پرساد
آج کی بات اور ہے۔
اس شام آسمان اتنا لال نہیں تھا۔ پھر بھی اس نے خون چکھ لیا تھا۔ ’’مجھے وشواس ہے اوپر گھور یُدھ شروع ہوگیا ہے۔‘‘ اپنے دفتر کی کھڑکی سے دور تک دکھائی دیتے کٹے پھٹے بادلوں پر نظریں جمائے بیٹھے ’آندولن‘ کے مالک مکتی بودھ کا چہرہ گمبھیر ہوگیا۔ ’’اب آکاش اور دھرتی کو ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں رہا ور نہ شام کہیں اس طرح بھی لہو روتی ہے۔۔۔؟‘‘ اس نے ’آندولن‘ کے لیے تیار کیے ہوئے میرے اور پریاگ کے سوا ل نامے کو ایک طرف ہٹا دیا تو میں نے پہلو بدل لیا۔
’’واتاورن اور بھی دھندلا ہوگیا ہے۔ سب کچھ بوجھل اوربے معنی لگنے لگا ہے۔ دھواں اور بڑھ گیا تو کچھ نہیں بچے گا۔‘‘ سمپادک کی بات سن کر مکتی بودھ نے وہسکی میز پر رکھ دی اور شام کو آخری سانس لیتے ہوئے دیکھنے لگا۔
پہلا پیگ ختم ہوتے ہوتے اندھیرے نے دفتر کو اپنے آنچل میں سمیٹ لیا۔ میں نے اٹھ کر بلب جلایا تو مکتی بودھ چونکا۔۔۔ اس نے دوسرے پیگ کے لیے گلاس خالی کردیا۔ ’’رینگتے کو بھی چلنا کہتے ہیں۔ زندگی کا اس طرح جام ہوجانا! تالا بندی پتھر کے کمرے کو بھی اداس کردیتی ہے۔‘‘ وہ ہمیں دھندلی نگاہوں سے دیکھنے لگا اور رات بوجھل قدموں کے ساتھ ہمارے اندر اترنے لگی۔
’’جو برا ہے اسے دہرانے سے ہم رکتے نہیں۔ اپنے آپ کو شراپ دینا ضروری کیوں ہے؟ ہم اپنا کفن آپ ہی بنتے رہتے ہیں۔‘‘ میری بات پر سمپادک نے لمبا گھونٹ بھرا۔۔۔ گھر کی مریادا آدمی کا سب سے بڑا آسرا ہوتی ہے۔ اسی کے سہارے وہ سب کچھ سہتا رہتا ہے۔ یہی اسے وناش کار مارگ اپنانے سے روکتی ہے۔ یہاں تو سب کچھ برباد کیا جارہا ہے۔ سادھن کو لکش کاشترو بنایا جا رہا ہے۔‘‘
مکتی بودھ نے سگریٹ سلگایا، ’’وقت کے پاؤں میں زنجیر ڈال دینے کی اِچھّا کسے نہیں ہوتی لیکن سمے پوری طرح مکت رہتا ہے۔‘‘ وہ سوچ میں ڈوب گیا۔ ’’یہ بات ہم یُگ یُگ سے جانتے ہیں۔ پھر بھی برسوں کشٹ سہہ کر کمائے پُن کو ایک پَل میں نشٹ کردیتے ہیں۔۔۔‘‘
میں نے پوچھا، ’’کیا نراشا کے سوا کچھ بھی باقی نہیں رہا؟‘‘
’’میں نے یہ نہیں کہا۔ یہ میرا ادھیکار بھی نہیں۔ دیواروں پر سیاہی پوت دینے سے رات نہیں ہوجاتی۔ میں مانتا ہوں ایسا کرنے سے رکنا آدمی کے بس میں نہیں۔ لیکن میرا وشواس ہے کہ روشنی اندھیرے سے زیادہ مکت ہوتی ہے۔ ورنہ ہمیں اندھیری رات میں دِیا جلانے کا خیال کیوں آتا؟ کوئی کچھ بھی کرے، وہ سب کچھ نشٹ نہیں کرسکتا۔ شایدوہ کچھ بھی نشٹ نہیں کرسکتا۔‘‘ مکتی بودھ نے تیسرا پیگ اٹھایا۔
’’یہ سب کہنے کی بات ہے۔‘‘ پریاگ نے مَون کا آنچل چھوڑا۔
’’نہیں یہ دیکھنے کی بات ہے۔‘‘
’’میں نہیں مانتا۔ ان دنوں جو کچھ ہوا اور جس طرح ہم اسے چپ چاپ سہتے رہے وہ بھی دیکھنے کی بات ہے۔ میں جانتا ہوں تم کہوگے۔۔۔ انتطار کرو۔۔۔ لیکن انتظار کی کوئی حد نہیں۔ کئی بار ہمیں عمر بھر انتظار کرنا پڑتا ہے۔‘‘
