اوریگان
مدقوق چہرہ لیے علی احمد میرے سامنے بیٹھا ہولے ہولے کھانس رہا تھا۔ اس کی کہنیاں میز پر ٹکی تھیں۔ چہرہ بنجر ہاتھوں میں دھرا تھا اور ہڈیوں کے پیالے میں دو خشک آنکھیں رکھی تھیں۔ اس کے ہونٹوں پر پپڑیوں کی شکل میں چھوٹی چھوٹی قبریں اگ آئی تھیں۔ ان میں اس کا ماضی مدفون تھا۔ صعوبت اور ...