قومی زبان

بھولی

اس کا نام تو سلیکھا تھا مگر بچپن ہی سے اس کے گھر والے ہی نہیں سارے گاؤں والے اسے بھولی کہتے تھے۔ ان کے پڑوس کے رہنے والوں کا کہنا تھا کہ نمبردار رام لال کی چوتھی بیٹی سلیکھا جب دس مہینے کی تھی تو گھاٹ پر سے سر کے بل گرپڑی تھی۔ وہ تو خیریت ہوئی کہ زمین کچی مٹی کی تھی، اس لیے ننھی جان ...

مزید پڑھیے

میری موت

لوگ سمجھتے ہیں کہ سردار جی مارے گئے۔ نہیں۔ یہ میری موت ہے۔ پرانے ’’میں‘‘ کی موت۔ میرے تعصبات کی موت۔ اس منافرت کی موت جو میرے دل میں تھی۔ میری یہ موت کیسے ہوئی؟ یہ بتانے کے لیے مجھے اپنے پرانے مردہ ’’میں‘‘ کو زندہ کرنا پڑے گا۔ میرا نام شیخ برہان الدین ہے۔ جب دہلی اور نئی ...

مزید پڑھیے

بارہ گھنٹے

دسمبر کا مہینہ! اسٹیشن ماسٹر کا گھنٹہ۔۔۔ پونے آٹھ بجا رہا تھا۔ گاڑی کے آنے میں اب بھی پندرہ منٹ باقی ہیں۔ بینا نے سوچا اور پلیٹ فارم کے چکر لگانے لگی۔ چھوٹا سا اسٹیشن۔ نہ کتابوں اور اخباروں کی دوکان۔ نہ کوئی ہوٹل۔ چائے کی ایک پیالی بھی ملنی ممکن نہیں۔ بس دو کمروں کی چھوٹی سی ...

مزید پڑھیے

ایک لڑکی سات دیوانے

لڑکی جوان ہوگئی تھی۔ لوگ کہتے تھے لڑکی خوبصورت ہے، چنچل ہے، طرح دار ہے، دنیا اس کی دیوانی ہے، ہر کوئی اس کی خاطر جان دینے کو تیار ہے۔ ساتھ میں لڑکی گنی بھی تھی۔ پڑھی لکھی تھی۔ دنیا بھر کی زبانیں جانتی تھی۔ ملٹن اور شیلی، ٹیگور اور قاضی نذرالسلام، سبرامنیم بھارتی اور نرالا، ...

مزید پڑھیے

سلمہ اور سمندر

’’سلمہ!‘‘ ’’ہوں۔۔۔‘‘ ’’خوش ہو۔۔۔؟‘‘ ’’ہوں۔‘‘ ’’کتنی خوش ہو؟‘‘ ’’اتنی خوش ہوں۔۔۔ اتنی خوش ہوں۔۔۔ کہ بتا نہیں سکتی۔‘‘ اور بڑی بڑی کالی آنکھیں جو کاجل کی غیر ضروری لکیروں کے بغیر بھی بہت خوبصورت تھیں، آہستہ آہستہ پلکوں کے پردے میں چھپتی گئیں، جیسے غلافی پپوٹے ...

مزید پڑھیے

تین عورتیں

تین عورتیں ایک ریلوے لائن کے کنارے چلی جارہی تھیں۔ کس مقام پر؟ کس ریلوے لائن کے کنارے؟ ان کا مذہب کیا تھا؟ ان کی ذات کیا تھی؟ یہ سب تفصیل غیر ضروری ہے۔ تین عورتیں! ایک نوجوان سندری تھی۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی۔ اس کے سینہ میں ابھار، اس کی چال میں والہانہ پن۔ ایک ماں تھی۔ اس کی ...

مزید پڑھیے

بنارس کا ٹھگ

(۱) ریل کے اسٹیشن پر لکھا تھا۔۔۔ وارانسی پولیس کے تھانے کے باہر لکھا تھا۔۔۔ وارانسی ہسپتال کے دروازے پر بورڈ لگا تھا۔۔۔ وارانسی شراب کی دکان پر لکھا تھا۔۔۔ وارانسی افیون، گانجہ اور چرس کی دوکان پر لکھا تھا۔۔۔ وارانسی کتابوں کی دوکان، جہاں کوک شاستر کھلے عام بک رہی تھی، ...

مزید پڑھیے

تین بھنگی

مدھیہ پردیش کی سرکار نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی اونچی ذات والا کسی میونسپلٹی میں بھنگی کا کام کرنا منظور کرے گا اسے تنخواہ کے علاوہ نوے روپے ماہوار اسپیشل الاؤنس بھی دیا جائے گا۔ یہ فیصلہ چھوت چھات دور کرنے کی غرض سے کیا گیا ہے۔ (بھوپال کی خبر) ابھی سورج نہیں نکلا تھا کہ ...

مزید پڑھیے

دیوالی کے تین دیے

پہلا دیادیوالی کا یہ دیا کوئی معمولی دیا نہیں تھا۔ دیے کی شکل کا بہت بڑا بجلی کا لیمپ تھا۔ جو سیٹھ لکشمی داس کے محل نما گھر کے سامنے کے برآمدےمیں لگا ہواتھا۔ بیچ میں یہ دیوں کاسمراٹ دیا تھااور جیسے سورج کے اردگرد اَن گنت ستارے ہیں، اسی طرح اس ایک دیے کے چاروں طرف بلکہ اوپر نیچے ...

مزید پڑھیے

دل ہی تو ہے

آپریشن تھیٹر کی سفید دیواروں میں تین افراد قید تھے۔ ایک آدمی تھا۔ ایک جج تھا۔ ایک ڈاکٹر تھا۔ ایک آدمی تھا بے سکت، بے ہوش، تقریباً بے جان آدمی آپریشن ٹیبل پر پڑا تھا۔ اس کے دل میں ایک سوراخ تھا۔ اس کے سوراخ میں پستول کی ایک گولی تھی۔ تھوڑی دیر ہی میں اس کے دل کی حرکت ہمیشہ کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6043 سے 6203