بتی بجھنے تک

وہ گیٹ پر پہنچ کر رک گیا۔
مورے پاپ ہرو
پربھو جی!


مورے پاپ ہرو
اس نے پارک سے آتی آواز پر کان لگا دیے۔

’’رُک کیوں گیے؟ اندر چلو۔‘‘

’’اندر! اندر کیا دھرا ہے؟‘‘ وہ ہڑبڑا گیا۔

’’روز یہاں آنے کو کہتے۔ ست سنگ کا گن گان کرتے نہ تھکتے۔‘‘

’’تم ٹھیک کہتے ہو۔‘‘

وہ پھر کیرتن کے بول سننے لگا۔

اوگن چت نہ دھرو۔
پر بھوجی!
اوگن چت نہ دھرو

’’سنسکار۔۔۔ سداچار۔۔۔ وکار۔۔۔ من نہیں ٹکتا۔‘‘


وہ ہاتھ میں پکڑی لکڑی سے پارک کی دہلیز کو ٹکورنے لگا۔

’’یہیں بیٹھ جاؤ۔‘‘

’’اندرکیرتن ہورہا ہے۔ مہاتما کاپروچن بھی۔‘‘

میں نے پارک کے سامنے والی دیوار کے پاس آسن پر براجمان مہاتما کے سامنے بیٹھے بوڑھوں کی ٹولی کو دیکھا۔

’’مجھے واپس لے چلو۔‘‘


میری بات کو اَن سنا کرکے وہ اپنے مرجھائے ہاتھ سے سوکھی ٹانگ کو سہلانے لگا۔

’’کہاں؟‘‘

’’وہیں جہاں سے میں نے یاترا آرمبھ کی۔‘‘

’’یہ کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘

’’یہ نہیں ہوسکتا تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔‘‘ وہ بڑ بڑایا۔

’’تم آگے کی چنتا کرو۔‘‘

’’جو بیت چکا ہے اسے کیسے بھول جاؤں؟ دل میں کیڑے کی طرح رینگتا ہے۔ رگ رگ کو چاٹتا ہوا۔‘‘

مورے پاپ ہرو
پر بھوجی!
اوگن چت نہ دھرو

’’جیسے بھی ہو، مجھے واپس لے چلو۔‘‘


اس نے کانوں کو ہاتھوں سے ڈھک لیا۔

’’اپنے کو سنبھالو۔ جو بچا ہے۔۔۔‘‘

’’یہی سنتے، سوچتے زندگی گذار دی۔ اب۔۔۔‘‘

’’اب کیا؟‘‘

’’سمسیا بچا کھچا سنبھالنے کی نہیں، ہوچکے کو مٹانے کی ہے۔‘‘

پارک میں آنے جانے والوں کو بھول کر وہ دُور دُور تک دیکھنے لگا۔

’’اندھے کنویں کی منڈیر پر کھڑا آدمی آگے کی سُدھ لے سکتا ہے؟‘‘

وہ لَوٹا،

’’تم سمجھتے ہو، میں سٹھیا گیا۔ اوٹ پٹانگ بولنے لگا۔ ہونے والے کا دھیان چھوڑ کر ہوچکے کا رونا لے بیٹھا۔‘‘

مجھے خاموش بیٹھا دیکھ کر کہنے لگا، ’’کیرتن۔۔۔ ست سنگ۔۔۔ بھجن پاٹھ۔۔۔ سچ بتاؤ کون کسی کا پاپ ہر سکتا ہے؟‘‘

آنکھوں سے چشمہ اتار کر وہ دھندلائے شیشوں کو اپنی میلی دھوتی کے کونے سے صاف کرنے لگا۔

’’گُن۔۔۔ اوگُن۔۔۔ کون نہیں چاہتا یہ بھید جان لے، ہوا کی طرح سُوکشم ہوجائے؟‘‘

’’باپ بھی یہی کہتا۔ بھجن کیرتن پر زور دیتا۔ پوجا پاٹھ کی مہما بتاتا۔‘‘

اس کو دیکھ کر اندر کی جوت جل اٹھتی۔ اُجلی دھند پھیل جاتی۔

’’وہ واتا ورن پر بھی زور دیتا۔۔۔انسان رُوپی ہیرے کو واتا ورن ہی تراشتا ہے۔‘‘

’’تم سمجھ رہے ہو نا؟‘‘

اس نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔

’’ہمارا قصبہ زیادہ بڑا نہ تھا۔ دس بارہ ہزار کی آبادی۔ شانت چِت لوگ۔ ہندؤوں اور مسلمانوں کے محلّے ساتھ ساتھ تھے۔ وہ پریم سے رہتے۔ ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے۔ سوچا بھی نہ تھا کہ ایک دن ایک دوسرے کے لہو کے پیاسے ہوجائیں گے۔‘‘

