قومی زبان

پنجاب کا دوپٹہ

جب آدمی میری عمر کو پہنچتا ہے تو وہ اپنی وراثت آنے والی نسل کو دے کر جانے کی کو شش کرتا ہے۔ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں، جو انسان بد قسمتی سے ساتھ ہی سمیٹ کر لے جاتا ہے۔ مجھے اپنی جوانی کے واقعات اور اس سے پہلے کی زندگی کے حالات مختلف ٹکڑیوں میں ملتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اب وہ آپ کے ...

مزید پڑھیے

شہر جو کھوئے گئے

کوئی جو مجھ سا ہو اور مجھ پر بس ترس نہ کھائے کہ میں بالآخر اس قوم سے ہوں جس کی دانش وری اس کے ساتھ مرجائے گی۔ (لوئی زوکو فسکی) زمین کے اندر سے ایک شہر نکلا۔ اتفاقاً کوئی کدال جا ٹکرایا اور زمین کے سینے میں سے، ریت کی تہوں میں چھپی ہوئی دیواریں، برابر چنی ہوئی اینٹوں کی ...

مزید پڑھیے

اسپائڈر مین

ایک بار پھر وہ شہر میں کامیابی کے نئے جھنڈے گاڑ رہا ہے، زندگی کے قد سے بھی بڑا پراسرار، سرخ و نیلگوں نقاب میں اپنے جالے تانتے ہوئے جالوں کے الجھاوں میں اس طرح سے گزرتے ہوئے جیسے اس شہر کا آسمان بھی بس ایک دیوار ہو جس پر وہ سیدھا چلتا چلا آئے۔ وہ بند گلیوں کھردری، سنگلاخ ...

مزید پڑھیے

کہر

اسے کسی نے نہیں بلایا۔ وہ پھر بھی آگئی۔ دروازہ کھلتے ہی اندر گھسنے لگی۔ دروازہ کھلنے سے بھی پہلے، دروازے میں چابی کے سوراخ سے دکھائی دے رہا تھا۔۔۔ وہ گھر کے باہر والے برآمدے میں ٹھہری ہوئی ہے۔ رکی ہوئی ہے اور انتظار کر رہی ہے۔ انتظار کر رہی ہے کہ دروازہ کھلے اور وہ اندر آجائے، ...

مزید پڑھیے

اوپر والیاں

شام کا وقت بخار کا وقت تھا۔ اب یہ بچوں والی بات ہوکر رہ گئی تھی کہ شامیں وہ شامیں نہ رہی تھیں۔ ان کا سہانا پن رخصت ہو چکا تھا۔ یہ نہیں کہ چڑیوں کا بھرا مارکر اڑنا، پیڑ میں جمع ہو کر شور مچانا اور ٹھنڈی خنک چھاؤں کا پیڑ سے لپٹ کر زمین پر پھیلنا ختم ہو چکا تھا۔ یہ سب بھی تھا اور اس کے ...

مزید پڑھیے

ناقۃ اللہ

’’چنانچہ ہم نے قوم ثمود کو اونٹنی کا صریح معجزہ دیا، پھر بھی انہوں نے نہ مانا اور اسے ستایا یہاں تک کہ اس کو ہلاک کردیا۔۔۔‘‘ القرآن ۱۷/۱۵۔۔۔ ۵۹ اونٹنی کھلا معجزہ تھی۔ آؤ تم سے بہت عمدہ قصہ بیان کریں کہ اس سے پہلے تم اس سے بے خبر تھے۔ کندھوں پر اس نے چادر لپیٹی اور بستی والوں کو ...

مزید پڑھیے

ستارہ غیب

میز پر بساط بچھی ہوئی تھی، ہم چاروں اس کے گرد جمع تھے اور بازی شروع ہونے والی تھی۔ یہ ہمارا روزانہ کا معمول تھا۔ ہم رات کے وقت کھیلتے تھے، کیوں کہ دن میں اپنی اپنی ذمہ داریاں سنبھالنی ہوتی تھیں۔ اپنا دن ہمیں دنیا کو دینا پڑتا تھا تب کہیں جا کر رات آزاد ملتی تھی کہ اپنی اندرونی ...

مزید پڑھیے

سمندر کی چوری

ابھی وقت تھا۔ پانی اور آسمان کے بیچ میں روشنی کی وہ پہلی، کچی پکی، تھرتھراتی ہوئی کرن پھوٹنے بھی نہ پائی تھی کہ شہر والوں نے دیکھا سمندر چوری ہوچکا ہے۔ دن نکلا تھا نہ سمندر کے کنارے شہر نے جاگنا شروع کیا تھا۔ رات کا اندھیرا پوری طرح سمٹا بھی نہیں تھا کہ اندازہ ہونے لگا، ایسا ...

مزید پڑھیے

ویلنٹائن

خاموشی اتنی تھی کہ رونے کی آواز سنائی نہیں دی۔ یا پھر شاید وہ رو نہیں رہا ہوگا، بے آواز سسکیاں بھر رہا ہوگا جس وقت میں گھر میں داخل ہو رہا تھا۔ میں نے سنا ہی نہیں۔ میں اندر آ رہا تھا۔ شام ڈھل رہی تھی۔ اس روز بھی دفتر سے اٹھتے اٹھتے دیر ہوگئی تھی۔۔۔ نہیں معلوم کہ یہ خدا کی مار ...

مزید پڑھیے

سمندر کی بیماری

شہر کے ساتھ والا سمندر پہلی مرتبہ اپنی ماں کی طرح اس دن لگا جب اس نے میرا گلا دبانا شروع کیا۔ آدھی سے زیادہ رات گزرنے کے بعد ڈھائی، پونے تین بج رہے ہوں گے۔ یعنی وہ گھڑی گزر چکی تھی جب میری بے خوابی عام راتوں میں عروج پر ہوتی ہے۔ پورے دن کی تھکن اور نیند سے محروم باقی ماندہ رات کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6104 سے 6203