قومی زبان

ایک لڑکی

(اس کہانی میں کوئی کیریکٹر قطعی فرضی نہیں ہے۔) (1) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخ میں ۱۹۳۷ء یادگار رہے گا۔ کیونکہ اس سال ہندوستانی مسلمانوں کے واحد دارالعلوم میں سرکاری طو رپر مخلوط تعلیم کی ابتدا ہوئی۔ یہ قصہ بھی عجیب ہے کہ کس طرح یونیورسٹی کے ارباب حل و عقد ا س سنسنی خیز ...

مزید پڑھیے

تین مائیں ایک بچہ

بچہ ایک تھا ۔۔۔ چار پانچ برس کا ہوگا۔ خوبصورت تھا۔ بڑی بڑی آنکھیں۔ مگر ان آنکھوں میں دنیا بھر کا غم بھرا ہوا تھا۔ جیسے ایک بڑے گمبھیر فلاسفر کو پاکٹ سائز کا بنادیا گیا ہو۔ جسم بھی لاغر تھا۔ جو تعجب کی بات نہیں تھی کیونکہ وہ بچپن ہی سے ایک بھکارن کے یہاں پلا تھا جو اسے نہ دودھ ہی ...

مزید پڑھیے

دیا جلے ساری رات

جہاں تک نظر جاتی تھی ساحل کے کنارے ناریل کے پیڑوں کے جھنڈ پھیلے ہوئے تھے، سورج دور سمندر میں ڈوب رہا تھا اور آکاش پر رنگا رنگ کے بادل تیر رہے تھے، بادل جن میں آگ کے شعلوں جیسی چمک تھی اور موت کی سیاہی، سونے کی پیلاہٹ اور خون کی سرخی۔ ٹراونکور کا ساحل اپنے قدرتی حسن کے لئے ساری ...

مزید پڑھیے

شکر اللہ کا

نہیں صاحب! کوئی شکوہ شکایت نہیں۔ رشتہ داروں، دوستوں، دشمنوں، تعلقات والوں، افسروں، مالکوں، کسی سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ نہ سرکار سے کوئی گلہ ہے۔ نہ اللہ میاں سے کوئی شکوہ ہے۔ وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے۔ قسمت کے لکھے کو کون مٹا سکتا ہے۔ سو میں اپنی قسمت پر شاکر ہوں اور صبح ...

مزید پڑھیے

زعفران کے پھول

آؤ، مسافر، یہاں! اس چنار کے سایے میں بیٹھ جاؤ۔ میں ابھی پانی پلاتی ہوں۔۔۔ وہ نیلی نیلی لمبی سی موٹر ہے نا تمہاری۔۔۔؟ پنکچر ہوگیا ہوگیاہے۔۔۔؟ کوئی بات نہیں۔ اندھیرا ہونے سے پہلے سری نگر پہنچ جاؤگے۔۔۔اب بیس کوس کی تو بات ہی ہے۔۔۔ نہیں بیٹا مجھے پانی کی قیمت نہیں چاہیے۔ اور پھر ...

مزید پڑھیے

سونے کی چار چوڑیاں

بارش نے رات کے اندھیرے کو اور گہرا کردیا تھا۔ ایسا لگتا ہے (سڑک کے کنارے پیڑ کے نیچے کھڑے ہوئے شنکر نے سوچا) بھگوان بھی بادلوں کا لحاف اوڑھ کر سوگیا ہے اور اس وقت دنیا میں میں اکیلا ہوں۔ صرف میں ہوں اور دل کی دھڑکن ہے۔ اور پھر ایک بار بجلی چمکی تو اس نے سوچا میری زندگی بھی اس سڑک ...

مزید پڑھیے

آج کے لیلیٰ مجنوں

ایک تھی لیلیٰ، ایک تھا مجنوں۔ مگر لیلیٰ کا نام لیلیٰ نہیں تھا، للی تھا، للی ڈی سوزا۔ وہ دونوں اور ان کے قبیلے صحرائے عرب میں نہیں رہتے تھے۔ ماہم اور باندرہ کے بیچ میں سڑک کے نیچے اور کھاری پانی کی کھاڑی کے کنارے جو جھونپڑیوں کی بستی ہے وہاں رہتے تھے۔ مگر صحرائے عرب کی طرح اس ...

مزید پڑھیے

واپسی کا ٹکٹ

انسان نے انسان کو ایذا پہنچانے کے لیے جو مختلف آلے اور طریقے اختیار کیے ہیں ان میں سب سے زیادہ خطرناک ہے ٹیلی فون! سانپ کے کاٹے کا منتر تو ہوسکتا ہے مگر ٹیلی فون کے مارے کو تو پانی بھی نہیں ملتا۔ مجھے تو رات بھر اس کمبخت کے ڈر سے نیند نہیں آتی کہ صبح سویرے نہ جانے کس کی منحوس آواز ...

مزید پڑھیے

اجنتا

’’اجنتا ہندوستان کے آرٹ کی معراج ہے، دنیا میں اس کا جواب نہیں ہے۔۔۔ بڑے بڑے انگریز اور امریکن یہاں آکر دم بخود رہ جاتے ہیں۔۔۔ یہ غار ڈیڑھ ہزار سال پرانے ہیں۔ ان کو کھودنے، تراشنے، ان میں مجسمے اور تصویریں بنانے میں کم سے کم آٹھ سو برس کا عرصہ لگا ہوگا۔۔۔ مہاتما بدھ کے اس مجسمے ...

مزید پڑھیے

ماں کا دل

ایک فلم کی شوٹنگ ہو رہی تھی۔سٹوڈیو میں حسب معمول ہنگامہ تھا۔ ہیرو کے سر پرنقلی بالوں کی ’’وِگ‘‘ بٹھائی جارہی تھی۔۔۔ ہیروئن بار بار آئینہ میں اپنی لپ سٹک کا معائنہ کر رہی تھی۔ ڈائریکٹر کبھی ڈائیلاگ رائٹر سے الجھ رہا تھا تھا کبھی کیمرہ مین سے۔ پروڈکشن منیجر اکسٹرا سپلائر سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6044 سے 6203