایک روز انہوں نے مل کر فیصلہ کیا تھا کہ اب گائے کو بوچڑ خانے میں دے ہی دیا جائے۔ اب اس کادھیلا نہیں ملنا۔ ان میں سے ایک نے کہا تھا۔ ان مٹھی بھر ہڈیوں کو کون خریدے گا۔ لیکن بابا مجھے اب بھی یقین ہے۔ اگر اس کاعلاج باقاعدگی سے۔ چپ رہو جی۔ بڑے آئے عقل والے۔ نکا چپ کر کے ایک طرف ...

مزید پڑھیے

ایک محبت کے بارے میں

ایک قدیم کہانی کو دہرانے کے درمیان مفروض حریف سے لڑتے ہوئے اداکار اس تلوار سے اچانک شدید زخمی ہوگیا جو صرف اداکار ، حریف اور تماشائیوں کے تصور میں تھی۔ اس پرحریف ہی نہیں تماشائی بھی حیران تھے۔ پسلیوں کے درمیان راستہ بناتی ہوئی تلوار سیدھی اداکارکے سینے میں ایسے اتری تھی جیسے ...

مزید پڑھیے

کچے شہتوت

بہار کے شروع شروع کے دن تھے۔ ہوا کے جھونکوں میں ہرطرف پھولوں کی مہک ایسے بسی تھی جیسے قدرت نے آسمان سے زمین پر چاروں طرف ائیر فریشنر سے اسپرے کر دیا ہو۔۔۔ یہ جن دنوں کا ذکر ہے میں شاید آٹھویں کے امتحان سے فارغ ہو کر نویں کلاس کی تیاری میں مگن تھا۔۔۔۔ عجب عمر تھی اور عجیب دن۔۔۔ ...

مزید پڑھیے

سوروں کے حق میں ایک کہانی

بہت بلندی سے ایک پہاڑی اترتی ہے۔ جس طرح مسجدِ جامع کی دھلی دھلائی سیڑھیاں متانت کے ساتھ قاضیِ شہر کے پاپوش چومتی ہوئی، نیچے عامتہ الناس کی دھواں لپٹی دنیا میں اتر رہی ہوں۔ ٹھیک اسی طرح ایک پہاڑی اترتی ہے۔ تو شام کے جھٹپٹے میں اور کبھی دھند میں شاید کئی لاکھ فیٹ کی بلندی سے ...

مزید پڑھیے

کوکون

اے اے میری کچھ نہیں تھیں۔ نہ ماں، نہ رشتے دار۔ وہ بس میری ماں کی سہیلی تھیں۔ یہ دونوں کسی اور شہر میں (میرے پیداہونے سے بہت پہلے) پاس پاس کے گھروں میں رہتی تھیں۔ میں کچھ ہی مہینے کا تھا تو میرے باپ نے، نہ معلوم کیوں، میری ماں کو مار ڈالا۔ (میرے باپ کا نام اے اے نے بہت دنوں تک مجھے ...

مزید پڑھیے

باسودے کی مریم

مریم کے خیال میں ساری دنیا میں بس تین ہی شہر تھے۔ مکہ، مدینہ اور گنج باسودہ۔ مگر یہ تین تو ہمارا آپ کا حساب ہے، مریم کے حساب سے مکہ، مدینہ ایک ہی شہر تھا۔ ’’اپنے حجور کا شہر۔‘‘ مکے مدینے سریپ میں ان کے حجور تھے اور گنج باسودے میں اُن کا ممدو۔ ممدو اُن کا چھوٹا بیٹا تھا۔ اس کے ...

مزید پڑھیے

ایک بے خوف آدمی کے بارے میں

کشور خان چنگلی وال میرا ساتھی ہے۔ ہم دونوں بندرگاہ پر کام کرتے تھے۔ ہم دونوں ہی شہروں کی اس تھکی ماندی دلہن۔۔۔ کراچی۔۔۔ کے گرفتار ہیں۔ دونوں اپنی اپنی زادبوم سے آکر یہاں بس گئے اور اس خوب صورت، بدصورت، مشکل، من موہنے، سفاک اور چہیتے اور جادو بھرے شہر کے دامِ محبت میں اس طرح ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6112 سے 6203