لہو اور کول تار

اس کے کمرے میں داخل ہوتے ہی وہاں پھیلی فضا کو سراپا زبان بنے دیکھ کر لگا اس کے پاس لانے والا بوڑھا شاعر مجھے پھر سےسمجھانے لگا ہے۔۔۔ ماڈرن کھنڈر میں کوئی دل کشی نہیں ہو سکتی۔ اسے تو گرنا تک نہیں آتا۔ اسے دیکھنے جانا اور اس میں گھومنا خطرے سے خالی نہیں۔ کسی سیّاح کو اپنے میں دل چسپی لیتے دیکھ کر اس کا وجود پھولنے لگے اور اس کے درو دیوار مزید مسماریت کے عمل میں داخل ہوجائیں گے۔ کہیں ہم اس کی گرتی ہوئی اینٹوں کی زد میں نہ آجائیں۔۔۔لیکن میں اسی کی خاطر یہاں آیا ہوں۔ اس سے ملے بغیر واپس نہیں جاسکتا۔۔۔ تم اسے نہیں جانتے، تم ماڈرن کھنڈر کی خودنمائی اور خود بینی سے واقف نہیں ہو۔ اسے دوبارہ اپنی اہمیت کے وہم میں ڈالنا خطرناک ہے۔ تہذیب کو مشکل سے سانس لینا نصیب ہوا ہے۔ اگر وہ دوبارہ تمدن کی گردن پر سوار ہوگیا تو۔۔۔

’’تم اس ملگجی روشنی کا خیال چھوڑ کر میری طرف دیکھو۔‘‘ میں اپنے بوڑھے ساتھی کو چھوڑ کر اس کی سننے لگا جو چارپائی پر لیٹا ہوا کچھ کہنے کے لیے بیتاب تھا۔ ’’میں پھر کہتا ہوں مام نے ادب کو ذرا بھی آگے نہیں بڑھایا۔‘‘ پتہ نہیں اس نے پہلی بار یہ بات کب کہی تھی اور کس لیے کہی تھی۔ ’’وہ بہت ہلکا اور پست قد ادیب تھا۔‘‘ مجھے یقین ہوگیا وہ مجھ سے متعارف ہونے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔

’’تم سمرسٹ کا ذکر کررہے ہو۔‘‘ اسے دفعتاً انگریز ناول نگار پر رائے اگلتے سن کر میں ہڑ بڑا گیا۔

’’دنیا میں آج تک مام کے نام سے کسی اور نے بھی لکھا ہے؟ پتہ نہیں لوگ جملے ضایع کرنے کا شوق کیوں پالتے ہیں۔ میں تو۔۔۔‘‘ وہ جملے کو ادھورا چھوڑ کر بوڑھے شاعر کی طرف دیکھتا ہوا بیزاری کا اظہار کرنے لگا۔

’’ہم تو تمہاری صحت کا پوچھنے آئے تھے۔ یہ سب باتیں کسی او روقت بھی ہو سکتی ہیں۔‘‘ بوڑھا بات کو ٹالنے لگا۔

’’میری صحت کی بابت تم پہلے ہی جانتے ہو۔ تمہارے سامنے سب کچھ ہوا ہے۔‘‘ لگتا تھا وہ روحانی کوفت میں مبتلا تھا۔ ’’تم ہی کہو گئی ہوئی چیز واپس ہاتھ آتی ہے؟‘‘ وہ تڑپنے لگا،’’جو تلف ہوچکا ہے۔۔۔‘‘

’’تو میں چلتا ہوں۔‘‘ بوڑھا دہشت زدہ سا اٹھ کھڑا ہوا۔

’’مجھے بھی اجازت دو۔‘‘ میں بھی کرسی چھوڑنے لگا۔

’’تم بیٹھو۔ تم نے تو ابھی۔۔۔‘‘ وہ مجھے متجسس نظروں سے دیکھتا ہوا اس سے بے نیاز ہوگیا، ’’مجھے اچھی طرح دیکھنا چاہتے ہو تو دوسرا بلب جلا دو۔۔۔ یہ بشاشت صرف میرے چہرے تک ہے۔ باقی سب۔۔۔‘‘ اس نے فقرے کا باقی حصّہ پھر نگل لیا۔ واقعی وہ سر سے لے کر گلے تک کا آدمی تھا۔ اب تک اس کے چہرے اور آنکھوں کے سوائے جسم کے کسی دوسرے انگ نے حرکت نہیں کی تھی۔