ان دنوں میں دسویں کلاس میں تھا۔ مسلمان دوستوں کے ساتھ میرا بہت لگاؤ تھا۔ سیفی تو جان سے بھی زیادہ پیارا تھا۔ میں اکثر اس کے گھر جاتا۔ اس کے ساتھ مسجد کے سامنے والے میدان میں گلی ڈنڈا کھیلتا۔ دیر تک باتیں کرتا رہتا۔ محسوس ہی نہ ہوتا ہمارا مذہب ایک نہیں۔ یہ تو اس دن پتہ چلا۔ایک دن شام پڑتے ہی ہمارے محلّے میں شور ہونے لگا۔ کالی چرن گلی میں کھڑا دہائی دے رہا تھا۔

’’قصائی گائے خرید رہے ہیں۔ اسے بوچڑخانےلے جائیں گے۔‘‘

’’بیچ کون رہا ہے؟‘‘ کسی نے پوچھا۔

’’سگلی پنڈت۔۔۔‘‘

’’برہمن ہوکر!‘‘ لوگ بڑ بڑائے۔

’’سگلی پنڈت کو ہم سمجھالیں گے۔ سوال تو قصائیوں سے نپٹنے کا ہے۔‘‘ کشوری نے چیخ کر کہا۔کشوری کی با ت نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ لوگ نعرے سے لگانے لگے۔ لاٹھی، ٹکوا، گنڈاسا، تلوار اٹھائے مسلمانوں کے محلّے کی طرف بھاگنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہاہا کار مچ گئی۔مجھے سَیفی کا دھیان آیا۔ ننگے پاؤں اس کے گھر کی طرف بھاگا۔ گھر جل رہا تھا۔ سیفی اپنے باپ اور بہن کے ساتھ خون میں لت پت پڑا تھا۔ لوگ گھر کو لوٹ رہے تھے۔ تھوڑی دیر تک میں اپنے دوست کی لاش کو دیکھتا رہا۔ پھر لٹیروں کو ٹرنک کا تالاتوڑتے ہوئے دیکھنے لگا۔ تالا ٹوٹتے ہی ایک آدمی نے ٹرنک کو الٹ دیا، بکس میں سے کپڑے، گہنے اور نقدی گر کر بکھر گئی۔ دوسرے ہی پَل میں نے بھی ایک پوٹلی اٹھائی اور گھر کی طرف چل دیا۔

’’اب یہ نہ پوچھنا کہ میں نے ایسا کیوں کیا۔‘‘

وہ مجھے خاموش رہنے کو کہہ کر بولتا گیا، ’’رات پڑ چکی تھی۔ میں نے پوٹلی ڈیوڑھی میں چھپا دی اور اوپر جاکر باپ کے پاس بیٹھ گیا۔ مجھے دیکھتے ہی باپ نے پستک بند کردی۔

’’سیفی کو دیکھنے گیے تھے؟‘‘

’’ہاں۔‘‘

’’وہ بچ گیا؟‘‘

’’نہیں۔‘‘

’’رام رام۔‘‘ باپ نے لمبا سانس لیا۔ ’’تم نے تو کچھ ایسا ویسا نہیں کیا؟‘‘ وہ میری آنکھوں میں جھانکنے لگا۔

’’میں نے کیا کرنا تھا؟ میں تو سیفی کو۔۔۔‘‘

’’سب بھگوان کی لیلیٰ ہے۔‘‘ باپ نے پوتھی کھول لی۔

’’ساری رات میں اپنے کو کوستا رہا۔ پوٹلی کا دھیان کرکے پچھتا تا رہا۔ اپنے کو دنڈ دینے کا سوچتا رہا۔ سیفی کو یاد کرکے روتا رہا۔ لیکن۔۔۔‘‘

