قومی زبان

آدم خور

کہانی تو ہم سب کے اندر سمندر کی لہروں کی طرح ابھرتی ڈوبتی رہتی ہے ۔ سمندر میں میں ہوں / مجھ میں سمندر / بارش کی بوندیں سمندر میں / اور سمندر بارش کی بوندوں میں / مجھے قریب سے دیکھو / پہچانو / ابھرتی ڈوبتی لہریں تم سے کیا کہہ رہی ہیں ؟ آدمی ، سانپ سے بھی زہریلا آدمی - آدمی ، ہرے بھرے ...

مزید پڑھیے

گلیڈی ایٹر

چِتا بھڑبھڑاتی رہی۔ کومیلا اسے دیکھتے ہوئے پتہ نہیں کیا سوچنے لگی۔ رات کو اور بھی گھنا ہوتے دیکھ کر بولی، لوگ کب کے لوٹ گیے۔ تم بھی جاؤ۔ مجھے پتہ نہیں کب تک رکنا پڑے۔۔۔ وہ دور تک ہو آئی، یہ کہتا تھاچتا ٹھنڈی ہونے تک پاس بیٹھی رہنا۔ کومیلا رات کی آتما میں جھانکنے کے لیے ...

مزید پڑھیے

بتی بجھنے تک

وہ گیٹ پر پہنچ کر رک گیا۔ مورے پاپ ہرو پربھو جی! مورے پاپ ہرو اس نے پارک سے آتی آواز پر کان لگا دیے۔ ’’رُک کیوں گیے؟ اندر چلو۔‘‘ ’’اندر! اندر کیا دھرا ہے؟‘‘ وہ ہڑبڑا گیا۔ ’’روز یہاں آنے کو کہتے۔ ست سنگ کا گن گان کرتے نہ تھکتے۔‘‘ ’’تم ٹھیک کہتے ہو۔‘‘ وہ پھر کیرتن کے ...

مزید پڑھیے

شوکیس والا گڈا

کل رات تک وہ سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ اتنی سی بات اس کے من کے موسم کو اس طرح تِتّر بتّر کر دے گی۔ کل رات اسے بچپن کی گھٹنا یاد آئی۔ بمبُو کے ساتھ کھیلتے ہوئے اس کا گڈّا ٹوٹ گیا، بمبُو اُداس ہو گئی۔ ’’رنجنا تمہارا گڈّا!‘‘ اس نے بمبُو کو جملہ پورا نہیں کرنے دیا۔ اسے بازو سے پکڑ کر ...

مزید پڑھیے

لہو اور کول تار

اس کے کمرے میں داخل ہوتے ہی وہاں پھیلی فضا کو سراپا زبان بنے دیکھ کر لگا اس کے پاس لانے والا بوڑھا شاعر مجھے پھر سےسمجھانے لگا ہے۔۔۔ ماڈرن کھنڈر میں کوئی دل کشی نہیں ہو سکتی۔ اسے تو گرنا تک نہیں آتا۔ اسے دیکھنے جانا اور اس میں گھومنا خطرے سے خالی نہیں۔ کسی سیّاح کو اپنے میں دل ...

مزید پڑھیے

پرساد

آج کی بات اور ہے۔ اس شام آسمان اتنا لال نہیں تھا۔ پھر بھی اس نے خون چکھ لیا تھا۔ ’’مجھے وشواس ہے اوپر گھور یُدھ شروع ہوگیا ہے۔‘‘ اپنے دفتر کی کھڑکی سے دور تک دکھائی دیتے کٹے پھٹے بادلوں پر نظریں جمائے بیٹھے ’آندولن‘ کے مالک مکتی بودھ کا چہرہ گمبھیر ہوگیا۔ ’’اب آکاش اور ...

مزید پڑھیے

ایک ٹانگ کی گڑیا

اس دن میں بہت اداس تھا۔ اپنے آخری دنوں میں وہ بھی اداس رہنے لگا تھا۔ ان د دنوں اس کے مریدوں کی بھیڑ چھٹ گئی تھی۔ وہ ان کی طرف دھیان جو نہ دیتا۔ ان کی بجائے وہ اپنے کتے میں زیادہ دلچسپی لینے لگا تھا۔ میرا خیال تھا اوگھڑ پیر کو اپنے لنگڑا ہونے کا کوئی غم نہیں۔ لیکن اس کے آخری ...

مزید پڑھیے

ٹوٹے ہوئے تارے

رات کی تھکن سے اس کے شانے ابھی تک بوجھل تھے۔ آنکھیں خمار آلودہ اور لبوں پر تریٹ کے ڈاک بنگلے کی بیئر کا کسیلا ذائقہ۔ وہ بار بار اپنی زبان کو ہونٹوں پر پھیر کر اس کے پھیکے اور بے لذّت سے ذائقے کو دور کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ گو اس کی آنکھیں مندی ہوئی تھی، لیکن پہاڑوں کے موڑاسے اس ...

مزید پڑھیے

شہزادہ

سدھا خوبصورت تھی نہ بدصورت، بس معمولی سی لڑکی تھی۔ سانولی رنگت، صاف ستھرے ہاتھ پاؤں، مزاج کی ٹھنڈی مگر گھریلو، کھانے پکانے میں ہوشیار۔ سینے پرونے میں طاق، پڑھنے لکھنے کی شوقین، مگر نہ خوبصورت تھی نہ امیر، نہ چنچل، دل کو لبھانے والی کوئی بات اس میں نہ تھی۔ بس وہ تو ایک بے حد ...

مزید پڑھیے

کنواری

میگی ایلئیٹ ۸۰ برس کی پروقار خاتون ہیں، بڑے قاعدے اور قرینے سے سجتی ہیں۔ یعنی اپنی عمر ، اپنا رتبہ، اپنا ماحول دیکھ کر سجتی ہیں۔ لبوں پر ہلکی سی لپ اسٹک، بالوں میں دھیمی سی خوشبو، رخساروں پر روژ کا شائبہ سا، اتنا ہلکا کہ گالوں پر رنگ معلوم نہ ہو، کسی اندرونی جذبے کی چمک معلوم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6046 سے 6203