’’تم نے اب بھی مجھے غور سے نہیں دیکھا۔‘‘ وہ رنجیدہ ہونے لگا اور میں حیرت میں ڈوبا ہوا اسے ڈھونڈنے لگا۔ میں نے دیکھا اس کی ٹانگیں لکڑی کے ڈنڈے دکھائی دیتی تھیں۔ گھٹنوں اور پاؤں کے زخموں سے نکلا ہوا خون ان میں گڑی کیلوں کے سر پر جم کر سیاہ پڑگیا تھا۔ البتہ ہاتھوں میں سے خون ابھی تک رس رہا تھا اور سینے میں گڑی کیل بالکل تازہ نظر آتی تھی۔

’’یہ سب کیسے ہوا؟‘‘ میں نے آسیب زدہ آواز میں پوچھا۔

’’یہ سب کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘ وہ نفرت بھرے لہجے میں بولا، ’’تم نے اپنا قد دیکھا ہے کبھی وہاں کھڑے ہوکر اپنی اونچائی تو ناپو۔‘‘ اس نے اسٹیل کی الماری کے دروازے پر لگے قدِ آدم آئینے کی جانب اشارہ کیا اور میرے کرسی چھوڑتے ہی شیطانی ہنسی ہنسنے لگا۔ ذرا بھی حیا یا تردد نہیں کمبخت کو۔ مجھے اس حالت میں پڑا دیکھ کر شرم بھی نہیں آتی۔ ہو آؤ میاں۔ ناپ آؤ اپنا جثہ۔‘‘ میرے ٹھٹکتے ہی وہ سنجیدہ ہوگیا، ’’میری بات کا برا مت مانو۔ نیم مصلوب آدمی کا ذہن اسی طرح پر اگندہ ہوجاتا ہے۔ میرا مطلب تھا اپنا حدود اربعہ جان لینا آسان نہیں۔‘‘ وہ چائے لے کر آئی اپنی بیوی کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگا۔

’’چائے پینے سے پہلے ان سے متعارف ہونا نہ بھولنا۔ ورنہ حدود اربعہ والی بات سمجھ میں نہیں آئے گی۔‘‘ لیکن میرے کچھ کہنے سے پہلے ہی پگھلتی ہوئی موم کی گڑیا کمرے سے باہر جا چکی تھی۔ ’’بڑی نیک عورت ہے ۔ جلتی ہوئی قندیل سے زیادہ پارسا چیز دوسری نہیں ہوسکتی۔ کاش میں نے اس حالت کو پہنچنے سے پہلے اس کی سنی ہوتی۔‘‘ اس نے آہ بھری۔ ’’کیا تم شادی شدہ ہو۔‘‘ میرے جواب کا انتظار کیے بغیر ہی وہ آگے کہنے لگا۔ ’’بیوی سے زیادہ وفادار اور بے شعور ہستی اس دنیا میں اور کوئی نہیں ہے۔‘‘ اس نے آنکھیں میرے چہرے پر گاڑدیں۔ ’’وہی تمہیں تمہارا حدود اربعہ بتا سکتی ہے۔ لکشمن ریکھا میں قید خاوند ہی اس کی خواہش ہوتا ہے۔ اچھا کیا جو تم نے شادی نہیں کی۔‘‘ وہ میری بابت قیافہ لگا کر اطمینان سے بھر گیا۔ میں نے اس کی بے ربط سی باتوں کی تہہ میں اترتے ہوئے چائے کی پیالی اس کے ہاتھ میں تھما دی۔