’’رک کیوں گیے؟‘‘ میں تلملایا۔

’’لیکن صبح ہوتے ہی جب باپ مندر جانے کے لیے گھر سے نکلا، میں اٹھا اور بھاگ کر ڈیوڑھی میں جا پہنچا۔ وہاں چھپائی پوٹلی کو نکال کر ہاتھوں میں بھینچ لیا۔‘‘ وہ سورج کی کرنوں کو پیلی پڑتے دیکھ کر بولا، ’’اس دن پہلی بار مجھے اپنے درشن ہوئے۔ اسی شام باپ نے سارے پریوار کو پاس بٹھا کر دَیا اور سہن شیلتا کا ارتھ سمجھایا۔ لوبھ اور کرودھ کا کھنڈن اور بھی زور سے کیا۔ شانتی پاٹھ سے پہلے اس نے کہا۔۔۔ آدمی بات کو دھیرے دھیرے سمجھتا ہے۔ ٹھوکر کھاکر سنبھلتا ہے۔ سَمے ہمارا سب سے بڑا مِتر ہے۔وہی ہمیں سب کچھ سکھاتا ہے۔ اس کا نرادرنہ کرو۔‘‘

’’شاید اندھیرا چھا گیا۔‘‘ اس نے عینک دوبارہ صاف کی۔

’’نہیں تو۔ ابھی دن کافی باقی ہے۔‘‘ میں نے پارک میں لوگوں کی بڑھتی ہوئی بھیڑ کو دیکھا۔ ’’شاید تم کچھ اور بتانا چاہتے ہو۔‘‘

’’تم کہتے ہو ابھی دن کافی باقی ہے۔‘‘ اس کے ہونٹوں پر اداس مسکراہٹ پھیل گئی۔

’’باپ کی بات نہیں بھولی۔ سیفی کو بھی نہیں بھولا۔ پوٹلی بھی یاد رہی۔ سَمے بیتتا گیا۔میں کالج میں داخل ہوگیا۔ اپنے قصبے سے چالیس میل دور۔ باپ وہاں بھی ساتھ تھا۔ لوبھ اور داسنا سے بچو۔ گیان وگیان میں من لگاؤ۔ سکشا ہی چرتر نرمان کا سادھن ہے۔ چرترمانوتا کا آدھار ہے۔ میں خوش تھا۔ پڑھائی میں مگن۔ اپنے میں گم دوسروں سے الگ۔دوسرے سال دسمبر میں ہاسٹل کے بوڑھے بھنگی کی جوان چھوکری صفائی کرنے آنے لگی۔ وہ کام کرتی رہتی۔ میری طرف دیکھتی ہوئی مسکراتی رہتی۔ پہلے پہل برا لگتا۔ کرودھ بھی آتا۔ اسے ڈانٹنے کو جی کرتا۔۔۔لیکن دھیرے دھیرے میں پگھلنے لگا۔ وہ مجھے بھلی لگنے لگی۔ایک دن میں نے اس کے بارے میں بہت کچھ سوچ ڈالا۔ ایک مِتر سے بات کی۔ اس کی تو رال ٹپک پڑی۔۔۔۔‘‘

’’دیکھنا ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ غضب کی چیز ہے۔ کیسا جو بن چڑھا ہے، سالی کو۔۔۔‘‘

مجھے چپ بیٹھا دیکھ کر وہ بولا، ’’زیادہ سے زیادہ دو روپے۔‘‘ اس نے روپے میرے ہاتھ میں تھما دیے، ’’تم چنتا نہ کرو۔۔۔‘‘

اس شام میں سب کچھ بھول بیٹھا۔۔۔ذات پات۔۔۔مان۔۔۔ مریادا۔۔۔۔اپدیش، ویاکھیان۔۔۔


’’میں نے لڑکی کو رات گیےآنے کو کہہ دیا۔وہ مسکرائی اور سر ہلا کر چلی گئی۔دوست صبح ہونے سے پہلے ہی اپنے کمرے میں چلا گیا۔لڑکی کپڑے پہنتی ہوئی میری طرف دیکھنے لگی۔اس کی نگاہوں میں پھیلتی نراشا کو دیکھ کر میں نے جی کڑا کیا۔ سرہانے کے نیچے رکھے دو روپوؤں میں سے ایک اسے تھما دیا۔ وہ خوش خوش کمرے سے نکل گئی۔ میں دوسرا روپیہ مٹھی میں بھینچے بیٹھا رہا۔‘‘

