قومی زبان

جِیرے کالے کا دُکھ

یوں تو وہ اچھا تھا لیکن اس کے چہرے پہ دائیں جانب ایک سیاہ داغ تھا بالکل سیاہ جیسے کسی نے کالے پینٹ سے ایک دائرہ بنا دیا ہو۔ بچپن میں وہ اس داغ پر ہاتھ رکھ کر بات کرتا تھا تاکہ کسی کو اس کا داغ نہ دکھائی دے لیکن معلوم نہیں کیسے لوگوں کو وہ داغ دکھائی دے جاتا تھاوہ صابن سے چہرے کو دن ...

مزید پڑھیے

ٹِک ٹِک ٹِک

ٹِک ، ٹِک ، ٹِک ’’ایک تو اس وال کلاک کو آرام نہیں آتا ، سردیوں میں تو اس کی آواز لاوڈ سپیکر بن جاتی ہے‘‘ ٹِک ٹِک ٹِک یہ آواز اور یہ احساس واقعی بہت تکلیف دہ ہے ، خصوصا جب آپ گھر میں اکیلے ہوں ، اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے وال کلاک ٹک ٹک کی بجائے کم ، کم کہہ رہا ہو۔ ’’ کیا وقت یونہی ...

مزید پڑھیے

کیمیا گر

حکیم مسیح ترکستان سے اپنی بوڑھی ماں کو ساتھ لے کر ہندوستان آئے تھے، دہلی پہنچے تو انہیں حکم ملا کہ جونپور کی طرف کچھ اور نووارد ترکی خاندانوں کے ساتھ ایک بڑے گاؤں میں جس کا خالد پور نام رکھا گیا تھا،مسلمان آبادی کی بنیاد ڈالیں۔ حکیم مسیح نے حکم کی تعمیل کی اور خالد پور میں جا ...

مزید پڑھیے

اندھیرا

ابھی سورج ڈوبا نہیں تھا، لیکن اس کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ آسمان پر بادل پچھم کی طرف سرجھکائے سنہری کرنوں میں مانجے ہوئے پیتل کی طرح چمک رہے تھے۔ ہوا دن بھر کی تھکی ہوئی رک رک کر چل رہی تھی، چڑیاں بسیرے کے لیے اونگھتےہوئے درختوں پر جمع ہو رہی تھیں۔ بھگوان دین ایک پاسی اور منگل اسی ...

مزید پڑھیے

باغی

آم کا کنج اور بڑے بابو، ان دونوں میں کوئی تعلق بظاہر تو معلوم نہیں ہوتا، لیکن ہندوستان باوجود ضرب المثل کثرت کے وحدت کاملک ہے۔ یہاں ہرچیز دوسری چیز سے رشتہ رکھتی ہے، یہ رشتہ ہرشخص کو نظر نہیں آتا، لیکن شاعر (یہاں اس لفظ کے وسیع معنی مراد ہیں) کی درد پرور نظر اسے دیکھتی ہے، اور ...

مزید پڑھیے

شوکت پہ زوال

آج فرحان خان تذبذب میں تھے ۔ وہ بڑے پریشان نظر آرہے تھے۔ کوئی فکر ان کو اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔گھر کے آنگن میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک ٹہلتے جاتے تھے۔کچھ دیر رکتے پھر بیٹھ جاتے ۔کبھی پانی پیتے اور پھر سے ٹہلنے لگتے۔ جب انھیں کسی طرح بھی سکون نہ حاصل ہوا تو اپنے دونوں ...

مزید پڑھیے

مَٹھّا

’’کتنی دفعہ سمجھایا تمھیں ۔ کیا کمی چھوڑی تھی میں نے۔ جی جان سے تمھیں پڑھاتاہوں۔ دو سوالات کے جواب نہیں دے سکتے۔ اسکول میں پڑھنے آتے ہو یا ٹائم پاس کرنے۔۔۔مٹھا کہیں کے۔۔۔‘‘ اس روز ان تینو ں پر میں گرج دار آواز میں خوب چلایا کیوں کہ وہ میرے سوالات کے جوابات دے نہیں پائے ...

مزید پڑھیے

خوف ارواح

خوف ارواح اسے یاد ہے۔ وہ رات بہت بھاری ہو گئی تھی،جب وہ شہر سے اپنے گاؤں جا رہا تھا۔ رات کے گیارہ بج گئے تھے اور وہ پیدل چل رہا تھا ۔ چاروں طرف سیاہ تاریکی چھائی ہوئی تھی ۔ اندھیرے میں جب وہ وہاں سے گزر رہا تھا نجانے کیسی کیسی آوازیں اس کے کانوں میں پارہ بھر رہی تھیں ۔ اُن آوازوں ...

مزید پڑھیے

تاک جھانک

وہ اپنی تمناؤں کو سینے میں دبا کر آخر کب تک رکھتا۔اس کا بھی دل چاہتا دوسرے بچوں کی طرح اس کے پاس بھی اچھا اور نیا بستہ ہو ،نئے جوتے اوراچھا یونیفارم ہو۔اگرچہ وہ ابھی لڑکپن میں ہی تھا مگر اپنی غریبی اور گھر کے نا گفتہ بہ حالات کو بخوبی سمجھتا تھا ۔حالات سے سمجھوتا کرنا اور اپنی ...

مزید پڑھیے

الجھن

رات کا آخری پہر تھا اور میں گہری نیند میں تھا۔ کسی نے میرا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا اور آنگن میں لے آیا۔ گھر کے آنگن میں بہت ساری قبریں ابھر آئی تھیں اور عجیب سی ڈراؤنی آوازیں کانوں کے پردوں سے ٹکرا رہی تھیں۔ محسوس ہورہا تھا اگر یہ آوازیں بند نہ ہوئی تو کانوں کے پردے پھٹ جائیں گے۔ میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6015 سے 6203