’’خیر، تم یہ بتاؤ کہ مام کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘ اس نے ایک گھونٹ سُڑک کر پیالی میز پر رکھ دی اور مجھے خاموش بیٹھا دیکھ کر مسکرانے لگا،’’تم ذہین آدمی ہو۔ کوئی بھی ذہین آدمی مام کو کوئی رتبہ نہیں دے سکتا۔ اب اس بوڑھے کو کبھی ساتھ نہ لانا۔‘‘ ۔اس کا چہرہ پھر سخت ہونے لگا۔

’’مگر مجھے تمہارے پاس۔۔۔‘‘

’’ٹھیک ہے تمھیں میرے پاس وہی لایا ہے لیکن اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ وہ اپنے آپ کو سنبھالنے لگا۔’’میں ابھی تک پوری طرح مصلوب نہیں ہوا۔ میری تیز رفتاری نے مجھے اس حالت میں ضرور پہنچا دیا ہے۔‘‘ اس نے بات کا رخ بدل دیا۔ پھر بھی وقت کے پاس ہر زخم کا مرہم ہے۔ وہ گھناؤنے سے گھناؤنا پاپ دھو ڈالتا ہے۔ بلند بانگی تو کوئی ایسی بات بھی نہیں۔‘‘ اس کی آنکھوں میں امید تیرنے لگی۔ ’’تم کمرے میں داخل ہوئے اور میرے زخموں کا درد کم ہونے لگا۔ اپنی زیارت کو آئے ہوئے کو دیکھ کر۔۔۔‘‘ وہ رک گیا۔ ’’ذرا میری ٹانگوں میں گڑی کیلیں تو نکال دو۔ شایدان میں زندگی کی کوئی چنگاری بچی ہوئی ہو۔‘‘ مجھے اپنی جگہ سے اٹھتے دیکھ کر وہ اعتماد سے بھرنے لگا۔ ’’چنگاری کو پھر سے شعلہ بنتے دیر نہیں لگتی۔‘‘ ٹانگوں کو آزاد ہوا دیکھ کر وہ چیخنے لگا، ’’بیوی جیسی بیوقوف ہستی دنیا میں دوسری کوئی نہیں ہوتی۔ وہ ہار کر آئے خاوند کا سواگت کرتی ہے اور اسے اسی حالت میں بنائے رکھنے میں خوش رہتی ہے۔ اس نے میرے لاکھ کہنے پر بھی میری ٹانگوں سے کیلیں نہیں نکالیں۔ دوسروں کی طرح یہ بھی کہتی ہے یہ اب لکڑی کے ڈنڈوں سے بھی گئی گزری ہوگئی ہیں۔‘‘

مجھے اپنی ٹانگوں میں چنگاری ڈھونڈھتے دیکھ کر وہ ملتجی ہوگیا، ’’لگے ہاتھوں میرے سینے میں گڑی میخ بھی نکال دو۔ مجھے یقین ہے میرے دل کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ کیل اس سے ذرا ہٹ کر ہی اندر گئی ہے۔‘‘ مجھے اپنا کہنا مانتے دیکھ کر وہ خوشی سے پاگل ہوگیا۔ ’’اس عورت کو بلاؤ جو میرے غم میں گھلتی ہوئی بھی میرا اسی حالت میں پڑے رہنا پسند کرتی ہے۔‘‘ اس کی آواز سن کر راکھ ہوتی ہوئی شمع جھپ سے اندر آگئی اور اس کی ٹانگوں اور سینے کو آزاد ہوا دیکھ کر سن رہ گئی۔ ’’آپ نے یہ کیا کردیا؟ آپ نہیں جانتے۔ آپ اسے نہیں جانتے۔ اسے دوبارہ کھڑا ہونا راس نہیں آئے گا۔ اسے یوں ہی آدھا ادھورا رہنا چاہیے ورنہ میں کہیں کی نہ رہوں گی۔ آپ کا سہارا پاکر یہ پھر اپنے حدود ربعہ کو پھلانگ۔۔۔‘‘