’’لیکن ہم پہاڑ اور سمندرکے ادھر ہی نہیں رہتے۔ ہوا پر کسی کو اختیار نہیں۔ آج کوئی اکیلا نہیں۔‘‘
’’یہ دوسروں پر بھروسہ کرنے والی بات ہے۔ ستّا بھی ہوا کی طرح ہے۔ دیواروں میں سوراخ نہیں ہونے دیتی۔ چیخ باہر نہیں پہنچتی۔ ہمدردی کو اندر آنے کی راہ نہیں ملتی۔‘‘
’’تم اس قدر ڈر جاؤگے میں نہیں جانتا تھا۔ تم تو شاسن اور ستّا کا بھید بھی بھول گیے۔‘‘ سمپادک بولا۔
’’بغاوت ستا کے خلاف ہوتی ہے شاسن کے نہیں۔‘‘ میں بھی چپ نہیں رہا۔
’’یہ سب اپنا گھروندا بچانے کی بات ہے، ورنہ ذرا سا کرنے سے سب کچھ ہماری مٹھی میں آجاتا ہے۔‘‘
’’ہماری مٹھی میں سوائے اپنے بھاگیہ کے اور کچھ نہیں آتا۔ بھاگیہ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ اتنی آزادی سوائے ہونی کے اور کسی کو نہیں۔ کوئی ‘کچھ’ تو ہوسکتا ہے سب کچھ نہیں۔ بھرم کی اور بات ہے۔ مکتی بودھ نے کہا ’’میں اور نہیں پیوں گا ۔ اب گھر چلوں گا۔‘‘
سڑک پر چھڑی کے سہارےکھڑے پریاگ نے مجھے نزدیک آتے ہوئے اسکوٹر کو روکنے سے منع کردیا۔ ’’مکتی بودھ کا دماغ اب کام نہیں کرتا۔ چھوٹی سی بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی۔‘‘
’’تمہیں نشہ ہوگیا ہے۔ بیماری نے تمہارا نروس سسٹم کمزور کردیا ہے۔ اب یہ ایک پیگ سےزیادہ برداشت نہیں کرتا۔‘‘ میں نے اسے غور سے دیکھا ’’آج اتنی دور پیدل کیسے چلے آئے؟‘‘
’’آج کی بات چھوڑو۔ اس دن پریاگ میرے ساتھ تھا۔‘‘
گھر کے کونے کونے میں دھواں پھیل گیا تھا۔ لوگ اندر بیٹھ سکتے تھے نہ باہر جھانک سکتے تھے۔ سڑک پر آگ تھی۔ نیچے کودنے میں خطرہ کم نہیں تھا۔ واتاورن کا کوئی روپ نہیں رہ گیا تھا۔ روپ ہی نہیں تو رنگ کیا۔ سب کچھ گم ہوچکا تھا۔ دل کانپتا تھا۔ زبان لرزتی تھی۔ آنکھیں دیکھتے ہوئے بھی اندھی تھیں۔
’’بھسین گرفتار ہوگیا۔۔۔‘‘ میں پریاگ کے گھر بیٹھا تھا۔ ’’رات دو بجے پولیس اسے پکڑ کر لے گئی۔‘‘
’’اچھا ہوا۔ باتیں بہت بناتا تھا۔ گیان بگھارنے کا بھی وقت ہوتا ہے‘‘ ۔
’’کیا کہتے ہیں؟‘‘ میں نے پاگل کی طرح اس کی طرف دیکھا، ’’بھسین ہمارا دوست ہے اس کے گھر میں کوئی اور کمانے والانہیں۔ اس کی بیوی! اس کے بچے!!‘‘
’’میں بھسین کی بات نہیں کر رہا۔ میں تو شاسن کی بات کہہ رہا ہوں۔ شاسن نے اپنے آپ کو پہچان لیا ہے۔ تمہیں بتاؤ کہیں پیپل کا پتّہ بھی ہلتا ہے۔ بیچارہ مکتی بودھ اس نے پتہ نہیں کیسا انّ کھالیا ہے!!‘‘
’’کیا تم بھی!‘‘ میں چونکا، ’’مگر تم تو مکتی بودھ کو مانتے ہو۔ تم ہی کہا کرتے ہو کہ تمہارا خمیر ’آندولن‘ سے اٹھا ہے۔ اور آج۔۔۔‘‘