’’تم نے وہ روپیہ اپنے دوست کو واپس نہیں کیا؟‘‘ میں نے ڈوبتی ہوئی آواز میں پوچھا۔

’’نہیں۔۔۔وہ میں نے رکھ لیا۔‘‘ وہ مرجھائی ہوئی آواز میں بولا، ’’بتاؤ اب بھی دن باقی ہے؟‘‘

’’ہاں، ابھی سورج پوری طرح نہیں ڈوبا۔ روشنی مٹ میلی ضرور ہوگئی ہے۔‘‘ میں نے کرنوں کو پیلی پڑتے دیکھ کر کہا اور اسے سہمی نگاہوں سے تکنے لگا۔


’’تم ٹھیک کہتے ہو۔ ابھی روشنی باقی ہے۔ وہ کیسی بھی کیوں نہ ہو۔‘‘ اس نے لمبا سانس لیا، ’’میں بات پوری کروں گا۔ تم اکتا تو نہیں گیے؟‘‘

’’نہیں۔۔۔ تم کہتے جاؤ۔‘‘

’’زندگی میں کیا کچھ نہیں ہوجاتا۔ آدمی بہت کچھ بھلا دیتا ہے، بہت کچھ نیا سیکھ لیتا ہے۔دھیرے دھیرے میرا باپ مرگیا۔ میں جو زندہ ہوگیا۔اب وہ مجھے نہ سمجھاتا۔۔۔لوبھ اور اہنکار سے بچو۔۔۔ اگر سمجھاتا بھی میں نہ سنتا۔ کان اور آنکھیں بند کرکے میں نے اپنے کو جیون کی بھٹی میں جھونک دیا۔ اپنے کو تیاگ کر مایا کے پیچھے پاگل ہوگیا۔ایک دن میں کوٹھی والا بن گیا۔ بینک بیلنس بھی کم نہ تھا۔ میرے اکلوتے بیٹے نے بھی اچھا عہدہ پراپت کرلیا۔اس کے لیے رشتے آنے لگے۔ مجھے اس کی اور اپنی قیمت کا اندازہ ہونے لگا۔ میرا تقاضہ دن بہ دن بڑھنے لگا۔ بیٹا مجھ سے بھی زیادہ لوبھی نکلا۔ اس کے سپنوں کا ٹھکانہ نہ تھا۔بڑی مشکل سے ایک جگہ رشتہ طے ہوا۔ وہ بھی ہماری پسند کا نہیں۔ لڑکی والے سب کچھ دے کر بھی ہمارا پیٹ نہ بھر سکے۔‘‘

’’تم مجھ سے نفرت تو نہیں کرنے لگے؟‘‘

اس نے نظریں جھکالیں۔ لیکن دوسرے ہی پل وہ چیخ اٹھا، ’’ابھی کہاں، ابھی تو میں نے تمہیں کچھ بھی نہیں بتایا۔ بات تو تب شروع ہوئی جب قدرت نے۔۔۔‘‘ وہ رکا۔ ’’وہ سب کہا نہیں جاتا۔ لیکن تم کہتے ہو ابھی اجالا باقی ہے۔۔۔ تو سنو۔‘‘

’’بیٹے کی شادی کو ایک سال بھی نہ ہوا تھا کہ بہو پر فالج گرا۔ اس کے شریر کا دایاں حصہ مردہ ہوگیا۔بیٹا جلد ہی بہو سے تنگ آگیا۔ تھوڑا بہت علاج کرانے کے بعد اسے ہسپتال میں اکیلی چھوڑ آیا۔بہو گربھ وتی تھی۔ دوا دارو اور کھانے پینے کے بعد ٹھیک پر بندھ نہ ہونے کے کارن اس نے مریل بچّے کو جنم دیا۔ بچّہ چند سانس لے کر چل بسا۔بیٹا اور بھی پریشان ہو اٹھا۔ بہو کے پاس جانے سے گھبراتا۔ نئی شادی بھی نہ کرسکتا۔ بہو کا زندہ رہنا ہی سب سے بڑا دکھانت تھا۔انت میں بہو کو گھرلانا پڑا۔ ہسپتال والوں نے اس کی چھٹی جوکردی۔ دنیا کو تو منہ دکھانا تھا۔اب وہ اپنے شریر کو گھسیٹ سکتی تھی۔ تھوڑا بہت چل پھر سکتی تھی۔ لیکن پتی کے لیے اس میں کچھ نہ رہا۔ بیٹا نشکام سیوا کا پاٹھ نہ پڑھا تھا۔‘‘