’’تمہارا ڈر بے بنیاد ہے۔‘‘ وہ رک کر بولا۔

’’حدود اربعہ کو پار کرنے والی بات کیا غلط ہے؟‘‘ قندیل پھڑ پھڑانے لگی۔ ’’جو کچھ ہوچکا ہے وہ کم نہیں۔‘‘

’’کبھی درست تھی مگر اب بالکل غلط ہے۔ کیا اتنا عرصہ نرک بھوگ کر بھی میں نے کچھ نہیں سیکھا۔‘‘ وہ الفاظ کو چبانے لگا۔ ’’تم نے میرا دُکھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ جس غم نے تمھیں آدھا کردیا کیا میں اسے بھول سکتا ہوں۔ تجربہ انسان کا سب سے بڑا گرو ہے۔ تمھیں بھی میری طرح اس آدمی کا مشکور ہونا چاہیے۔‘‘ اس نے مجھے مروّت بھری نظروں سے دیکھا۔ ’’اب جلدی کرو۔ ٹانگیں اٹھا کر اندر لے جاؤ اور ان کی مالش کرکے انھیں گرم پانی سے صاف کردو۔ ٹھہرو، پہلے میرے سینے پر پٹی باندھ دو تاکہ خون زیادہ نہ نکل جائے۔‘‘

’’اب مجھے جانے دو۔ میں گھبرانے لگا۔‘‘

’’تم کبھی شادی نہ کرنا ورنہ تمھیں بھی بیوی کے روپ میں اپنا دشمن مل جائے گا۔‘‘ وہ میری بات کو نظر انداز کرگیا۔ ’’تم ہی بتاؤ سمرسٹ مام کو ماننے والا آدمی میرے کس کام کا۔ اس بوڑھے کو بھول جاؤ، وہ سنکی ہے۔‘‘ اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ ’’بیٹھ جاؤ۔ کھنڈر میں دروازے اور کھڑکیاں لگانے کے بعد ان پر پالش کون کرے گا؟‘‘

’’لیکن تمہاری بیوی۔۔۔‘‘

’’اس کی فکر نہ کرو۔ میں نے اس کی بات مان لی ہے۔‘‘

’’کون سی بات؟‘‘

’’وہی حدود اربعہ والی۔ اب میں لکشمن ریکھا پار کرنے کی غلطی نہیں کروں گا۔‘‘

’’بس!‘‘

’’بس اتنا ہی۔ وہ یہی چاہتی ہے۔‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’تاکہ میں پھر سے خود مسماریت کے چکر میں نہ پڑ جاؤں۔ آئینے کے سامنے کھڑا ہوکر بھی اپنے آپ کو ناپا نہیں جا سکتا۔‘‘ وہ اپنی دھلی ہوئی ٹانگوں کو پہننے لگا۔ ’’ارے میں پھر کھڑا ہوسکتا ہوں۔‘‘ وہ چہکنے لگا۔ ’’لیکن چل نہیں سکتا۔‘‘ وہ مایوس ہوگیا ’’مگر تم جو ہو۔‘‘ وہ پھر مجھے اعتماد بھری نظروں سے دیکھنے لگا۔’’تم مجھے دوبارہ چلنا سکھا سکتے ہو۔ صرف چلنا۔ فکر مت کرو۔ اب میں بھاگنا نہیں چاہتا۔ کسی کے سہارے صرف چلا ہی جا سکتا ہے۔‘‘ اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔

’’اب تم لیٹ جاؤ۔ میں نے اسے مشورہ دیا۔ ’’کل تمھیں باہر گھما لاؤں گا۔‘‘

’’نہیں میں ابھی یہاں سے نکلنا چاہتا ہوں۔ وقت ضایع کرنے کا گناہ میں نے پہلے بھی کبھی نہیں کیا۔ بچّے بھی اسکول سے لوٹنے والے ہیں۔ وہ آگیے تو۔۔۔‘‘ وہ مجھے دروازے کی طرف دھکیلنے لگا اور اس کی بیوی چلّاتی رہ گئی۔

