قومی زبان

بھٹی

محمدعلی ماشکی نے رس نکلے گنے کے خشک پھوگ کو لمبی چھڑی کی مدد سے چھیداں کی بھٹی کی دہکتی آگ میں دھکیلا تو چنگاریوں کی شوخ قطار چڑ چڑ کر کے بھٹی کے دہانے سے نکل بھاگی۔ بھٹی نے ایندھن کا استقبال کر کے بھڑکتے شعلوں کو تیز تر کرتے ہوئے گاڑھے کثیف دھویں کو بھٹی کی چمنی نما دم کے رستے ...

مزید پڑھیے

مہابندر

مسئلہ یہ درپیش تھا کہ شہنشاہ معظم شیر بہادر کے حکم سے تادیبی تعزیر کے نفاذ پر اب بندروں کا لائحۂ عمل کیا ہو۔ انتظامی حکم کی توجیہات میں بندروں کو شریر، گستاخ اور شرپسند ہونے کا الزام دیا گیا تھا۔ اس سے بھی بڑھ کر بندروں کے جانور ہونے پر بھی شکوک و شبہات ظاہر کیے گئے تھے اور ...

مزید پڑھیے

برگد

وہ تین دیہات کے عین وسط میں زمانوں سے چھایا ایک انتہائی شاندار گھنا گھنیرا، چھتنار برگد تھا۔اس کی موٹی،لمبی اور مضبوط شاخوں نے چاروں طرف ایسا دبیز ،نرم اور خواب آور سایہ پھیلا دیا تھا کہ دن کو سورج کی قوی ترین کرن بھی اسے چیر کر زمین نہیں چھوپاتی تھی۔ مانو اُس کے نیچے دن بھی ...

مزید پڑھیے

بارِ زیست

عبداللہ کو ایک صحت مند نومولُود کی شکل مںئ دین محمد کریانہ فروش کے گھر بھجا گای۔ جب وہ بڑا ہوا اور اس نے سوچا کہ آیا اس ساری کاروائی مں۔ اس کا کوئی عمل دخل تھا تو اسے کچھ یاد نہ آیا۔مذہبی تاویلات بہرحال تھںو جو معاشرتی اثرات کے زیر اثر بہت مقبول اور کائنائتی سچ کا درجہ رکھتی ...

مزید پڑھیے

مسکراتے شہر کا آخری اداس آدمی

اس شہر میں ہروقت ہنستے رہنے کا قانون اب مکمل طور پر نافذ ہوچکاتھاسو اب وہاں کسی کو بھی رونے یا اداس رہنے کی اجازت نہیں تھی ۔ پولیس کے جوان گلی گلی گھومتے اوراگر انہیں کوئی بغیر مسکراہٹ کے ملتا تو اسے فوراًگرفتار کرلیتے ۔ رفتہ رفتہ ملک میں اداس لوگ ختم ہوگئے اور وہاں ایک ناختم ...

مزید پڑھیے

یادداشت کی تلاش میں

خط کے لفافے پر ٹکٹ لگاتے لگاتے اس کی یادداشت ختم ہوگئی اور اسے سب کچھ بھول گیا حتٰی کہ یہ بھی کہ لفافے پر لگائے ان دو ٹکٹوں کا کیامطلب ہے ۔جیسے بلب جل رہا ہو، روشنی ہواور یکایک اندھیرا چھاجائے ۔اس نے لفافے کودیکھاپھر اپنے ہاتھوں کواسے سمجھ نہ آئی کہ اس کا یہاں آنے کا مقصد کیا ...

مزید پڑھیے

ایک الجھی ہوئی کہانی

’’ لو آج میں تمہیں ایک کہانی سناتا ہوں یہ کہانی سو سال پرانی ہے ‘‘ ’’ سو سال ؟‘‘ ’’ ہاں تقریبا سوسال‘‘ ’’ نہیں بھئی ہم نہیں سنتے اتنی پرانی کہانی ، دنیا چاند پر پہنچ چکی ہے اور تم ہمیں سو سال پرانی کہانیاں سنا رہے ہو‘‘ ’’کچھ کہانیا ں کبھی پرانی نہیں ہوتیں ، وہ وقت کے ...

مزید پڑھیے

ٹوٹی ہوئی سڑک

وہ ایک چھوٹے سے گاؤں کی ایک چھوٹی سی سڑک تھی، جس کے ارد گرد درخت ہی درخت تھے درختو ں کے پیچھے سکول کی عمارت تھی، اس سڑک پرآپ اگر چلتے جائیں تو آگے ہسپتال آجائے گاجہاں ایک ڈاکٹرصاحب بیٹھتے تھے، جو سب کو ایک ہی طرح کی کڑوی ادویات دیتے تھے ان کے پاس کوئی دوا میٹھی نہیں تھی دوا کے ...

مزید پڑھیے

ریلوے ا سٹیشن

’’جناب یہ ریل گاڑی یہاں کیوں رکی ہے ؟ ‘‘ جب پانچ منٹ انتظار کے بعد گاڑی نہ چلی تو میں نے ریلوے اسٹیشن پہ اترتے ہی ایک ٹکٹ چیکر سے یہ سوال کیا تھا۔ ’’ او جناب پیچھے ایک جگہ مال گاڑی کا انجن خراب ہوگیا ہے اب اس گاڑی کا انجن اسے لے کے اس اسٹیشن پہ آئے گا۔‘‘ ’’کیا اس کے علاوہ اور ...

مزید پڑھیے

ٹکٹ چیکر

پینتیس سال ٹرین میں سفر کرکرکے وہ تھک گیا تھاوہ جب مڑ کر اپنی زندگی کے گزرے سالوں کی جانب دیکھتا تو اسے سوائے سفر کے کچھ دکھائی نہ دیتا حالانکہ ان گزرے سالوں میں اس کی زندگی میں کیا کیا نہ ہوا تھا۔ شادی ہوئی، پانچ بچے ہوئے پھر وہ وقت بھی آیا کہ بچوں کی شادیاں بھی ہوگئیں لیکن وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6014 سے 6203