’’تو بہو مری نہیں؟‘‘ میرے منہ سے نکل گیا۔

’’وہ تو نہیں مری۔‘‘ اس نے اپنی گیلی آنکھوں کو پونچھا، ’’لیکن۔۔۔‘‘

’’بات کو بیچ میں نہ چھوڑو۔‘‘

’’لیکن بیٹا چلا گیا۔‘‘ اس نے ہچکی لی۔

’’کیا کہا؟‘‘

’’پتہ نہیں اس کے من میں کیا آئی۔ کوٹھی کا ڈیزائن بدلنے پر تل گیا۔میں نے بھی اسے نہیں روکا۔ اس کے سوا اور تھا ہی کون!جس دن کوٹھی نے نیا روپ دھارن کیا اسی دن وہ راج مزدوروں کا حساب چکتا کرنے کے لیے بینک سے دس ہزار روپیہ نکلوانے گیا۔سڑک پر پہنچتے ہی وہ ٹرک کے نیچے آگیا۔ٹرک نے اسے کچل ڈالا۔‘‘

’’سورج ڈوب گیا۔‘‘ میں نے اسے دم لینے کو رکتے دیکھ کر کہا۔


’’نہیں!‘‘ وہ بلبلایا۔ ’’ابھی سڑک کی بتّی جل رہی ہے۔‘‘


وہ پھر بولنے لگا، ’’بیٹے کے جانے کے بعد ہمارے لیے دنیا ویران ہوگئی۔دن رات روتے روتے اس کی ماں کی آنکھوں کی روشنی جاتی رہی۔اب میں تھا، اندھی پتنی تھی، اپاہچ بہو تھی اور تھی بھائیں بھائیں کرتی کوٹھی۔دن تو کسی طرح کٹ جاتا۔ رات پڑتے ہی سنّاٹا گونجنے لگتا۔ سب کچھ ڈوبتا دکھائی دیتا۔‘‘

’’پھر بھی تمھیں باپ کی یاد نہ آتی؟‘‘ میں خوف زدہ ہوگیا۔

’’ضرور آتی۔ لیکن کیا لابھ؟‘‘

’’تمھارے ساتھ تو بہت برا ہوا۔ گھورا نیائے۔۔۔‘‘

’’ابھی کہاں۔ ابھی تو سڑک کی بتّی جل رہی ہے۔‘‘ وہ اپنے پر ہنسا۔

’’میں اب بہو کو دیکھنے لگا۔ اس کی دھیر بندھاتا۔ شاستروں میں لکھی کتھائیں سناتا۔ اپنے کو کوستا۔ باپ کے کہے کو دہراتا۔۔۔ آدمی اپنے کو کبھی بھی سنبھال سکتا ہے۔لیکن یہ زیادہ دن تک نہ چلا۔ پتہ نہیں کیسے میں پھر سب کچھ بھولنے لگا۔ اپنے میں لَوٹنے لگا۔ مجھے تو اپنا بڑھاپا اور وناش بھی یاد نہ رہا۔


بہو کا اپاہج شریر مجھے لبھانے لگا۔ ایک دن جب بہو نہارہی تھی، میں پاگل ہواٹھا۔ میں نے دفعتاً غسل خانے کی کھڑکی کو دھکّا مار کر کھول دیا۔بہو کے ننگے شریر کو للچائی نظروں سے دیکھنے لگا۔ بہو چیخی اور زور زور سے رونے لگی۔ اندھی پتنی چارپائی سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔ مجھے پکارنے لگی۔

’’دیکھو تو بہو کو کیا ہوگیا؟‘‘

’’اب بس بھی کرو۔‘‘ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ’’اب تو سڑک کی بتّی بھی بجھ گئی۔‘‘