’’ذرا فضا کو سونگھ کر دیکھو۔‘‘ شہر کے وسط میں پہنچ کر وہ رک گیا۔ ’’اس میں یقیناً ابھی تک میرے وجود کی بُو باقی ہے۔‘‘ میرے خاموش رہنے پر وہ جھنجھلا گیا۔ سمر سٹ میں سے کوئی خوشبو نہیں پھوٹی۔ کیا تم نے اس بوڑھے کی پائیور یا زدہ دانتوں میں سے نکلتی بدبو سے متنفر ہوکر بھی منہ نہیں پھیرا۔‘‘ وہ مجھے آگے چلنے کا اشارہ کرتے ہوئے پھیلنے لگا۔ ’’دنیا بہت بڑی ہے۔ سلسلہ دور تک بکھرا پڑا ہے۔ اس انتشار کو مجھے ہی سمیٹنا ہے۔ دوسرے کچھ نہیں کرسکے۔‘‘ اس کی آواز میں اس کا لہو سرسرانے لگا۔ ’’تو لوگوں نے بہت کوشش کی مگر بات بنی نہیں۔ ہر بات ہر کسی کے بس میں ہو تب نا۔‘‘ مجھے اپنی طرف غور سے دیکھتے پاکر اور بھی دور جانے لگا۔ ’’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگ آج کل اپنے آپ کو چھوٹی چھوٹی ذہانتوں کے مالک کہتے ہیں۔‘‘

’’وہ یہی محسوس کرتے ہوں گے۔‘‘

’’میں نہیں مانتا۔‘‘ وہ رک گیا اور لمبا سانس لینے لگا۔ ’’ایک بار فضا کو پھر سے سونگھ میرے سوا کسی اور کے وجود کی بُو کا احساس بھی ہوتا ہے۔ تم تو سانس ہی نہیں لیتے۔‘‘ وہ چڑ گیا۔ ’’ذرا سینہ پھلا کر تو دیکھو۔‘‘ اس نے اپنے پھیپھڑے ایک بار ہوا سے بھر لیے اور بڑے رازدارانہ لہجے میں پوچھنے لگا، ’’سچ بتاؤ میں زندہ رہوں گا کہ نہیں در اصل میں اس یقین کے ساتھ مرنا چاہتا ہوں۔‘‘

’’عقلمند آدمی ایسے سوال نہیں پوچھا کرتے۔‘‘ میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی کہہ دیا۔

’’تو تم بھی ان میں سے ہو جو کہتے ہیں اب کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دیا جاسکتا۔ عظمت کے پیدا ہونے کا امکان نہیں رہا۔ اس نے مجھے انگارے برساتی نگاہوں سے دیکھا۔‘‘ ’’تم بھیڑ کی طرف دیکھنا بند کرکے میری بات کیوں نہیں سنتے۔ بھیڑ تو خود میری طرف متوجہ ہے۔ ذرا افق پر تو نگاہ دوڑاؤ۔ دیکھو تو وہاں پڑتے سایوں میں واضح تر خدوخال والا کون ہے۔ لیکن تمہاری نظر تو سڑک کے اس پار تک نہیں جاتی۔‘‘ اس نے دفعتاً اپنے ہاتھ میرے کندھوں سے ہٹا لیے اور تن کر کھڑا ہوگیا۔ ’’پتہ نہیں لوگ ایک مقام پر پہنچ کر خود سے کنارہ کش کیوں ہوجاتے ہیں۔ ایک حد ہی کیوں۔۔۔‘‘ وہ نتھنے پھلا کر اپنے آپ کو متوازن رکھنے کی کوشش کرنے لگا۔ ’’یہ آدمی بھی مجھے سڑک پار کرنے میں مدد دینے کی بجائے۔۔۔‘‘ میرا سہارا لیے بغیر ہی اس نے اپنا قدم فٹ پاتھ سے نیچے رکھ دیا اور دوسرے ہی لمحے لڑ کھڑا کر سڑک کے عین بیچ جا گرا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کرتا اس کا جسم کالی سڑک کا حصہ بن چکا تھا اور اس کی چیخ نے ٹریفک کو جام کرنا شروع کردیا تھا۔