’’تم نے پھر مجھے غلط سمجھا۔ میں مکتی بودھ کے خلاف نہیں۔ میں تو اپنی بات کہہ رہا ہوں۔ تو سنو۔‘‘ اس نے میز پر بکھرے کاغذ سمیٹ لیے اور لیٹے لیٹے پڑھنے لگا، ’’دیکھا میں نے اس اتیا چار کو کیسے باندھا ہے۔ یہ ویرانی، یہ بربادی مجھ سے چھپی تو نہیں۔‘‘ وہ رک گیا ’’ماں کہہ گئی ایسا سمے ضرور آئے گا اور اس کی چھایا دیر تک بنی رہے گی۔‘‘ وہ مسکرانے لگا، ’’تم بات کو سمجھا کرو۔ مکتی بودھ کی سوچ اب کام نہیں کرتی۔‘‘
اسے اُجاڑ کے خلاف بولتا سُن کر میں پھر ا س کے قریب ہوگیا۔ ’’تم لکھتے رہو چھپنے کی بات تو رہی نہیں۔ پھر بھی وقت کا کچھ پتہ نہیں۔ قلم نہ رُکنے پائے ۔ بھلے ہی فصل ویرانی کی کاٹنی پڑے۔‘‘ میں بولتا رہا۔ وہ سنتا رہا۔ لیٹے لیٹے۔
آج کا تو میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔
اس دن پریاگ کا فون آیا، ’’میں تہیں دفتر سے لے لوں گا۔۔۔ یہی کوئی بارہ بجے۔۔۔ آدھی چھٹی لے لینا۔۔۔ باقی ملنے پر۔۔۔‘‘
اسکوٹر میں بیٹھتے ہی میں نے کہا،’’اب برداشت نہیں ہوتا۔ ہاتھ پیر سنّ ہوگیےاتنا بھی کیا۔ جب کوئی ہلتا ڈولتا ہی نہیں تو اس پر ہاتھ اٹھانے سے کیا فائدہ؟ اور کیا لینا ہے ہم سے؟ وچار، بھاشا، چال ڈھاال سب کچھ تو دے ڈالا۔۔۔‘‘
’’ابھی نہیں۔ ابھی بہت کچھ باقی ہے۔‘‘ پریاگ نے میرے ساتھ آنکھ نہیں ملائی۔
’’اب تو کچھ بھی نہیں رہا۔ گھر باہر ایک ہوگیا ہے۔ دروازہ بند ہو یا کھلا کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جب چاہیں دھپ دھپ کرتے اندر آجاتے ہیں۔ دستک دہشت کی علامت بن گئی ہے۔ ان کا جی چاہے تو سڑک سے پکڑ کر لے جائیں۔ بِنا جرم کیے خود کو مجرم مانتا! تم ہی بتاؤ باقی رہ کیا گیا ہے؟‘‘
’’ابھی تم میرے ساتھ بات کرتے ہو۔ مجھے ان کی بابت جتاتے ہو۔ ابھی تمہارا اپنے سایے سے رشتہ نہیں ٹوٹا۔‘‘
’’پریاگ کیا تم بھی ۔۔۔!‘‘ میں نے اپنی طرف بڑھائے ہوئے کاغذ کو پکڑ کر کھول لیا۔ ’’ یہ کیا ہے؟ یہ سب کیا ہے؟؟ میں غصے سے کانپنے لگا ۔ ’’تم سچ مچ ان کے پاس جارہے ہو؟ پھر مکتی بودھ۔۔۔؟‘‘
’’تم بات کو سمجھنے میں ہمیشہ ناکام رہتے ہو۔ جب تم یہ کہتے ہو کہ اندر باہر کا بھید ہی نہیں رہا۔ ہم جہاں بھی ہیں نہتے ہیں تو ہمیں کچھ تو کرنا ہوگا۔۔۔‘‘
’’کیا کرنا ہوگا؟‘‘
’’ایک ننگے آدمی کو کیا کرنا ہوتا ہے؟‘‘ اسی نے جواب دیا ’’بس کپڑے پہننا ہوتا ہے۔‘‘
’’تو یہ نظم تمہارا بہروپ ہے؟‘‘
’’یہی سمجھو۔‘‘
’’مکتی بودھ کیا کہے گا۔ اس کی آشاؤں کومٹّی میں نہ ملاؤ۔ اسے وشواس ہے کہ تم آندولن کو زندہ رکھوگے۔‘‘
’’میں نے کہا نا مکتی بودھ کا دماغ کام نہیں کرتا۔ یہ آمنے سامنے کی لڑائی نہیں۔ میں حیران ہوں وہ ابھی تک باہر کیسے ہے!‘‘
’’تم مجھے یہیں اتار دو۔ میں تمہارا ساتھ نہیں دے سکتا۔ میں خاموش رہ لوں گا لیکن جھوٹ نہیں بولوں گا۔‘‘
’’اب بھی وقت ہے مجھ پر شک نہ کرو۔ ہوسکتا ہے میرا کیا دھرا تمہارے کام آئے۔ یقین کرو میں اس تباہی کے حق میں نہیں ہوں۔‘‘
میں نے اس کی ایک نہیں سنی۔
آج کی بات میں نے کبھی نہیں سوچی تھی۔
