قومی زبان

اپنی نگریا

شاہد نے قفل کھولا اور وہ دونوں آفس روم میں داخل ہوئے۔ ایک چھوٹی سی ایڈیٹر کی آفس، ایڈیٹر! فیروزی دھاری دارشرٹ اور سرمئی اُونی پتلون پہنے وہ کتنا سجیلا لگ رہا تھا۔ دفتر گھر پر ہی تھا۔ لیکن آفس روم میں جانے سے پہلے وہ ہمیشہ ڈریس کرلیا کرتا تھا۔ ’’کیا ہوا اگر دفتر گھر ہی پر ہے۔ میں ...

مزید پڑھیے

گھنیری بدلیوں میں

وہ بچے گود میں لیے بیٹھی تھی۔ اس کے چہرہ پر ایک ملکوتی حسن جھلک رہا تھا۔ وہ مخصوص حسن جو صرف مامتا ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ کچھ اداس سی بچے پر جھکی ہوئی، وہ میڈونا نظر آرہی تھی۔ مقدس مریم کی اس تصویر کی مانند جس میں وہ یسوع مسیح کو گود میں اٹھائے مامتا بھری نظروں سے انہیں دیکھ رہی ہوتی ...

مزید پڑھیے

کفارہ

ایک کاغذ بالکل سادہ اور سپید میرے آگے بڑھایا گیا۔ میری کور ہوتی ہوئی آنکھیں جو تاریک خلا میں بھٹک بھٹک کر تھک رہی تھیں اس مکمل سپیدی پر جم کر رہ گئیں۔ اچانک میری نظرکے آگے اس سپیدی پر کالا رنگ انڈیل دیا گیا۔ گہرا قطرہ بہ قطرہ گرتا اور پھیلتا ہوا۔ پھر یہ کالا رنگ خشک ہو کر سفید ...

مزید پڑھیے

آئینہ

میں ایک بڑے آئینہ کے سامنے کھڑی بالوں میں کنگھی کر رہی تھی۔ میری توجہ بال بنانے پر نہ تھی۔ یونہی کنگھی کیے جارہی تھی۔ دراصل میں اپنے چہرہ پر طرح طرح کے جذبات کے اظہار کا مطالعہ کر رہی تھی۔ اور کیا کہنے بڑا ہی مزہ آرہا تھا۔۔۔ بال بنانے میں ضرورت سے زیادہ دیر لگ رہی تھی۔ امی کہیں ...

مزید پڑھیے

انگڑائی

’’آپا، گلنال آپا! وہ دیکھو مجھ فنا۔۔۔‘‘ جاوید ننھے ننھے ہاتھوں سے میری ساری کھینچ رہاتھا۔ ’’ارے ہٹ بھی۔ جب دیکھو آپا آپا۔۔۔ دیکھ تو میری ساری کاناس کیے دے رہاہے۔ سفید ساری کل ہی تو پہنی تھی۔ اور یہ دھول میں اٹے ہوئے ہاتھ! مٹی سے کھیل رہا تھا کیا بدتمیز!‘‘ میں نے غصہ سے اس کے ...

مزید پڑھیے

امتل

’’امتل‘‘۔ ’’ہوں‘‘۔ ’’چلو اٹھو باہر چلتے ہیں‘‘۔ ’’باہر کہاں؟‘‘ امتل بیزاری سے پوچھتی ہے۔ ’’کہیں۔۔۔ کسی چھوٹے سے ریستوران میں چائے پئیں گے‘‘۔ امتل چارپائی پر اپنا بکھرا وجود سمیٹ لیتی ہے اور بیزاری سے جمائی لیتے ہوئے اپنے آپ کو تیار کرتی ہے۔ امتل بکھرے ہوئے وجود کی ...

مزید پڑھیے

پی ۔ بی۔ ایل 536

نیا شہر اجنبی لڑکی کی طرح اسے اپنی طرف کھینچتا تھا۔ اجنبی لڑکی اور نیا شہر وہ جادونگری تھی جس میں راستہ بھولنا اسے بھلا لگتا تھا۔ راستہ بھولے اسے بہت مدت ہورہی تھی۔ناک کی سیدھ چلتی ہوئی سڑکوں اور گلیوں میں چل چل کے وہ تنگ آگیا تھا۔ یہ بھی کیا مصیبت ہے کہ شہر کی تمام سڑکیں سیدھی ...

مزید پڑھیے

کمرے سے کمر ے تک

پہلے پہل جب اس نے ہوش سنبھالا تو کمرے کی چھت کو نہایت کہنہ، بوسیدہ اور دریدہ پایا۔ لکڑی کا پکھراور بالے کالے چیونٹے کھا چکے تھے۔ گاہے گاہے بھربھری مٹی چھت سے فرش پر ٹپکا کرتی تھی۔ اسی چھت کے نیچے اس کی ماں کے جہیز میں آئے ہوئے دھات کے دو بڑے صندوق سامنے والی دیوار کے ساتھ لکڑی کی ...

مزید پڑھیے

وجود

کیا میں زندہ ہوں ،وجود رکھتی ہوں، موجود ہوں؟ نہیں نہیں میں موجود نہیں ہوں، میں صرف ماضی، حال اور مستقبل کے ربط کے ساتھ تن تنہا موجود کیسے ہو سکتی ہوں، میں کھو چکی ہوں کہیں ،میں نے ماریہ پر نظر ڈالی وہ موجود تھی مگر میں نہیں تھی۔ میں نے آہستہ سے اس کو آواز دی !۔ماریہ ہوں!کہہ کر اس ...

مزید پڑھیے

آخری خواہش

پھانسی سے قبل اس سے اس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو اس نے ایک عجیب و غریب خواہش کا اظہار کر کے سب کو چونکا دیا۔میں گاؤں کی بڑ والی مسجد کے احاطے میں اسی منبر پہ کھڑا ہو کے تقریر کرنا چاہتا ہوں۔جس منبر پر کھڑے ہو کر مولوی عبد الکریم نے خطبہ دیا تھا،آخری خطبہ۔۔۔۔ سو پھانسی لگنے والے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6002 سے 6203