قومی زبان

کبالہ

تو یوں ہے کہ وہ ایک فنکار کی باہوں میں مر گئی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب اس نے ایک نیا حکمنامہ حاصل کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ میں عدالت کی بجائے عدالتِ عالیہ کا لفظ استعمال کروں تو زیادہ بہتر ہو گا۔ اسے عدالتِ عالیہ سے بڑی امیدیں تھیں کہ وہ اس کی بات ضرور سنیں گے اور ایسا ...

مزید پڑھیے

آئینہ گر

ہستی اور نیستی کے سارے اسرار چھوٹے چھوٹے لمحوں کی کوکھ سے پھوٹتے ہیں لمحے جوکہ آتے رہتے ہیں مگرکم کم آتے ہیں کہ جن کے بطن سے حقیقی خوشیوں اور لذتوں کے سرچشموں کو جنم لینا ہوتا ہے۔ چاول پلیٹ میں ڈال دو؛سکرین سے نظریں ہٹائے بغیرانہوں نے کہا، وہ آگے بڑھ کر ان کے قریب کھڑی ہوگئی۔ ...

مزید پڑھیے

تصویر

آؤ،آؤیہاں بیٹھو اس صوفے پر سفید بالوں والے پینسٹھ سالہ آدمی نے اس کو نشست گاہ کی دروازے کے سامنے والی پچھلی دیوار کے ساتھ لگے صوفے پر بٹھادیا اورخود دوبارہ بغلی کمرے میں غائب ہوگیا۔ وہ خاموشی کے ساتھ سکڑ کر وہاں بیٹھ گئی جب گھونگریالے سفید بالوں والا وہ پینسٹھ سالہ مصور دوبارہ ...

مزید پڑھیے

وارن ہسٹنگز کی ٹوپی

ٹوپی کی قسمت ایسے بھی کھل سکتی ہے، محمد علی بھائی نے کبھی سوچا نہیں تھا۔ چھوٹی بڑی، ترچھی، دو پلی، فیروز آبا دی، حیدر آبادی، لکھنوی، ملتانی، مولانا ابوالکلام آزاد، محمد علی جوہر اسٹائل ٹوپیوں کی اتنی بڑی کوئی ’’ڈیل‘‘ بھی ہو سکتی ہے، محمد علی بھائی کے لئے ایسا سوچنا عرش پر ...

مزید پڑھیے

باپ اور بیٹا

(۱) باہر گہرا کہرا گر رہا تھا۔۔۔ کافی ٹھنڈی لہر تھی۔ میز پر رکھی چائے برف بن چکی تھی۔ کافی دیر کے بعد باپ کے لب تھرتھرائے تھے۔ ’’میرا ایک گھر ہے‘‘ اور جواب میں ایک شرارت بھری مسکراہٹ ابھری تھی۔ ’’اور میں ایک جسم ہوں۔۔۔ اپنے آپ سے صلح کر لو گے تب بھی ایک جنگ تو تمہارے اندر چلتی ...

مزید پڑھیے

حیران مت ہو سنگی مترا

باہر نکلتے ہی سنگی مترا کو ابھتوش کی بات یاد آنے لگی۔ سب کچھ نہ بدلے تب بھی کیا فرق پڑتا ہے؟ ہاں کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔ سنگی مترا جیسے اپنے آپ سے بد بدائی۔ دیکھا نا، بھول گئی کہ وہ کس لئے باہر نکلی تھی؟ کس کام سے؟ یہ غلط بات ہے۔ ذرا دیر میں سب بھول جاتی ہے۔ حافظہ کمزور ہونے لگا ہے۔ ...

مزید پڑھیے

لینڈ اسکیپ کے گھوڑے

(پیارے دوست اس۔ ال۔ حسین کے نام)سب سے بری خبر’’نہیں، اس گھوڑے کے بارے میں نہیں پوچھئے۔ برائے مہربانی۔‘‘ وہ زور زور سے ہنس رہا تھا۔ برائے مہربانی اور جیسا کہ میں نے کہا، آپ یقین کیجئے۔ وہ گھوڑا۔ با۔ بابا۔ ایک بے حد دلچسپ کہانی اور جیسا کہ میں ہوں۔ کیا آپ مجھ پر یقین کریں گے۔ ...

مزید پڑھیے

بوڑھے جاگ سکتے ہیں

اور وہ واقعہ ہو گیا جس کے بارے میں پون لال سوچتے تھے کہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔۔۔ لیکن کیوں نہیں ہونا چاہئے تھا، کا جواب فی الحال ان کے ان کے پاس نہیں تھا۔۔۔ آخر کیوں نہیں ہونا چاہئے تھا۔۔۔؟ وہ بہت دیر تک بلکہ کہنا چاہئے کہ دوسرے بہت سے سوالوں سے فارغ ہو کر جیسے بس اسی سوال تک لوٹ ...

مزید پڑھیے

اکیلے آدمی کی موت

عزیز الدین دیر تک اپنے کمرے میں ٹہلتے رہے۔ صبح سے موسم بھی خراب تھا۔ پرانی کھانسی کی شکایت بھی تھی۔ چلتے چلتے کھانسنے لگتے۔ سانس پھول جاتی تو کرسی پر کچھ دیر کے لئے سستانے بیٹھ جاتے۔ کوئی تو نہ تھا اس بڑے سے گھر میں ان کے سوا۔۔۔ اور جب سے اُن کی نظر اس عجیب سے اشتہار پر پڑی تھی، ...

مزید پڑھیے

فزکس، کیمسٹری، الجبرا

(اپنی بیٹی صحیفہ کے نام۔۔۔ کوئی نہ جانے۔۔۔ تم کو کیسے کیسے سوچا میں نے۔۔۔ کیسے کیسے جانا میں نے۔۔۔!) (1) ’’نہیں انجلی۔ یہاں نہیں۔ یہاں میں پڑھ رہا ہوں، نا۔ یہاں سے جاؤ۔۔۔‘‘ ’’لیکن کیوں پاپا۔‘‘ ’’بس۔ میں نے کہہ دیا نا۔ جاؤ۔ کبھی کبھی سن بھی لیا کرو۔۔۔‘‘ ’’پاپا۔ مجھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6003 سے 6203