شام ہوتے ہی پریاگ کا بلاوا آیا، ’’ابھی چلے آؤ۔۔۔‘‘
میں نے اس کے کمرے میں جاتے ہی کہنا شروع کیا،’’اب تو پوائنٹ بلینک گولی مار دی جاتی ہے ۔ کون کہاں گم ہوجاتا ہے کس پر کیا بیتتی ہے کچھ پتہ نہیں چلتا۔ پوچھ تاچھ کرنے والے کی اپنی خیر نہیں۔ بار بار اپنے آپ کو سمجھانا پڑتا ہے۔ ان گنت لوگوں کو بے گھر کر کے کھلے آسمان کے نیچے ننگی دھرتی پر ڈال دیا۔ کتنے لوگ سردی، برسات ، بیماری سے مرگیے۔ کتنوں کو سانپوں نے ڈس لیا۔ کسی کی عزت محفوظ نہیں۔ اب تو یہ سب کھلے عام کیا جاتا ہے۔ اس بے رحمی اور من مانی کا حشر کیا ہوگا؟‘‘
پریاگ میری بات سنتا رہا۔ کپڑے بدلتا رہا۔ اس کے چہرے پر بے زاری نہ تھی۔ اپنے آپ میں مطمئن وہ مسکراتا رہا۔ بڑی بات یہ تھی کہ اس نے کپڑے بدلنے اور چیزوں کو سنوار کر رکھنے میں میری مدد نہیں مانگی۔
’’کس کا حشر؟‘‘ بُوٹ کے تسمے باندھتے وقت پریاگ کی آواز میں لہک آگئی، ’’تم ابھی تک بات کو نہیں سمجھے۔ میں پوچھتا ہوں کس کا حشر۔۔۔؟‘‘
’’کیا تم نہیں جانتے؟‘‘ میں بوکھلا کر اسے دیکھنے لگا، ’’گھر باہر کو جیل بنادینے والے کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتے؟‘‘
’’چھوڑو یہ ساری باتیں۔ کام کی بات کرو۔‘‘ اس نے ساتھ والے کمرے سے کالا بیگ لاکر پلنگ پر رکھ دیا۔ ’’میں اندر کے کمرے کا تالا لگاتا ہوں تم ٹیکسی لے آؤ۔‘‘ وہ ٹائی کی ناٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا۔
ٹیکسی آگئی۔ میں نے بیگ کو اٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ وہ لپکا۔ ’’تم چنتا نہ کرو اسے میں اٹھالوں گا‘‘ اس نے بیگ اٹھالیا اور تن کو چلتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔
’’اپنی چھڑی تو لے لو۔‘‘ میں نے اسے یاد دلایا۔ ’’اس کے بغیر زیادہ دیر تک کھڑے رہنا مشکل ہوجائے گا۔‘‘
’’اب تم چلو بھی۔ میں سب کچھ جانتا ہو۔‘‘ وہ انوکھی پھرتی سے ٹیکسی کی طرف بڑھ گیا۔
’’ہم کہاں جارہے ہیں۔‘‘ ٹیکسی میں بیٹھتے ہی میں نے پوچھا۔
’’انہوں نے بہت سارے وعدے کیے ہیں۔ ریڈیو، ٹیلی و یژن، نئی سنستھا کے گٹھن کا پورا ادھیکار، کتاب چھاپنے کے لئے سرمایہ۔۔۔‘‘
’’اس بیگ میں کیا ہے؟‘‘
’’اس میں؟‘‘ وہ مسکرایا۔
’’کیا کہا؟‘‘
اس نے بیگ کو سینے سے لگا لیا۔ ’’وہاں جمع ہونے والوں میں بانٹنے کے بعد جو بچے گا وہ کم نہیں ہوگا۔ تم ذرا ہوشیاری سے کام لینا۔ کورے فارموں پر دستخط کراتے وقت ہچکچانا نہیں۔‘‘
’’میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا۔‘‘ لال بتّی پر ٹیکسی کے رکتے ہی میں نے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھ دیا۔
’’تم نادان ہو مکتی بودھ کا حشر نہیں جانتے۔ تم نے پہلے بھی غلطی کی تھی۔ ایسے موقعے بار بار۔۔۔‘‘
اتنے میں بتی نے رنگ بدل لیا اور ٹیکسی چوراہے کو پار کرنے لگی۔